پاکستان کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

تحریر : وجیہ احمد صدیقی

اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو ازسرِنو دیکھنے کی ضرورت ہے اور ملک کو چھوٹے انتظامی یونٹوں یا نئے صوبوں کی طرف لے جانا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام اپنے مقاصد پورا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اگر بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں بھی وہی مسائل برقرار رہیں گے۔
محسن نقوی نے اسلام آباد میں پاکستان اقتصادی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانی(گورننس)کو مؤثر بنانے کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹوں یا صوبوں کا معاملہ تمام سیاسی فریقوں کی مشاورت سے طے ہونا چاہیے اور بالآخر اسے عوام کے سامنے بھی رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے انتظامی ڈھانچے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
پاکستان میں اس بحث کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ملک کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، سرکاری اداروں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں انتظامی اصلاحات، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اس تجویز پر بعض حلقوں کی جانب سے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے سے لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل شفاف اور متفقہ نہ ہوا تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ دراصل محسن نقوی کا تجزیہ تو درست ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس ہونے چاہیے لیکن پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں جوڑ توڑ کے ذریعے قابض ہیں صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں تو دلچسپی رکھتی ہیں مگر بلدیاتی نظام کو چلانے میں نہ ان کی دلچسپی ہے نہ ہی وہ اس کو چلانا چاہتی ہیں سرکاری مشینری بشمول وزارت داخلہ کرپشن کا شکار ہے اور ان کو مراعات کا کینسر لگا ہوا ہے۔ محسن نقوی پہلے اپنی وزارت کو تو کرپشن اور مراعات کے کینسر سے پاک کریں تو ہم یہ سمجھیں گے کہ ان کی تجویز میں دم ہے۔
اس منصوبے پر آئینی اور قانونی پہلو بھی اہم ہیں۔ صوبوں کی تشکیل یا حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمانی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ وسائل کی تقسیم، مالی اختیارات، زمین، پانی اور انتظامی دائرہ کار جیسے معاملات بھی واضح کرنا ہوں گے اور الیکشن کا نظام بھی تبدیل کرنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی کامیاب ہونے والا شخص اپنے حلقے کے رجسٹرڈ ووٹوں کا کم از کم 51 فیصد حاصل کرے تو اسے کامیاب قرار دیا جائے گا ۔ لیکن اج کل اس کے برعکس ہوتا ہے کہ کئی امیدواروں میں زیادہ ووٹ لینے والا شخص کامیاب قرار دیا جاتا ہے حالانکہ وہ اکثریت کی نمائندگی نہیں رکھتا اور حقیقت میں اس حلقے کی اکثریت اس کی مخالف ہوتی ہے ۔ لیکن وہ اقلیت کے ووٹ لے کر اکثریت پر مسلط ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی حلقے کا جائزہ لے لیا جائے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس حلقے میں ووٹنگ کی شرح 50 فیصد سے بھی کم رہی ہے ۔ یعنی مجموعی طور پر پاکستان میں 40 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے اور 60 فیصد لوگوں نے ان انتخابات کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے لیے انہوں نے ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا ۔ لہذا منطقی طور پر یہ حکومت اکثریت کی نمائندہ حکومت نہیں ہے ۔حالیہ انتخابات میں بھی بہت کم حلقے ایسے تھے جہاں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ پڑے ہوں۔ دوسری بات یہ کہ کل پڑنے والے ووٹوں میں سے کوئی شخص اگر 25 فیصد ووٹ بھی حاصل کر لیتا ہے تو وہ اس علاقے کا منتخب نمائندہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ 50 فیصد نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا بقیہ 50 فیصد میں سے 25 فیصد نے اسے ووٹ دیا اگر اس کو سمجھا جائے تو کل 12 یا ساڑھے 12 فیصد نے اس کو ووٹ دیا اور وہ اپنے اپ کو عوام کا منتخب نمائندہ کہتا ہے ۔جبکہ ایسا حقیقت میں نہیں ہے اگر واقعی عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیا جائے تو فیصلے یہ نہیں ہوں گے جو ہمارے سامنے آتے ہیں وہ فیصلے تبدیل ہو جائیں گے۔ لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ ان انتخابات کے فیصلے سب جانتے ہیں کہ کہاں ہوتے ہیں؟ سب سیاسی جماعتیں اسی در کے اوپر سجدہ ریز ہوتی ہیں اور اور اسی سے شکوہ اور شکایتیں کرتی ہیں ۔اگر ملک میں حقیقی ترقی اور حقیقی نمائندگی کے کلچر کو فروغ دینا ہے تو انتخابی نظام کو بھی تبدیل کرنا ہوگا ۔
پاکستان ایک ایسے انتظامی بحران سے گزر رہا ہے جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور عوامی مسائل کے حل کی رفتار بہت سست ہو چکی ہے۔ ملک کی آبادی 2025 میں تقریباً پچیس کروڑ باون لاکھ تک پہنچ گئی، جبکہ پاکستان کا ٹیکس نظام اب بھی محدود ہے اور حکومت کو اپنے بڑے اخراجات چلانے کے لیے مسلسل مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔
ایسے حالات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی یہ بات اہم ہو جاتی ہے کہ پاکستان کو چھوٹے انتظامی یونٹوں یا نئے صوبوں کی طرف جانا چاہیے، تاکہ حکومت عوام کے قریب آئے اور فیصلہ سازی بہتر ہو۔
محسن نقوی نے اسلام آباد میں پاکستان اقتصادی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جو نظام ہم چلا رہے ہیں وہ ناکام ہو چکا ہے اور ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہی نظام چلتا رہا تو “ہم دس سال بعد بھی یہی مسائل زیر بحث لا رہے ہوں گے۔”
ان کا مؤقف یہ تھا کہ پاکستان کو نئے انتظامی یونٹوں کی طرف بڑھنا ہوگا اور اس مسئلے پر تمام سیاسی فریقوں کو ایک جگہ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “نئے انتظامی یونٹوں یا صوبوں کا معاملہ آخرکار عوام کے پاس لے جانا چاہیے۔”
یہ جملے صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے نظام پر سوال ہیں جو دہائیوں سے اصلاحات کا منتظر ہے۔
پاکستان میں مسئلہ صرف انتظامی نہیں، مالی بھی ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ٹیکس کی شرحِ نسبت سال 2025 میں اب بھی بہت کم سطح پر ہے، اگرچہ اس میں بہتری آئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق مالی سال 2025 میں یہ شرح 12.3 فیصد تک پہنچی، مگر پاکستان اب بھی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کمزور پوزیشن میں ہے۔
پاکستان کی معیشت پر قرض کا دباؤ بھی بڑھا ہوا ہے، اور حکومت بار بار بجٹ خسارے کے ساتھ منصوبہ بندی کرتی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی نئی تقسیم کو محض نقشہ بدلنے کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش سمجھا جانا چاہیے۔

چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عوامی مسائل کو دور بیٹھے انتظامیہ کے بجائے مقامی سطح پر دیکھا جائے گا۔ صحت، تعلیم، پانی، صفائی، سڑکوں اور زمین جیسے معاملات میں مقامی حکومت زیادہ تیزی سے فیصلہ کر سکے گی۔ اس سے عوام کو طویل انتظار سے نجات ملے گی اور سرکاری مشینری زیادہ فعال ہو سکتی ہے۔
دوسرا بڑا فائدہ جوابدہی ہے۔ جب انتظامی مرکز عوام کے قریب ہوگا تو عوام کو یہ معلوم ہوگا کہ ان کے مسائل کا ذمہ دار کون ہے۔ بڑے صوبوں میں اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اختیار اوپر ہوتا ہے مگر جوابدہی نچلی سطح پر نہیں نہیں آتی۔ نئے یونٹ اس فاصلے کو کم کر سکتے ہیں۔
تیسرا فائدہ بہتر نمائندگی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں زبانیں، علاقے، ثقافتیں اور معاشی حالات بہت مختلف ہیں، وہاں ایک ہی بڑے انتظامی سانچے میں سب کو چلانا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ چھوٹے صوبے یا نئے یونٹ علاقائی شناخت کو بہتر انداز میں جگہ دے سکتے ہیں اور فیصلہ سازی میں زیادہ لوگوں کی آواز شامل کر سکتے ہیں۔
اس تجویز کے ساتھ کچھ سنجیدہ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے، نئے صوبوں کی حد بندی سے نسلی، لسانی یا علاقائی تنازعے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اگر کسی علاقے کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے یا اس کی شناخت کمزور کی جا رہی ہے، تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتا ہے۔
دوسرا خطرہ سیاسی استعمال ہے۔ پاکستان میں اکثر انتظامی فیصلے سیاسی فائدے یا نقصان کے زاویے سے دیکھے جاتے ہیں۔ اگر صوبے بنانے کا عمل غیر شفاف ہو تو اس پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ اسے مخصوص جماعت یا طاقت کے مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے محسن نقوی کا یہ کہنا اہم ہے کہ اس معاملے پر تمام سیاسی فریقوں کو ایک جگہ بیٹھنا چاہیے۔
تیسرا مسئلہ مالی ہے۔ نئے صوبے بنانے کے لیے دفاتر، افسران، پولیس، عدالتیں، سڑکیں، بنیادی ڈھانچہ اور کئی نئی انتظامی ضرورتیں درکار ہوں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ابتدا میں اخراجات بڑھیں گے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ٹیکس وصولی محدود ہو اور معیشت مسلسل دباؤ میں ہو، یہ ایک بڑا سوال بن جاتا ہے کہ یہ بوجھ کیسے اٹھایا جائے گا۔
آئینی اور قانونی پہلو
پاکستان کے آئین میں صوبوں یا حدود کی تبدیلی کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اور بعض حالات میں صوبائی رضامندی بھی اہم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر واقعی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے ہیں تو اسے آئینی، سیاسی اور قانونی طریقے سے آگے بڑھانا ہوگا۔
اس کے علاوہ وسائل کی تقسیم، ٹیکس کے اختیارات، زمین کے مسائل، پانی کی تقسیم اور سرکاری جائیدادوں کی ملکیت جیسے معاملات بھی واضح کرنا ہوں گے۔ اگر یہ چیزیں پہلے طے نہ کی جائیں تو بعد میں نئے تنازعات پیدا ہوں گے اور عدالتی مقدمات لمبے چل سکتے ہیں۔

محسن نقوی کا بیان محض انتظامی اصلاح کی بات نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی سوال کو بھی چھیڑتا ہے: کیا پاکستان کا موجودہ وفاقی ڈھانچہ اب بھی عوامی ضروریات پوری کر سکتا ہے؟ ان کا مؤقف ہے کہ نہیں، اور اسی لیے وہ بار بار نئے انتظامی یونٹوں کی بات کر رہے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ انہوں نے کسی ایک جماعت پر الزام نہیں لگایا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے کی بات کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ تجویز آگے بڑھے تو اس کا راستہ صرف مکالمے، اعتماد اور شفافیت سے ہی نکل سکتا ہے۔

اگر حکومت واقعی اس سمت میں جانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ایک غیر جانبدار کمیشن بنانا ہوگا جو یہ دیکھے کہ کون سے علاقے انتظامی طور پر الگ یونٹ بننے کے قابل ہیں۔ اس کمیشن کو آبادی، وسائل، معیشت، جغرافیہ اور عوامی ضروریات سب کا جائزہ لینا چاہیے۔
اس کے بعد چند علاقوں میں آزمائشی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ یعنی پورے ملک میں ایک ساتھ تبدیلی نہ کی جائے، بلکہ چند علاقوں میں تجربہ کیا جائے اور نتائج دیکھے جائیں۔ اس طرح خطرہ بھی کم ہوگا اور لوگوں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
ساتھ ہی ساتھ مالی منصوبہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ نئے یونٹوں کے لیے ایک عبوری فنڈ بنایا جائے، اخراجات کی شفاف رپورٹنگ ہو، اور شہریوں کو بتایا جائے کہ یہ عمل ان کے لیے کیا فائدہ لائے گا۔ اگر عوام کو فائدہ نظر آئے گا تو مزاحمت کم ہوگی۔

محسن نقوی کی تجویز کو محض ایک سیاسی نعرہ سمجھ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی پچیس کروڑ سے زائد آبادی، کمزور ٹیکس نظام، اور سست انتظامی ڈھانچہ اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ بڑے اصلاحی فیصلوں کی ضرورت ہے۔
نئے صوبے یا انتظامی یونٹ ہر مسئلے کا فوری حل نہیں، لیکن یہ ایک ایسی سمت ضرور ہو سکتی ہے جو حکمرانی کو بہتر، جوابدہی کو مضبوط، اور عوام کو ریاست کے قریب لے آئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی قیادت اتنی جرأت رکھتی ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے بات کرے اور اسے قومی مفاد کے دائرے میں آگے بڑھائے

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *