آبنائے ہرمز کی بندش: عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات

تجزیہ: وجیہ احمد صدیقی 

آبنائے ہرمز فروری 2026 کے آخر سے امریکہ-ایران تنازعہ کی وجہ سے مؤثر طور پر بند ہو چکا ہے، جس نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی روک دی ہے ۔ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، جو خلیج سے تیل کی بھاری مقدار درآمد کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ ویتنام میں پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، پیٹرولیم کی خریداری میں افراتفری مچی ہوئی ہے، ورک فرام ہوم کے احکامات جاری ہیں اور ایمرجنسی درآمدات کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ لاؤس کے حکام ریزرو کی بھرپور دستیابی کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر مقامی اسٹیشنز پر پٹرول بھرنے کی حد ایک لیٹر کی بوتل تک محدود کر دی گئی ہے اور پیٹرولیم کی ٹرانسپورٹ میں تاخیر سے قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کا وہ تنگ سمندری راستہ ہے جو عالمی تیل کی تجارت کی شریان حیات سمجھا جاتا ہے ۔ فروری 2026 کے آخر سے امریکہ اور ایران کے درمیان شدت اختیار کرتے تنازعے نے اسے مؤثر طور پر بند کر دیا ہے ۔ اس نازک پٹی سے روزانہ 21 ملین بیرل تیل گزرتا تھا، جو تیل کی کل عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے ۔ یہ بندش تیل کی قیمتوں کو آسمان پر لے گئی ہے اور عالمی معیشت کو زوردار جھٹکے دیے ہیں ۔ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا جیسے خطے، جو خلیج سے تیل کے بھاری درآمدکننده ہیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ایمرجنسی درآمدات کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ یہ صورتحال مہنگائی، صنعتی بندشوں اور معاشی سست روی کو جنم دے رہی ہے۔ آئیے اس کے عالمی معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں۔
یہ تجزیہ آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے عالمی تیل سپلائی پر اثرات کو واضح کرتا ہے.

تیل کی سپلائی میں خلل اور قیمتوں کا طوفان

آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب، ایران، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے او پی سی (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) ممالک سے نکلنے والا 20 فیصد تیل اب رکا ہوا ہے ۔ متبادل راستے جیسے سعودی عرب کا مشرقی نالہ یا ایران کا مغربی نالہ محدود صلاحیت رکھتے ہیں ۔ نتیجتاً، برنٹ کروڈ کی قیمت مارچ 2026 تک 150 ڈالر فی بیرل پہنچ گئی ہے، جو 2025 کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہے ۔
یہ اضافہ براہ راست صارفین تک پہنچ رہا ہے۔ امریکہ میں گیسولین کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے اوپر چلی گئی ہے، جبکہ یورپ میں ڈیزل 3 یورو فی لیٹر ہو گیا ہے ۔ ایشیا میں جاپان اور جنوبی کوریا، جو 80 فیصد تیل خلیج سے لیتے ہیں، اب آسٹریلیا اور افریقہ سے ایمرجنسی درآمدات پر انحصار کر رہے ہیں اور اس سے شپنگ لاگت مزید بڑھ گئی ہے ۔ ویتنام کی مثال دیکھیں: ہنوئی اور ہو چی منہ شہر میں پٹرول اسٹیشنز پر قطاریں لگ رہی ہیں اور بلیک مارکیٹنگ نے مہنگائی 15 فیصد بڑھا دی ہے ۔ لاؤس جیسے اندرونی شہروں میں پیٹرولیم کی ٹرانسپورٹ میں تاخیر کی وجہ سے قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق، یہ بندش 2026 کی پہلی سہ ماہی میں عالمی جی ڈی پی (مجموعی داخلی پیداوار) میں 1.5 فیصد کمی لائے گی ۔

صنعتوں اور تجارت پر برا اثر

تیل مہنگا ہونے سے صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں ۔ چین، جو دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ معیشت ہے، خلیج سے 70 فیصد تیل درآمد کرتا ہے ۔ اس بندش سے کیمیکل، پلاسٹک، سٹیل اور الیکٹرانکس کی پیداوار 20-25 فیصد کم ہو گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ لاگت 50 فیصد بڑھ گئی ہے، جس سے شِن جیانگ اور گوانگ ڈونگ کے فیکٹریوں میں ہزاروں ملازمین کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے اور برآمدات مہنگی ہو گئی ہیں ۔
بھارت، جو خلیج سے 85 فیصد تیل لیتا ہے، میں ریفائنریز (جیسے ریلائنس انڈسٹریز) بند ہو گئی ہیں ۔ دہلی اور ممبئی میں ڈیزل کی قیمتیں 150 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہیں، جس سے ٹیکسٹائل، آٹو اور آئی ٹی شعبوں میں پیداوار رک گئی ہے ۔ جاپان کی آٹو انڈسٹری نے پیداواری لائنیں روک دی ہیں ۔ یورپ میں جرمنی کی کیمیائی صنعت (بی اے ایس ایف جیسی کمپنیاں) خلیج سے 30 فیصد خام مال لیتی ہے اور اس بندش سے لاگت بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں شیل گیس نے کچھ ریلیف دیا ہے، مگر ریفائنریز کی 40 فیصد صلاحیت خلیج پر منحصر ہے ۔ ہوائی سفر کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے کیونکہ ایئر لائنز نے 30 فیصد پروازیں کم کر دی ہیں ۔ شپنگ کمپنیاں کیپ آف گڈ ہوپ کا لمبا راستہ اپنا رہی ہیں، جس سے وقت اور لاگت بڑھ رہی ہے ۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے مطابق، عالمی تجارت 10 فیصد سکڑ گئی ہے ۔

مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران

تیل کی مہنگائی نے عالمی مہنگائی کو مزید بھڑکا دیا ہے ۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا تخمینہ ہے کہ 2026 میں مہنگائی 8 فیصد تک پہنچ جائے گی ۔ ترقی پذیر ممالک میں توانائی سبسڈی ختم ہو رہی ہے ۔ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں 40 فیصد بڑھ گئی ہیں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری متاثر ہوئی ہے ۔ بھارت میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سود کی شرح بڑھا دی ہے، مہنگائی 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور دہلی میں پٹرول کی قطاریں عام ہیں ۔
چین میں صارفین کی قوت خرید کم ہو گئی ہے اور بیجنگ اور شنگھائی میں غذائی اشیا 20 فیصد مہنگی ہو گئی ہیں ۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ امریکہ میں 5 لاکھ نوکریاں ختم ہو گئی ہیں، چین میں 2 ملین فیکٹری ورکرز متاثر ہوئے ہیں اور بھارت میں 1 ملین آٹو سیکٹر کے ملازمین خطرے میں ہیں ۔ یورپ میں یونان اور اٹلی ریسیشن میں داخل ہو گئے ہیں ۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا کی ریفائنریز بند ہو گئی ہیں ۔ غذائی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں اور گندم کی قیمت 25 فیصد بڑھ گئی ہے ۔

جغرافیائی سیاسی اور ماحولیاتی چیلنجز

یہ بحران جغرافیائی سیاست کو بدل رہا ہے ۔ چین نے روس اور وینزویلا سے تیل کی خریداری بڑھا دی ہے، جبکہ بھارت نے امریکہ اور افریقہ سے معاہدے کیے ہیں ۔ سعودی عرب نے امریکہ کو اضافی تیل کی سپلائی کا وعدہ کیا ہے، مگر اس کی پیداوار محدود ہے ۔ ایران کے بحری حملوں سے انشورنس کی قیمتیں مہنگی ہو گئی ہیں ۔
ماحولیاتی طور پر متبادل راستوں کا استعمال کاربن اخراج کو 15 فیصد بڑھا رہا ہے ۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کی کوششوں کو روک رہا ہے ۔

_مستقبل اور حل_

اگر یہ بندش مزید تین ماہ سے زیادہ جاری رہی تو عالمی جی ڈی پی 3-5 فیصد سکڑ جائے گی، جیسا کہ او ای سی ڈی کی رپورٹ ہے ۔ حل میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) کا استعمال، برقی گاڑیاں (ای وی) اور قابل تجدید توانائی (شمسی اور ہوا) کی ترقی شامل ہے ۔ سعودی عرب کا نیوم پروجیکٹ اور یو اے ای کی ہائیڈروجن انیشیٹو امید کی کرن ہیں ۔ چین اور بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ اور سولر انیشیٹوز کو تیز کرنا ہوگا ۔ پاکستان کو سی پیک کے تحت متبادل پائپ لائنز تیار کرنی چاہییں ۔ جی 20 کو مل کر کام کرنا چاہیے ۔

پاکستان پر آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات

پاکستان، جو خلیج سے 80 فیصد تیل کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے شدید بحران کا شکار ہے ۔ تیل کی قیمتیں 50 فیصد بڑھ گئی ہیں، جس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی اور لوڈشیڈنگ 12 گھنٹے تک بڑھ گئی ہے ۔ کراچی اور لاہور میں پٹرول کی قطاریں لگ رہی ہیں، ٹرانسپورٹ لاگت دگنی ہو گئی ہے اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 15 فیصد کم ہو گئی ہیں ۔ او جی ڈی سی ایل نے ایمرجنسی ریزرو استعمال کیے ہیں، مگر سی پیک کے تحت متبادل راستوں کی ضرورت ہے ۔ مہنگائی 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو غریب طبقے پر بوجھ بڑھا رہی ہے ۔ حکومت کو سبسڈی ختم کرنے اور سولر انرجی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ یہ بحران کم ہو ۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی حساسیت کو واضح طور پر اجاگر کر دیا ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے کہ اسے ہر قسم کے سیاسی اور اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکا جائے۔ چین اور بھارت جیسی معیشتوں میں صنعتیں رک گئی ہیں، ویتنام اور لاؤس میں روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے ۔ قیمتوں کا طوفان، مہنگائی اور بے روزگاری عالمی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔ اب متبادل توانائیوں کی طرف فوری رجوع کا وقت آ گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی مراعات یافتہ طبقے کو اپنی مراعات سے دستبردار ہونا ہوگا، عوام کے ساتھ مشکلات میں ساتھ دینا ہوگا ورنہ سب سے پہلے وہی کچلے جائیں گے اور عوام تماشہ دیکھیں گے

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *