عباس عراقچی کی دہلی آمد
تحریر:وجیہ احمد صدیقی
ایران نے بھارت کو پھر کیوں یاد کیا، اور کیا چابہار کی واپسی اصل میں نئی دہلی کی مجبوری ہے؟ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی نئی دہلی آمد اور بھارتی قیادت سے ان کی ملاقاتیں محض سفارتی تعلقات کی ایک رسمی مشق نہیں، بلکہ اس پورے خطے میں جاری طاقت، مفاد، منافقت اور تزویراتی دوڑ کا ایک اور کھیل ہے۔ ایران اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے ہر بڑی طاقت، ہر چھوٹے اتحادی اور ہر ممکن سفارتی چینل کو کھلا رکھنا چاھیے تھا، خاص کر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اسے تعلقات خوشگوار رکھنی چاہیے تھے، لیکن پڑوسیوں سے ناخوشگوار تعلقات رکھ کر پڑوسیوں کے دشمنوں سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ جبکہ بھارت اپنی روایتی دوغلی پالیسی کے مطابق ایک طرف ایران کے قریب رہنے کی اداکاری کرتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرتا جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے عراقچی کے دورۂ دہلی کو محض ایک ملاقات نہیں، بلکہ ایک اہم سیاسی اشارہ بنا دیا ہے۔

عالمی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بھارت کبھی بھی ایک ذمہ دار اور مستقل مزاج علاقائی طاقت کے طور پر سامنے نہیں آیا۔ وہ موقع کے مطابق اپنا رخ بدلتا ہے، مفادات کے مطابق دوست چنتا ہے، اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ایران جیسے ملکوں کے ساتھ بھی گرمجوشی دکھانے لگتا ہے۔ مگر جب امریکہ دباؤ ڈالتا ہے یا اسرائیل کے مفاد کا سوال اٹھتا ہے تو یہی بھارت ایران کی حمایت پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ چابہار بندرگاہ کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بھارت نے برسوں تک اسے وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے ایک اہم دروازہ بنا کر پیش کیا، لیکن بھارت کااصل مقصد پاکستان کے سی پیک کو غیر موثر بنانا تھا۔ امریکہ نے بھی چین کی مخالفت میں چا بہار منصوبے کی طرف سے نظریں چرا لی تھیں۔ لیکن جب ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیل کی کاروائیاں شروع ہوئی تو بھارت نے اس خوف سے کہ کہیں امریکہ اور اسرائیل ناراض نہ ہو جائے چا بہار سے اپنی سرمایہ کاری ختم کر دی ۔
لیکن امریکی پابندیوں اور واشنگٹن کی ناراضی کے خوف نے اس منصوبے کو بار بار کمزور کیا۔ یوں حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایران کو اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے خوف سے چھوڑا، اور اب حالات کو نارمل دیکھ کر دوبارہ اسی دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
چابہار محض ایک بندرگاہ نہیں، بلکہ بھارت کی اس کمزور اور غیر مستقل خارجہ پالیسی کی علامت ہے جس میں اصول کم اور مفادات زیادہ ہیں ۔ اس بندرگاہ کا مقصد جہازرانی کی سرگرمیاں بڑھانا نہیں بلکہ بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے لیے وہ سہولت مہیا کرنا ہے جو بلوچستان کے اندر علیحدگی پسند دہشت گردوں کو مضبوط کر سکے پاکستان کو ایران کے ساتھ اس حوالے سے دو ٹوک بات کرنا چاہیے۔ ایران نے اس بندرگاہ کے ذریعے بھارت کو ایک ایسا راستہ دیا تھا جو اسے پاکستان کے جغرافیے کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک لے جا سکتا تھا۔ لیکن بھارت کا یہ مقصد نہیں تھا اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ لیکن بھارت نے ایران کو یہی دھوکہ دیا کہ وہ وسطی ایشیا اور افغانستان کے راستے کو استعمال کرنا چاہتا ہے بھارت ایران سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتا ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی رکھنا چاہتا ہے یہ بات ایران کو سمجھنی ہوگی کہ بھارت نے اس اعتماد کا حق وہی ادا کیا جو وہ اکثر کرتا ہے: مفاد لیا، مگر وفاداری نہ دکھائی۔ 2018 میں وقتی لیز، 2024 میں 10 سالہ معاہدہ، اور اس کے بعد پابندیوں کے خوف سے گریز—یہ سارا سلسلہ بتاتا ہے کہ بھارت کی نیت کبھی بھی یکسو نہ تھی۔ وہ چابہار سے فائدہ لینا چاہتا ہے، مگر اس قیمت پر نہیں کہ واشنگٹن ناراض ہو جائے یا اسرائیل کے ساتھ اس کی قربت متاثر ہو۔
یہاں ایک اور اہم سوال کھڑا ہوتا ہے: اگر بھارت واقعی ایران کا اتنا ہی خیر خواہ تھا تو پھر وہ خطے میں ایران کے خلاف بننے والے دباؤ کے ماحول میں کھل کر کیوں سامنے نہ آیا؟ جواب سادہ ہے: کیونکہ بھارت کی خارجہ پالیسی اصولوں پر نہیں، مفادات پر چلتی ہے۔ وہ ایران کے تیل، چابہار، BRICS اور علاقائی رسائی سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتا ہے، مگر اسی وقت امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جس نے عالمی سفارت کاری میں بھارت کو ایک ناقابل اعتماد کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ عالمی نقطۂ نظر سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ بھارت کا ایران کے ساتھ تعلق کبھی بھی خلوص پر مبنی نہیں رہا، بلکہ یہ محض مفاداتی لین دین ہے۔
عراقچی کی اجیت دول سے ملاقاتوں میں یہ ناممکن ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی سرگرمیوں کا ذکر نہ ہوا ہو کیونکہ اس ساری جنگ میں بھارت کا وہ نیٹ ورک ٹوٹ گیا اس کے ذریعے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کر رہا تھا اب بھارت اس نیٹ ورک کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے۔ رسمی طور پر بھارتی وہ کام کے ساتھ عراقچی کی ملاقات میں علاقائی استحکام، تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کا ذکر ضرور ہوا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت واقعی خطے میں امن چاہتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے اسرائیل کے جارحانہ رویے، فلسطین پر مظالم، ایران پر دباؤ اور خطے میں مسلسل فوجی توازن بگاڑنے والی پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرنا پڑتا۔ مگر بھارت نے الٹا ان قوتوں کے ساتھ قربت بڑھائی جو مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اس لیے جب آج وہ ایران کے ساتھ دوبارہ گرمجوشی دکھاتا ہے تو یہ کسی اخلاقی یا اصولی مقام سے نہیں، بلکہ اپنی فطری مکاری اور عیاری کے باعث ہے۔
پاکستان کے لیے اس سارے معاملے میں ایک بڑی سفارتی برتری یہ ہے کہ اسلام آباد نے کم از کم خطے میں تناؤ کم کرنے، بات چیت کی راہ ہموار کرنے اور بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس کے مقابلے میں بھارت اکثر بحران سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی پر چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت کے لیے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بھارت ایک ایسا کھلاڑی ہے جس پر مکمل اعتبار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ چابہار، BRICS، علاقائی راہداری، توانائی اور سیکیورٹی—ہر جگہ بھارت کا کردار مشکوک اور غیر مستقل دکھائی دیتا ہے۔ ایران کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایران پر حملے سے ایک دن پہلے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں موجود تھے اور نیتن یاہو کےگلے میں باہیں ڈال کر واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ ہم ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ کیا ایران ایک مرتبہ پھر بھارت کے ہاتھوں ڈسنا پسند کرے گا۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ “بھارت دوبارہ چابہار پر کیوں قبضہ کرنا چاہتا ہے”۔ تاکہ وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کا علمبردار بن سکے کہ اس منصوبے کا اصل مفہوم یہی ہے کہ بھارت اس بندرگاہ میں اپنا اثر، رسوخ اور انتظامی موجودگی دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ بھارت اس خطے میں،اپنا کنٹرول قائم کرسکے اور یہی وہ نکتہ ہے جس میں بھارت بار بار امریکی پالیسیوں کے مطابق جھکتا اور سیدھا ہوتا رہا ہے۔ اگر ایران نے آج بھی بھارت سے بات چیت جاری رکھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تہران کو بھارت پر اعتماد ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اپنے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک مجبوری ہے، محبت نہیں۔ لیکن ایران کو یہی رویہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی اپنانا چاہیے اس سے حالات زیادہ بہتر ہوں گے۔
عالمی تجزیے کے مطابق بھارت کی ایران پالیسی ہمیشہ موقع پرستانہ رہی ہے۔ وہ ایران کے خلاف کھڑا بھی ہو سکتا ہے، اور ایران کے ساتھ دوستانہ لہجہ بھی اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس سے اسے فائدہ پہنچے۔ یہی رویہ اسے ایک غیر مستقل، بےوقعت اور سفارتی طور پر ناقابلِ اعتماد ریاست بناتا ہے۔ عراقچی کی دہلی ملاقاتوں کی گہرائی میں بھارت کی وہی پرانی عیاری اور مکاری چھپی ہوئی ہے: جہاں موقع ملے، وہاں داخل ہو جاؤ؛ جہاں دباؤ بڑھے، وہاں خاموش ہو جاؤ؛ اور جہاں مفاد بدل جائے، وہاں نیا بیانیہ اپنا لو۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایران نے بھارت کو کسی جذبۂ خیر سگالی سے نہیں، بلکہ جغرافیائی اور معاشی مجبوریوں کے تحت قریب رکھا ہوا ہے۔ اور بھارت نے ایران کو کسی مستقل عزت کے تحت نہیں، بلکہ امریکی دباؤ، اسرائیلی قربت اور اپنی مفاداتی سیاست کے تحت دیکھا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو اس پورے معاملے کو پیچیدہ بناتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بھارت کبھی بھی اس خطے میں ایک خالص یا غیر جانب دار طاقت نہیں رہا۔ اس کی ہر حرکت کے پیچھے ایک چھپی ہوئی حکمت عملی، ایک خفیہ حساب اور ایک امریکی یا اسرائیلی سایہ موجود رہتا ہے۔
چابہار کے معاملے میں بھی یہی کہانی ہے۔ بھارت نے اسے استعمال کیا، سست روی دکھائی، دباؤ میں پیچھے ہٹا، اور اب پھر اپنی موجودگی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر ایران بھی جانتا ہے کہ نئی دہلی پر مکمل بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے عراقچی کی یہ ملاقاتیں اہم ضرور ہیں، مگر فیصلہ کن نہیں۔ یہ تعلقات مفادات کے جال میں الجھے ہوئے ہیں، اور اس جال میں بھارت ہمیشہ اپنے لیے راستہ ڈھونڈتا ہے، دوسروں کے لیے نہیں۔
نتیجہ صاف ہے: بھارت اگر آج ایران کے قریب آ رہا ہے تو یہ اس کی سفارتی بصیرت نہیں، بلکہ مجبوری ہے۔ اور اگر ایران اسے سنجیدگی سے لے رہا ہے تو یہ اس کی علاقائی ضرورت ہے۔ ورنہ کیا ایران کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے تمام حساس مقامات کی نشاندہی اسرائیل کو بھارت نے کی تھی ایرانی صدر ایٹمی سائنسدان فوجی قیادت اور یہاں تک کہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رسمی طور پر تعزیت کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جو کہ سفارتی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔
ایسے موقع پر اگر ایرانی وفد بھارت جانے سے گریز کرتا تو زیادہ مناسب تھا۔بہرحال عالمی تناظر میں اس ساری صورتِ حال کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ بھارت کاموقف نہ تو اصولی ہے، نہ مستقل، نہ قابلِ بھروسا۔ وہ صرف اپنے مفاد کا پجاری ہےاور یہی حقیقت ہے ۔

Leave a Reply