بٹلر سے وائٹ ہاؤس تک، 3 بڑے واقعات، 1 زیر تفتیش
واشنگٹن: سابق اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ 14 ماہ میں کم از کم 3 جان لیوا حملوں اور سازشوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جبکہ تازہ ترین واقعہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اب بھی اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس کا ہدف صدر تھے یا نہیں۔
1. بٹلر کا خونریز حملہ
جولائی 2024
13 جولائی 2024 کو پنسلوانیا کے بٹلر میں انتخابی ریلی کے دوران 20 سالہ تھامس میتھیو کروکس نے چھت سے فائرنگ کر دی۔ ٹرمپ کے کان پر گولی لگی، ایک ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ سیکرٹ سروس نے حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ FBI کی تحقیقات کے باوجود حملے کا واضح محرک سامنے نہ آ سکا۔ کانگریس نے سیکیورٹی ناکامیوں پر سخت رپورٹ جاری کی۔
2. فلوریڈا گالف کورس پر ناکام کوشش – ستمبر 2024
15 ستمبر 2024 کو ویسٹ پام بیچ میں ٹرمپ کے گالف کھیلنے کے دوران 58 سالہ ریان روتھ رائفل کے ساتھ جھاڑیوں میں چھپا پایا گیا۔ سیکرٹ سروس کی فائرنگ کے بعد وہ فرار ہوا لیکن بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر صدارتی امیدوار کے قتل کی کوش کا مقدمہ وفاقی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
3. نوجوان کی سازش – فروری 2025
17 سالہ مالڈووا نژاد نکیتا کاساپ پر الزام ہے کہ اس نے والدین کو قتل کر کے ٹرمپ کے قتل کی سازش کا فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد “نسلی جنگ چھیڑنا” تھا۔ کاساپ نے جنوری 2026 میں والدین کے قتل کا اعتراف کر لیا اور مارچ 2026 میں بغیر پیرول عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ٹرمپ کے قتل کی سازش کا مقدمہ الگ سے جاری ہے۔
دیگر دھمکیاں اور تازہ واقعہ
اپریل 2025 میں 32 سالہ شون مونپر کو سوشل میڈیا پر ٹرمپ کو قتل کی دھمکیاں دینے پر گرفتار کیا گیا۔ اس پر 4 سنگین الزامات ہیں اور کیس عدالت میں ہے۔
4 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ ہوئی جس میں حملہ آور ہلاک ہو گیا اور ایک راہگیر زخمی ہوا۔ سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے چیک پوسٹ پر اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔
نتیجہ
گزشتہ سال سے اب تک ٹرمپ پر 2 براہ راست حملے، 2 روک لی گئی سازشیں اور متعدد دھمکیاں سامنے آ چکی ہیں۔ ہر واقعے کے بعد سیکرٹ سروس نے ان کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی تلخی ان واقعات کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔
سیکرٹ سروس اور FBI آج کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حملہ آور کی شناخت اور محرک کا اعلان جلد متوقع ہے۔

Leave a Reply