ایران امریکہ کے لیے ایک نیا یوکرین

“ایران امریکا کے لیے ایک نیا یوکرین بن رہا ہے ”
ترجمہ و تحریر: وجیہ احمد صدیقی
(يہ مضمون امریکی جریدے فارن پالیسی (Foreign Policy) میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی تجزیے کا خلاصہ ہے، جس کا اصل عنوان ہے:“ایران امریکا کے لیے ایک نیا یوکرین بن رہا ہے”)

امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ میں پھنس چکے ہیں جو اب ایک اعصاب شکن جنگ بن چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں فیصلہ کن جنگ نہیں لڑ رہے، بلکہ ایک دوسرے کو لمبے عرصے تک کمزور، تھکا اور معاشی طور پر کھوکھلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح کی جنگ کبھی بھی جلدی ختم نہیں ہوتی، بلکہ روز بروز اخراجات اور ذہنی دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔اس جنگ کا مرکز اب ایران کی توانائی کے وسائل اور توانائی ترسیل کی بنیادی تنصیبات ہیں—تیل کے اسٹیشن، گیس کے اسٹیشن، پائپ لائنز، اور گلف کے شپنگ راستے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چھوٹی چھوٹی فضائی اور سمندری کارروائیاں، ڈرون حملے، کر کے اور بمباری کے ذریعے ایران کی توانائی کی ترسیل متاثر کر رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور امریکی اور اس کے اتحادیوں کی معیشتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔
ایک ایسی جنگ جو امریکا کو یوکرین کے نمونے پر لا کر کھڑا کر سکتی ہے
مضمون کا بنیادی خیال یہ ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہ لائے کہ ایک واضح اور محدود مقصد مقرر کریں، تو ایران کے خلاف یہ جنگ امریکا کے لیے ایک ایسی طویل اور اعصاب شکن جنگ بن سکتی ہے جیسی روس کے لیے یوکرین کی جنگ ہے:جس میں ابھی تک کوئی واضح فتح نہیں،مسلسل حملے، ڈرون، میزائل اور چھوٹی چھوٹی لڑائیاں، جاری ہیںاور فریقین کے وسائل، فوجی اور اسلحہ کے ذخائر گھٹتے رہتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں امریکہ کو ایک ہی وقت میں دو طرفہ جنگوں کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: ایک یورپ میں روس–یوکرین کے درمیان، اور دوسری ایشیا–مشرقِ وسطی میں ایران کے خلاف۔ اس سے امریکی اسلحہ، فضائیہ، اور دفاعی وسائل کا بکھراؤ ہوگا، جو نوعیت اختیار کر سکتا ہے کہ امریکی بیک وقت میں دو بہت بڑی جنگوں کو “manage” کر رہے ہیں، جبکہ عام امریکی اسے بے مقصد، لاگت بھاری اور اخلاقی طور پر مشکوک تصور کرنے لگتے ہیں۔

امریکی عوام کا نقطہِ نظر

امریکی اخبارات، سوشل میڈیا اور رائے عامہ کے مطابق امریکی عوام اس جنگ کو عموماً اس طرح دیکھتے ہیں:
ایران ایک طاقتور اور خطرناک ملک ہے، لیکنامریکہ کی اس جنگ کا مقصد اب واضح نہیں۔
بہت سے امریکی اس بات سے متفق ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک کھلی جنگ میں کود گیا ہے، جس کا واضح انجام کسی معاہدے کی شکل میں نظر نہیں آرہا ہے۔
ایک گروپ اس جنگ کا یوکرین روس جنگ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر امریکہ ایک ہی وقت میں دو ایسی جنگوں میں الجھ گیا تو یہ اس کی فوجی طاقت اور معاشی طاقت دونوں کو تھکا سکتا ہے۔
ایک خاص طبقہ، خاص طور پر ایسے امریکی جو یوکرین کے حق میں ہیں، خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ امریکی حکومت ایران کی جنگ کے نتیجے میں یوکرین کے لیے اسلحہ، امداد اور اسلحہ کے کی امداد کو کم کرے گی، کیونکہ ایک ہی وقت میں دو ایسی جنگوں کو مسلسل جاری رکھنا ناممکن ہے۔

ایران کی حکمتِ عملی اور امریکی اعصاب پر دباؤ

ایران اس جنگ کو ایک اعصاب شکن تجربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جہاں وہ: ڈرون، میزائل اور علاقائی نیٹ ورک (جیسے حزب اللہ، یمن کی حوثی، اور دیگر اتحادی) کے ذریعے امریکی اور اتحادی فوجی اڈوں پر چھوٹے چھوٹے حملے کرتا ہے،
امریکی اسلحہ اور فضائیہ کو مسلسل الرٹ اور پریشان اورالجھائے رکھتا ہے،
اور اس طرح امریکی اور اس کے اتحادیوں کے اخراجات اور ذہنی اور نفسیاتی دباؤ (psychological stress) بڑھا دیتا ہے۔
اس طرح ایک ایسی جنگ چلتی ہے جہاں فیصلہ کن شکست یا فتح کا امکان کم ہے، لیکن اخراجات، اسلحہ کے ذخائر کا خالی ہونا لازمی ہے ، اور دوسری جانب سیاسی ردعمل کا دباؤ ہر دن بڑھتا جاتا ہے۔”
اس مضمون میں امریکہ کو ایک اعصاب شکن جنگ میں الجھتا ہوا بتایا گیا ہے جو امریکہ اور ایران کے لیے ایک بڑی سیاسی اور معاشی طور پر مہنگی ترین جنگ ہے۔ اس جنگ میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو ایک حد تک کمزور کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں امریکی اور اتحادی اپنے اسلحہ کے خزانے اور اپنی معاشی اور سیاسی طاقت کو بھی ضائع کر رہے ہیں۔
امریکی عوام کے لیے اس جنگ کا بڑا سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے؟
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ اگر امریکہ اسی طرح ایک اعصاب شکن جنگ کو جاری رکھتا ہے تو کیا اس سے ایران کو کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اپنی طاقت بھی کمزور پڑ جائے گی؟
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اس جنگ کا معاشی اثر امریکی اور اتحادی ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ کی معاشی اور سیاسی طاقت بھی کمزور ہو سکتی ہے۔
اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہ لائیں، تو ایک اعصاب شکن جنگ امریکا کے لیے ایک ایسی سیاسی، اور معاشی طور پر مہنگی ترین جنگ بن سکتی ہے، جو امریکی اور اس کے اتحادیوں کی معاشی قوت کو کمزور کر سکتے ہیں اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس جنگ کا معاشی اثر امریکی اور اتحادی ممالک کی معیشتوں پر پڑنا شروع ہو گیا ہے

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *