فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور عباس عراقچی میں کیا گفتگو ہوئی؟

تحریر وجیہ احمد صدیقی

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایک ملاقات، ایک پیغام اور ایک ثالثی کا اشارہ پورے خطے کی سمت بدل سکتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطہ، اس کے ساتھ قطر کے سفارتی وفد کی تہران آمد، اور پاکستان کے کردار کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا خطہ کسی نئی کشیدگی کی طرف جا رہا ہے یا پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں کسی بڑی جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

یہ صورتِ حال محض دو ملکوں کے تعلقات تک محدود نہیں۔ اس کے دائرے میں ایران، امریکہ، قطر، پاکستان اور وسیع تر عرب دنیا سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات کو صرف ایک روایتی سفارتی بیٹھک سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ پاکستانی، عرب، ایرانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس پیش رفت کو جس انداز سے دیکھا جا رہا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ خطے کے امن، طاقت کے توازن اور ممکنہ مذاکراتی عمل سے جڑا ہوا ہے۔

عباس عراقچی کی پاکستان آمد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایک نازک مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، خطے میں سکیورٹی خدشات، اور مختلف خلیجی ریاستوں کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کر رہی تھیں کہ بڑے تصادم کے امکانات کو کم کرنے کے لیے کئی سطحوں پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال اس لیے بھی اہم تھی کہ اسلام آباد روایتی طور پر ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے، مگر ساتھ ہی وہ عرب دنیا، امریکا اور چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کسی سفارتی چینل کا حصہ بنتا ہے تو اس کا مطلب صرف پیغام رسانی نہیں، بلکہ ایک اہم علاقائی ذمہ داری بھی ہے۔

ملاقات میں کیا زیر بحث آیا اس حوالے سے دستیاب رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کی ملاقات میں بنیادی طور پر خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی، اور سفارتی راستوں کی تلاش پر بات ہوئی۔ بعض ذرائع نے اس ملاقات کو “مثبت” اور “سنجیدہ” قرار دیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں جانب سے صرف رسمی گفتگو نہیں بلکہ عملی امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس گفتگو میں ایران-امریکہ کشیدگی بھی زیر بحث رہی، خاص طور پر وہ معاملات جن پر کسی درمیانی راستے کی ضرورت تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران کی طرف سے امریکہ کے لیے بعض پیغامات یا تجاویز پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائی گئیں۔ یہ نکتہ اس ملاقات کو مزید اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان محض ایران کا ہمسایہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ سہولت کار کے طور پر سامنے آتا ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ ایرانی قیادت اس مرحلے پر کسی ایسے ملک کو ترجیح دے رہی ہے جس پر نسبتاً اعتماد کیا جا سکے اور جو براہِ راست فریق بنے بغیر پیغام پہنچا سکے۔ پاکستان اس تعریف پر کسی حد تک پورا اترتا نظر آتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ ایران، خلیجی دنیا اور مغربی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت رابطے رکھتا ہے۔

پاکستان کے کردار پر اگر غیر جذباتی انداز میں غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام آباد اس وقت ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہونے کے باعث خود بخود کئی تنازعات کے قریب کھڑا ہے۔ ایران، افغانستان، خلیجی ریاستیں، اور امریکہ سے تعلقات اسے ایسی پوزیشن میں لے آتے ہیں جہاں وہ یا تو صرف ناظر رہ سکتا ہے یا پھر فعال رابطہ کار بن سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت کے لیے یہ ایک سفارتی امتحان بھی ہے۔ اگر اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان کسی حد تک اعتماد سازی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا اثر نہ صرف خطے میں پاکستان کے مقام پر پڑے گا بلکہ اسے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔ دوسری طرف اگر کوششیں ناکام رہتی ہیں تو پاکستان پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے کہ اس نے کب، کہاں اور کس حد تک کردار ادا کیا۔

پاکستانی اور بین الاقوامی رپورٹنگ میں یہ بات بار بار نمایاں کی گئی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان کی سہولت کاری پر مکمل نہ سہی، کم از کم ایک حد تک اعتماد ظاہر کیا ہے۔ یہی عنصر اس معاملے کو اہم بناتا ہے۔ یہ ایک ایسی سفارت کاری ہے جو کھلے عام شور نہیں مچاتی بلکہ خاموشی سے پیغام ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پہنچاتی ہے۔

قطر کیوں اہم ہے ؟
قطر کا نام اس پورے معاملے میں اس لیے بار بار سامنے آ رہا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے خطے میں ثالثی کی ایک سنجیدہ روایت قائم کر چکا ہے۔ افغانستان سے لے کر غزہ اور ایران-امریکا رابطوں تک، دوحہ نے خود کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر منوایا ہے جہاں فریقین اعتماد کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قطر کا وفد تہران اس مقصد کے ساتھ گیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جائے اور کشیدگی کسی کھلی جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ یہ وفد ایران کو یہ سمجھانے کے لیے پہنچا کہ اگر کوئی عملی سیاسی حل نکالنا ہے تو اس کے لیے کچھ نرمی، کچھ لچک اور کچھ فوری اقدامات درکار ہوں گے۔
قطر کی سفارت کاری کی خوبی یہی ہے کہ وہ بڑے نعروں کے بجائے قابلِ عمل فارمولے تلاش کرتی ہے۔ اس تناظر میں تہران میں قطری موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملہ ابھی بند نہیں ہوا۔ پسِ پردہ بات چیت جاری ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں بعض اوقات ایک چھوٹا سا اشارہ بھی بڑے بحران کو روک دیتا ہے۔
عرب اور بین الاقوامی ردعمل

عرب ذرائع ابلاغ میں اس ملاقات کو زیادہ تر امن، ثالثی اور سفارتی مداخلت کے زاویے سے دیکھا گیا ہے۔ عرب نیوز اور دیگر علاقائی رپورٹنگ میں یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بڑے بریک تھرو کے لیے اسلامی دنیا کے چند ممالک فعال کردار ادا کر سکتے ہیں، اور پاکستان ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع، خصوصاً رائٹرز سے منسوب رپورٹنگ، اس بات پر زور دیتی ہے کہ قطر نے تہران میں جو سفارتی قدم اٹھایا وہ کسی وقتی خبر کے لیے نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ اسی طرح بی بی سی اردو اور ڈی ڈبلیو جیسے ذرائع نے پاکستان کے ذریعے ایران کے پیغامات یا تجاویز کے آگے بڑھائے جانے کی بات کی، جس سے اس عمل کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

ایرانی میڈیا میں بھی اس ملاقات کو ایک اہم رابطہ قرار دیا گیا۔ وہاں سے ملنے والا مجموعی تاثر یہ ہے کہ تہران کسی ایسے ہمسایہ یا دوست ملک کو ترجیح دیتا ہے جو دباؤ کے بجائے بات چیت کو آگے بڑھا سکے۔ پاکستان اس فہرست میں ایک فطری امیدوار کے طور پر نظر آتا ہے۔

مستقبل کس طرف جا رہا ہے؟

اس سوال کا واضح جواب ابھی دینا مشکل ہے کہ آیا یہ سفارتی سرگرمیاں کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچیں گی یا نہیں۔ لیکن موجودہ اشارے کم از کم یہ بتاتے ہیں کہ جنگ کا خطرہ فوری طور پر ختم نہیں ہوا، مگر اسے روکنے کی کوششیں بھی ختم نہیں ہوئیں۔

اگر قطر، پاکستان اور دیگر ثالث ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان کسی درمیانی راہ پر اتفاق کروا دیتے ہیں تو یہ خطے کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر بداعتمادی، داخلی سیاسی دباؤ اور علاقائی طاقتوں کی مسابقت حاوی رہی تو پھر یہ مذاکراتی عمل لمبا اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری اکثر ایک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ کبھی ایک بیان، کبھی ایک خفیہ رابطہ، کبھی ایک ثالثی وفد اور کبھی ایک خاموش ملاقات پوری فضا بدل دیتی ہے۔ اسی لیے آج کی یہ ملاقات محض ایک خبر نہیں، بلکہ ممکنہ تبدیلی کے ایک بڑے سلسلے کی ابتدائی کڑی بھی ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کی ملاقات، قطر کے وفد کی تہران آمد، اور پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار نے ایک ایسی صورتِ حال کو جنم دیا ہے جس میں امید اور احتیاط دونوں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک طرف امن کی کھڑکی کھلتی محسوس ہو رہی ہے، دوسری طرف کشیدگی کی دیوار ابھی پوری طرح گری نہیں۔
پاکستانی، عرب، ایرانی اور بین الاقوامی ذرائع کی روشنی میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت خطے میں خاموش مگر سنجیدہ سفارت کاری جاری ہے۔ یہ سفارت کاری اگر کامیاب ہو گئی تو تاریخ میں اسے ایک بڑی روک تھام کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔ اگر ناکام ہوئی تو یہی رابطے آنے والے دنوں میں ایک نئی سفارتی دوڑ کی بنیاد بنیں گے۔
اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہی ہے کہ خطہ ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اور اس موڑ پر الفاظ، اشارے، رابطے اور ثالثی شاید توپ و تفنگ سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *