بھارتی وزیر خارجہ کی غیر اخلاقی اور غیر سفارتی زبان
تحریر: وجیہ احمد صدیقی
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 25 مارچ 2026 کو بھارت میں آل پارٹیز میٹنگ میں پاکستان کو “دلال قوم” قرار دے کر ایک بار پھر اپنی غیر اخلاقی اور غیر سفارتی زبان کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران-امریکہ تنازعے میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہم دلال قوم نہیں بن سکتے جیسے پاکستان ہے”۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے بلکہ بھارت کی اپنی دوغلی پالیسی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ جبکہ عالمی میڈیا پاکستان کو مثالی ثالث اور معتبر پل قرار دے رہا ہے، بھارت خاموش تماشائی بن کر بیٹھا ہے اور دوسری طرف جاسوسی کے نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ کیا ثالثی دلالی ہے یا امن کی سفارتکاری؟ اور اگر دلالی ہے تو بھارت کی روس-یوکرین ثالثی کی پیشکش، اسرائیل کے ساتھ قریبی روابط اور را-موساد کا خفیہ تعاون کیا ہے؟
دنیا اس وقت توانائی کے ذرائع کی کمی کے بحران میں مبتلا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران کی امریکہ و اسرائیل کے ساتھ جنگ کو ختم ہونا چاہیے، اور دنیا کے لیے تیل کے ذرائع کے راستے کھلنے چاہیے ایس ایسے میں کوئی ملک اگر امن کے قیام کے لیے ثالثی کی کوششیں کرتا ہے اس کو گالی دینے والے ملک کے بارے میں دنیا کی کیا رائے ہونی چاہیے؟ اگرچہ بھارت خود سب سے زیادہ تیل اور گیس کے بحران میں مبتلا ہے اپنی ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کو وہ کھانا تو مہیا نہیں کر سکتا اور دوسری جانب کوئی ملک اگر توانائی کے اس بحران کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرتا ہے تو اسے یہ گالی دیتا ہے۔
پاکستان کی حالیہ ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
مارچ 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پاکستان نے فوری طور پر امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی میزبانی کرنے کو تیار ہے۔ الجزیرہ نے لکھا کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر ثالثی کے لیے کوشاں ہیں اور پاکستان نے میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ رویٹرز نے پاکستان کو غیر معمولی اعتبار والا ثالث قرار دیا کیونکہ وہ دونوں فریقوں سے قریبی روابط رکھتا ہے اور غیر جانبدار کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے سرخی جمائی کہ پاکستان ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے ضمن میں قدم اٹھا رہا ہے۔ جبکہ بھارت سائیڈ لائن سے دیکھ رہا ہے۔ دی عرب نیوز نے پاکستان کو مثالی ثالث کہا جبکہ ٹی آر ٹی ورلڈ نے اسے مرکزی ثالث قرار دیا جو امریکہ-اسرائیل کی ایران جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ این بی سی نیوز اور آئرش ٹائمز نے بھی پاکستان کی پس پردہ سفارتکاری کو سراہا ہے۔ یہ تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا پاکستان کو تنازعات حل کرنے والا فعال ملک دیکھ رہی ہے، نہ کہ بھارت کی طرح دلال کہہ رہی ہے ۔ یہ جملہ بھارت کے حسد اور جلن کو خوب اچھی طرح ظاہر کر رہا ہے۔پاکستان کے لیے ثالثی کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی عالمی تنازعات میں اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ سب سے مشہور مثال 1971 کی ہے جب پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ رابطے قائم کروائے۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی آرکائیوز کے مطابق جولائی 1971 میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان کے راستے بیجنگ گئے۔ صدر یحییٰ خان نے ذاتی طور پر یہ سلسلہ قائم کیا جو بعد میں صدر نکسن کے چین دورے (1972) کی بنیاد بنا۔ یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی جس نے عالمی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔ دی ہندو نے حالیہ تنازعے میں اسی مثال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ کا پاکستان کو ثالث کے طور پر استعمال نکسن کی چین ثالثی کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے علاوہ 1981 میں امریکہ-ایران تنازع، 2004 میں امریکہ-طالبان مذاکرات اور کشمیر میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی ثالثی کی پیشکش—پاکستان ہمیشہ امن کا پل بنتا رہا ہے۔ یہ دلالی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی سفارتکاری ہے جو علاقائی استحکام چاہتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کی یہ کوششیں دلالی ہیں تو بھارت کی پالیسی کیا ہے؟ نریندر مودی نے متعدد بار روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔ 2024 میں یوکرین کے دورے کے دوران مودی نے دوست کی حیثیت سے امن کی کوشش کی۔ پوٹن نے کہا کہ وہ مودی جیسے دوستوں پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور بھارت کو ثالث کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اے پی نیوز، یورونیوز اور جاپان ٹائمز نے اسے بھارت کی ثالثی کا کردار قرار دیا۔ اگر پاکستان کی ثالثی دلالی ہے تو بھارت کی یہ پیشکش کیا کہلائے گی؟ کیا یہ بھی دلال قوم والی بات نہیں؟ بلکہ بھارت نے خود کو وشوگرو یعنی عالمی رہنما قرار دے کر ثالثی کی پیشکش کی، مگر جب پاکستان نے ایران تنازعے میں قدم اٹھایا تو وہی بھارت پاکستان پر دلال کا لیبل لگا رہا ہے۔ یہ واضح دوغلا پن ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ سنگین الزام بھارت کے جاسوسی نیٹ ورک پر ہے۔ پاکستانی اور ایرانی ذرائع کے مطابق را اور موساد کا 25 سالہ گٹھ جوڑ ہے جو ایران اور افغانستان میں فعال ہے۔ دی نیشن نے لکھا کہ را-موساد گٹھ جوڑ: ایران کے خلاف بھارت کی خاموش جنگ۔ ایران میں بھارتی انٹیلی جنس نیٹ ورک موساد کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے را کی سرگرمیاں طویل عرصے سے جاری ہیں۔ ایرانی میڈیا اور حکام نے متعدد بار انڈین جاسوسوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جو اسرائیل کے لیے کام کر رہے تھے۔ یہ الزامات بھارت مسترد کرتا ہے مگر حقائق سے انکار ممکن نہیں۔ اگر ثالثی دلالی ہے تو ایران میں جاسوسی کے اڈے قائم کرنا کیا ہے؟ بھارت ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ جیسے تعلقات رکھتا ہے مگر دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون بڑھا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی کی آزادی نہیں، بلکہ موقع پرستی ہے۔اس موقع پرستی کی تازہ ترین مثال نریندر مودی کا اسرائیل دورہ ہے۔ فروری 2026 میں مودی 25-26 فروری کو اسرائیل گئے جہاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ صرف 48 گھنٹے بعد، 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ بلومبرگ نے لکھا کہ مودی اسرائیل دورے پر اپنی اپوزیشن کی تنقید کا شکار ہوئے، ایران پر حملوں سے چند روز پہلےمودی کا اسرائیل کا دورہ بہت سے سوال اٹھا رہا ہے۔
بھارتی اپوزیشن نے اس دورے کو بری تصویر کشی اور خاموش منظوری کہا۔ فرنٹ لائن (دی ہندو) نے نوٹ کیا کہ ٹائمنگ حیران کن تھی… اس سے بھارت کی دنیا کے سامنے بڑی بری تصویریں بنی ہے۔ اسرائیلی سفارتکار ریون آزار نے بعد میں کہا کہ آپریشنل موقع مودی کے جانے کے بعد آیا۔ کیا یہ محض اتفاق تھا؟
اب جبکہ پاکستان اس جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے تو بھارت کو تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟
کیا بھارت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے یا ایران کے؟ حقائق بتاتے ہیں کہ بھارت کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ بلکہ وہ کرائے کا جاسوس ہے۔ را-موساد تعاون کی وجہ سے ایران میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس اسرائیلی مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔ برصغیر کے لوگ جانتے ہیں کہ بنیا ہر کام پیسے کے لیے کرتا ہے بھارت نے پیسے لے کر ایران کی جاسوسی اسرائیل کے لیے کی ہے۔ثالثی بھارت کے لیے ایک عذاب ہے اس لیے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے جو تنازعات ہیں اگر ان میں کسی دوسرے ملک نے ثالثی کی تو نقصان بھارت کا ہی ہوگا اس لیے بھارت کو ثالثی سے چڑھ ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ بھارت کا موقف دو طرفہ بات چیت پر مبنی ہے۔ وہ شملہ معاہدہ 1972 کا حوالہ دے کر کشمیر میں تیسرے فریق کی ثالثی مسترد کرتا ہے اور خود کو اندرونی معاملہ کہتا ہے۔ مگر جب بات اپنی دلچسپی کی ہو تو روس-یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کر دیتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اسے روس سے تیل خریدنا ہوتا ہے اور اس تیل کو خرید کر دنیا کے بازاروں میں بیچنا ہوتا ہے یعنی بھارت خود روس کے تیل کا دلال بنا ہوا تھا ان کا خام تیل لیتا اسے ریفائن کرتا اور دنیا کی مارکیٹ میں بیچتا ،لیکن اب امریکہ اس بات پر ناراض ہو رہا ہے تو بھارت چپ چاپ بیٹھا ہوا ہے۔لیکن اندر ہی اندر کڑھ رہا ہے۔پاکستان کے لیے جے شنکر کا دلال والا بیان اسی دوغلے پن کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی میڈیا پاکستان کو امن قائم کرنے والا دیکھ رہا ہے جبکہ بھارت دشمنی اور حسد کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو نے خود اعتراف کیا کہ کانگریس نے کہا: خود ساختہ وشوگرو کی سفارتی ناکامیوں نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو دلال ملک بنا دیا۔ یہ بھارت کی اندرونی تنقید ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی پالیسی ناکام ہو رہی ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی، اس کے برعکس، اصولوں پر مبنی ہے۔ وہ نہ صرف ماضی میں امریکہ-چین رابطے میں کامیاب رہا بلکہ حالیہ ایران تنازعے میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ثالثی علاقائی امن، معاشی استحکام اور عالمی تصویر کو بہتر بناتی ہے۔ ایک طرف اگر امریکہ نے کچھ شرائط پیش کی ہیں تو دوسری جانب ایران نے بھی اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی کوششوں کا کچھ نتیجہ نکلا ہے دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پیش کر چکے ہیں۔ اس کی روشنی میں بات آگے بڑھ سکتی ہے یا نہیں؟ یہ تو بعد میں طے ہو گا۔ لیکن کسی حد تک بات آگے بڑھی ہے کہ دونوں فریقوں نے اپنی اپنی شرائط پیش کر دی ہیں یہ ایک کامیابی کی علامت ہے۔
بھارت کی طرف سے اس کامیابی کا اعتراف کرنے کے بجائے اس معاملے میں کوششوں کو سراہنے کے بجائے ان کے خلاف غیر اخلاقی زبان استعمال کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ناکام ہے کیونکہ حقائق عالمی میڈیا میں موجود ہیں۔ اگر بھارت واقعی وشوگرو بننا چاہتا ہے تو اسے بھی ثالثی کی تعریف کرنی چاہیے، نہ کہ اسے دلالی کہہ کر مسترد کرنا چاہیے۔ بھارت کے میڈیا میں اور بھارت کے کرکٹ کے کھلاڑیوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے ایک اپیل جاری کی ہے ۔ جو کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ کیونکہ پاکستان میں عمران خان کے خلاف جو بھی کارروائی ہو رہی ہے وہ عدالتی ہے ۔کسی فوجی عدالت میں عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چل رہاہے۔ جو اس معاملے کے لیے پاکستان کی فوج کو گالی دی جائے۔ پاکستان کی عام عدالتوں میں عمران خان کے خلاف مقدمات ہیں اور عمران خان کرپشن کے مقدمات میں ملوث ہیں ۔بھارت کو عمران خان کی تشویش کیوں ہے ؟ اس سوال کا جواب ہمیں واضح طور پر دونوں کی سرگرمیوں سے نظر آتا ہے۔ بھارت اور پی ٹی آئی دونوں کی سرگرمیاں ایک جیسی ہیں۔
عمران خان کی پارٹی اس وقت پاکستان کی امن کی کوششوں کے خلاف ہے۔ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے مشرق وسطی میں امن چاہتا ہے۔ تاکہ دنیا بھر کو تیل اور ایندھن کی سپلائی مسلسل جاری رہے۔ لیکن پی ٹی آئی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ پی ٹی آئی بلوچستان کے اندر بی ایل اے کےدہشت گردوں کی حمایت کرتی ہے۔ خیبر پختون خواہ میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہے ۔تو کیا یہ سب کچھ پاکستان کے حق میں ہے؟ ہم نے ایک عجیب و غریب بات نوٹ کی ہے کہ ایران میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سے حیرت انگیز طور پر بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آگئی ہے۔ بلکہ کسی حد تک یہ واقعات ختم ہو گئے ہیں۔ البتہ افغانستان سے ابھی تک دہشت گردی کی سرپرستی جاری ہے۔ طالبان کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا لیکن بھارت پاکستان پر یہ الزام لگا رہا ہے کہ پاکستان نے وہاں پر ہسپتالوں پر حملہ کیاہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ قرار دیتا ہے اور خود اقوام متحدہ سے مستند یا سند یافتہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات پیدا کرتا ہے اور طالبان کے وزراء بھارت کا دورہ کرتے ہیں اور بھارت ان کی کوششوں کو سراہتا ہے اور پاکستان میں انہی دہشت گردوں کی کوششوں کو تحریک انصاف سراہتی ہے ۔معلوم ہوتا ہے کہ بھارت اور تحریک انصاف کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ صرف یہی نہیں جب برطانیہ میں عمران خان کے بیٹے عمران خان کی رہائی کے لیے پریس کانفرنس کرتے ہیں تو اس میں کالعدم بی ایل اے کے رہنما بھی شریک ہوتے ہیں۔ گویا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پیچھے بھی بھارت اور اس کی انٹیلیجنس ایجنسی را کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔اب بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کو جو گالی دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں ناکام ہوئے ہیں تو اس پر یہ ان کی جھنجھلاہٹ کا اظہار ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ثالثی سفارتکاری کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ پاکستان نے اسے ہمیشہ مثبت طور پر نبھایا ہے—1971 سے لے کر 2026 تک۔ بھارت کی یہ عادت ہے کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑاتا ہے ان کے معاملے میں اپنا لچ تلتا ہے، موقع پرستی اور دوغلی پالیسی اس کا شیوہ ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا بیان نہ صرف پاکستان کے خلاف ہے۔ بلکہ بھارت کی اپنی سفارتی ناکامی کو چھپانے کی کوشش بھی ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان امن کا پیغامبر ہے جبکہ بھارت تنازعات کا تماشائی اور بعض اوقات حصہ دار بھی ہے۔ اگر بھارت واقعی امن چاہتا ہے تو پاکستان کی ثالثی کو سراہے، نہ کہ دلال کا لیبل لگائے۔ یہ نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ علاقائی استحکام کی ضرورت بھی۔ پاکستان کی یہ کوششیں جاری رہیں گی کیونکہ اس کی خارجہ پالیسی امن اور تعاون پر مبنی ہے، نہ کہ بھارت کی طرح جاسوسی اور موقع پرستی پر بھارت کی اپنی 10 سے زیادہ ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن کے خلاف بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے دنیا کو اس جانب بھی دیکھنا چاہیے۔

Leave a Reply