کرائے کی سیاست

 

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

ایک قصہ ہے کہ کسی قصبے میں ایک درخت کی لوگوں نے پوجا شروع کر دی۔ پھول، چادریں، چڑھاوے اور منتیں۔ کسی کی مراد پوری ہو جاتی، کسی کی نہیں ہوتی جس کی مراد نہیں پوری ہوتی تو وہ سمجھتا کہ چڑھاوے میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ ایک مولوی صاحب کو خوف آیا کہ یہ کھلا شرک ہے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں اللہ کے بتائے راستے پر نہیں چل رہے۔ انہوں نے کندھے پر کلہاڑی ڈالی اور شرک کو جڑ سے کاٹنے چل پڑے۔ راستے میں شیطان ملا۔ بولا میں تمہیں یہ نہیں کرنے دوں گا۔ مولوی صاحب نے اسے اٹھا کر پٹخ دیا۔ شیطان پھر سامنے آیا، پھر مار کھائی۔ تیسری بار جب لڑنے کی ہمت نہ رہی تو شیطان نے کاروباری پیشکش کر دی۔ کہنے لگا دیکھو یہ میرا دھندہ ہے، لوگ چڑھاوے چڑھاتے ہیں، اسی میں سے تمہیں دو فیصد حصہ دیتا ہوں، روزانہ ایک لاکھ روپے تمہارے تکیے کے نیچے فجر کے بعد مل جایا کریں گے، بس تم درخت کاٹنے کا ارادہ چھوڑ دو۔ مولوی صاحب کی معاشی حالت اس وقت پاکستان جیسی تھی، ایمان ڈگمگا گیا، سودا طے پا گیا۔ رقم آنے لگی۔ پھر ایک دن سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن، دو دن، تین دن انتظار کیا، پھر جوش ایمانی پھر جاگا اور کلہاڑی کندھے پر ڈال کر پھر درخت کاٹنے نکل پڑے۔ راستے میں پھر وہی شیطان ملا۔ اس بار مولوی صاحب نے شکوہ کیا کہ تم نے وعدہ خلافی کی۔ شیطان نے بدتمیزی سے کہا چل بھاگ یہاں سے ملا کہیں کا ۔ مولوی صاحب نے اسے پھر اٹھا کر پھینکنا چاہا لیکن اس بار پٹخنی مولوی صاحب کو نصیب ہوئی۔ شیطان نے گردن سے پکڑ کر کہا، اپنے کام سے کام رکھو۔ اس کے بعد سے مولوی صاحب نے شیطان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا اور شیطان نے ان کا پول کھولنا شروع کر دیا کہ پہلے تو مجھ سے پیسے لیتا تھا، اب درویش بنا پھرتا ہے۔

یہ کہانی پرانی ہے، لیکن کردار نئے ہیں، اور اسلام آباد کے ایوانوں میں بالکل تازہ نظر آتے ہیں۔

19 اور 20 جولائی کو اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام (ف) کی وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر پاک فوج کو براہ راست نشانے پر رکھا۔ ان کی تقریر کا لب و لہجہ ایسا تھا جیسے وہ گھر کے محافظوں سے نہیں کسی بیرونی دشمن سے خطاب کر رہے ہوں۔ مستند ذرائع کے مطابق انہوں نے چند روز قبل قصور کے جلسے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کو تنخواہ سے جوڑنے والا بیان دیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل آیا تھا۔ وزراء نے کہا کہ شہید کی قربانی کو تنخواہ سے تولنا اخلاقی بے حسی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد وکلا کنونشن میں جب توقع تھی کہ مولانا اپنے الفاظ پر نظرثانی کریں گے، تو انہوں نے معذرت سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ان کا اختلاف ریاستی اداروں سے نہیں بلکہ پالیسی سازوں سے ہے اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ انہوں نے اسے اپنے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا۔ اس سے قبل وفاقی وزراء نے ان کے بیان پر شدید تنقید کی تھی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ فوجیوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا ناانصافی ہے اور شہداء کے لواحقین کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ اس بیان نے پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور شہداء کی قربانیوں کو کم تر کیا ہے۔

یہیں پر سوال اٹھتا ہے کہ اگر تنقید پالیسی پر تھی تو پھر شہیدوں کی تعداد پر سیاست کیوں؟ اسی کنونشن میں مولانا نے 1999 کی کارگل جنگ میں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی تعداد کو 357 سے 4000 تک بتاتے ہوئے کہا کہ فوج نے اصل تعداد چھپائی ہے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو ستائیس سال بعد اچانک یاد آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا تو فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف تھے۔ اسی پرویز مشرف کے لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) کو مولانا نے متحدہ مجلس عمل کے اندر شدید اندرونی مخالفت کے باوجود بھرپور سپورٹ دی۔ اسی مشرف کی مدد سے وہ قائد حزب اختلاف بنے ،محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے، منسٹر کالونی کے بنگلوں کی چابیاں لیں، اور اقتدار کی راہداریوں میں اپنے مدرسوں کے لیے مراعات سمیٹتے رہے۔ اس وقت شہداء کا دکھ کہاں تھا؟

حقیقت یہ ہے کہ مولانا کی سیاست کا محور ہمیشہ تکیے کے نیچے والا ایک لاکھ رہا ہے۔ کبھی وہ ایک لاکھ ڈیزل کے پرمٹ کی صورت میں تھا، کبھی کشمیر کمیٹی کی قآصورت میں، کبھی وزارتوں کی صورت میں، اور کبھی اسلام آباد کی منسٹر کالونی کے بنگلے کی چابی کی صورت میں۔ جب تکیے کے نیچے سے رقم ملتی رہے تو درخت بھی مقدس لگتا ہے اور اس کا چڑھاوا بھی جائز۔ جب سلسلہ بند ہو جائے تو وہی درخت شرک کا نشان بن جاتا ہے اور اسے کاٹنے کے لیے کلہاڑی کندھے پر آ جاتی ہے۔

مولانا کی تاریخ اسی تضاد سے بھری پڑی ہے۔ ان کے والد مفتی محمود نے 1965 میں محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کا ساتھ دے کر اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ مولانا نے اس کے برعکس محترمہ بے نظیر بھٹو کا ساتھ دے کر اپنے والد کے فتوے سے انحراف کیا، اور پھر جب پرویز مشرف کا دور آیا تو اسی بے نظیر بھٹو کا ساتھ چھوڑ کر مشرف کے دست و بازو بن گئے۔ یہ اصولوں کی سیاست نہیں، مواقع کی سیاست ہے۔

آج جب وہ جمہوریت کے نام پر اسٹیبلشمنٹ کے پیڑ کو کاٹنے کا نعرہ لگاتے ہیں تو قوم جانتی ہے کہ ان کے ہاتھ میں کلہاڑی نہیں، بلکہ کرائے کی رسید ہے۔ وہ درخت کاٹنے کی طاقت نہیں رکھتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس درخت کی چھاؤں میں ہی ان کی سیاست پروان چڑھی ہے۔

کارگل کے شہداء کے حوالے سے اعداد و شمار پر بات کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شہادت کوئی سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہوتی۔ ایک سپاہی جو منفی 30 ڈگری پر اپنی چوکی کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دیتا ہے، اس کی قیمت 357 اور 4000 کے درمیان قید نہیں کی جا سکتی۔ وزیر دفاع نے بجا طور پر کہا تھا کہ جان کا نذرانہ تنخواہ کے لیے نہیں دیا جاتا، اس کے پیچھے نظریہ، عقیدہ اور وطن سے محبت ہوتی ہے۔ جب آپ شہید کو تنخواہ دار ملازم کہتے ہیں تو آپ صرف فوج کی نہیں، اس ماں کی توہین کرتے ہیں جس نے اپنے بیٹے کو سرحد پر بھیجا تھا۔

اصل دکھ منسٹر کالونی کے بنگلے کی چابی کا ہے۔ جب تک چابی تکیے کے نیچے ملتی رہی، سب کچھ ٹھیک تھا۔ جب چابی ہاتھ سے نکلی تو جوش ایمانی جاگ اٹھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں شیطان اور مولوی کی کہانی مولانا کی سیاست سے ملتی جلتی ہے۔

مولانا سے گزارش ہے کہ کلہاڑی لے کر نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ نریندر مودی کی آخری امید نہ بنیں۔ بھارتی میڈیا آپ کے اسی بیان کو اچھال کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ آپ جس فوج کی تعداد پر سوال اٹھا رہے ہیں، اسی فوج کی وجہ سے آپ اسلام آباد میں کھڑے ہو کر تقریر کر رہے ہیں۔

آخری بات۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا بکنے والے نہیں ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ مولانا کبھی بکے نہیں ہیں۔ کیونکہ بکنے والی چیز ایک بار بک جاتی ہے، اس کی قیمت طے ہو جاتی ہے۔ کرائے پر چلنے والی چیز کبھی بکتی نہیں، وہ ہر نئے کرایہ دار کے ساتھ چل پڑتی ہے۔ جو زیادہ کرایہ دے، گاڑی اسی کی۔اس بار یہ معلوم کیا جائے کہ کرایہ کس نے دیا ہے؟

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *