جوئے بنگلہ کا نعرہ : الیکشن میں تاریخی دھاندلی پر کیا مغربی بنگال بھارت سے الگ ہوجائے گا؟

 تحریر: وجیہ احمد صدیقی

مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات نے بھارت کی جمہوریت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلکتہ کی سڑکوں پر ممتابینرجی کے حامی “جوئے بنگلہ” کے نعرے لگا رہے ہیں اورالیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا پر ایک کروڑ دس لاکھ اصل ووٹروں کے ووٹ کاٹنے کا سنگین الزام ہے۔ یہ جعلی ووٹ نکالنے کے بجائے مخالفین کے ووٹروں کو ووٹر لسٹ سے غائب کرنے کی سازش تھی، جس سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو شدید نقصان پہنچا۔ ممتا بینرجی نے غصے سے کہا کہ 100 سے زائد نشستوں پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے کھلا ڈاکہ ڈالا ہے، اور انہوں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی جماعت کی طرف سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی فورس اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کو اے وی ایم کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ابتدائی گنتی میں ٹی ایم سی کی برتری تھی، لیکن راتوں رات نمبرز بدل گئے۔ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر #RiggedBengal ٹرینڈ چل رہا ہے، جہاں ہزاروں لوگ ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
یہ سارا سلسلہ 18 اپریل سے 7 مئی 2026 تک چلا، چار مرحلہ وار انتخابات کے دوران ہوا۔ کلکتہ میں ممتابینرجی کی ریلی میں ہزاروں کارکن جمع ہوئے، جہاں انہوں نے بی ایس ایف اہلکاروں کو اے وی ایم کے پاس کھڑے ہونے کی ویڈیوز دکھائیں۔ @MamataOfficial نے ایکس پر لکھا، “ایک کروڑ دس لاکھ اصلی ووٹ کاٹ دیے! بی جے پی کا ڈرامہ ختم۔” اس پوسٹ پر لاکھوں لائکس آئے۔ انڈین ایکسپریس نے بھی تصدیق کی کہ ووٹر لسٹ سے مسلم اور دلت علاقوں میں بڑی کٹوتی ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، جو 19 فروری 2025 کو اس عہدے پر آئے، اگرہ کے ہندو ہیں اور بابری مسجد انہدام کے بعد رام مندر کی تعمیری مہم میں سرگرم رہے ہی۔ ان کی “اسٹریٹجک ووٹر رجسٹریشن” پالیسی سے ملک بھر میں چھ کروڑ مسلمان اور دلت ووٹروں کے نام ہٹائے گئے۔ بنگال میں 28 لاکھ مسلمانوں کو “بنگلہ دیشی گھس بیٹھئے” کہہ کرووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا، حالانکہ وہ بھارتی شہری ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ مماری پورہ اور مرشد آباد جیسے علاقوں میں 40 فیصد لسٹ تبدیل ہوئی۔
عوام کا غصہ آسمان چھو رہا ہے۔ کلکتہ کی سڑکوں پر مارچ نکلے، پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ @AITCofficial کی پوسٹ “100+ seats looted! Reject fake results” پر 2.5 لاکھ ری ٹویٹس۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ “غیر قانونی تارکین” تھے، لیکن ثبوت جھوٹے ہیں—بہت سے کے پاس آدھارکارڈ(قومی شناختی کارڈ )اور پاسپورٹ ہیں۔ دلت لیڈر اور ٹی ایم سی حامی بھی متاثر ہوئے، جن سے توقع تھی کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں گے۔
اب “جوئے بنگلہ” کا نعرہ مشرقی پاکستان والے دور کی یاد دلاتا ہے، جب بھارت نے 1971 میں بنگلہ دیش بنایا تھا تو عوامی لیگ اور مکتی باہنی والےجوئے بنگلہ کا نعرہ لگاتے تھے ۔ آج مغربی بنگال میں یہی نعرہ بھارت کے خلاف لگ رہا ہے۔ ایکس پر #JaiBanglaIndependence ٹرینڈنگ، جہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ بنگال سمیت سات ریاستیں الگ ہو جائیں گی۔ انڈیا ٹوڈے نے لکھا کہ شمال مشرقی ریاستیں بھی بھارت سے بغاوت کی طرف مائل ہیں۔
ممتا بینر جی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی، الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف منظم حملہ ہے۔ بی جے پی کے اپنے کچھ لیڈر بھی خاموش ہیں، جیسے سکھیرو پال جو پہلے دھاندلی کے الزام لگا چکے۔ عوام سڑکوں پر اتر آئے، کئی جگہ تشدد ہوا۔ کیا یہ بھارت کی تقسیم کا آغاز ہے؟ گیانیش کمار جیسے افسران نے بھارتی شہریوں سے ووٹ کا حق چھینا ہے ، اب بنگال مزاحمت کر رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ “جوئے بنگلہ” محض نعرہ رہے گا یا حقیقت بن جائے گا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *