تحریر: وجیہ احمد صدیقی

کیا آپ جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ اخر یہ کیوں کر پیدا ہوا۔ تو جان لیجئے جب 1947 میں ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان کا قیام عمل میں ایا تو تقسیم کا یہ فارمولا طے ہوا تھا کہ جن اضلاع میں مسلمانوں کے اکثریت ہے وہ علاقہ اور ضلع پاکستان کا حصہ ہوگا ۔ لیکن اس کے باوجود پنجاب میں گورداس پور اور بنگال میں مرشد آباد کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا یہ دونوں مسلم اکثریتی علاقے تھے۔
کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے نہیں حل کیا وہ اسے جان بوجھ کر غیر حل طلب چھوڑ کر چلے گئے۔ یعنی اسے بھارت میں شامل نہیں کیا اور نہ ہی وہاں پر رائے شماری کرائی ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازعے کی شکل میں ہے سامنے آیا اور کشمیر کے کچھ حصے پر پاکستان نے قبضہ کیا جسے اس نے آزاد کشمیر کا نام دیا اور بھارت کے قبضے میں رہ جانے والے کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کہا ۔گلگت بلتستان کے لوگوں نے خود جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی اور بھارت نے سری نگر میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ کیونکہ پاکستان کی فوج کا سربراہ ایک برطانوی تھا اس نے قائد اعظم کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے سری نگر میں اپنی فوجیں نہیں اتاریں۔
لیکن بڑی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو یہ موقع اس لیے ملا کہ گورداس پور جو کہ پنجاب کا ایک ضلع تھا اور جہاں مسلمانوں کی اکثریت 52 فیصد کے قریب تھی اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس ضلع میں ایک تحصیل قادیان بھی شامل تھی، اس میں قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے باؤنڈری کمیشن کے سربراہ ریڈ کلف سے تحریری طور پر درخواست کی کہ انہیں مسلمانوں میں شمار نہ کیا جائے اور قادیان کو بھارت میں شامل کیا جائے۔ اور باؤنڈری کمیشن میں مسلمانوں کی طرف سے جسٹس دین محمد اور جسٹس محمد منیر شامل تھے یہ وہی جسٹس منیر ہے جس نے پاکستان کی جمہوریت کو قتل کیا ماشاءاللہ کے لیے نظریے ضرورت کی تشکیل کی 1953 میں لاہور میں ہونے والے فسادات میں جس میں قادیانیوں نے تقریبا چار ہزار مسلمانوں کو قتل کیا تھا اس کو جائز قرار دیا اس نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ مسلم لیگ کے وکیل کے طور پر قادیانی سر ظفر اللہ خان بھی اسی کمیشن کے رکن تھے پنجاب کے اس کمیشن کی ان اراکین نے کشمیر کا راستہ بند کرنے کی بھرپور سازش میں حصہ لیا ۔لیکن قادیانی خلیفہ کو بعد میں یہ احساس ہوا کہ سارے مسلمان تو پاکستان چلے گئے اب وہ قادیانیت کی تبلیغ کس پر کریں گے تو لہذا وہ بھی اپنا میدان یعنی قادیان چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو کر پاکستان میں ربوہ بنانے آگئے۔

بہت سے لوگ جو قادیانیوں کی اس گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں جن میں ایک پروفیسر اشتیاق احمد بھی شامل ہیں اپنی تحریروں میں یہ گمراہ کن معلومات دیتے ہیں کہ 1941 کی مردم شماری کے مطابق گورداس پور میں مسلمانوں کی آبادی صرف ایک فیصد تھی ۔ان کا یہ دعوٰی بالکل غلط ہے۔ میں نے تاریخی حوالے دیکھے تو معلوم یہ ہوا کہ گورداس پور میں مسلمانوں کے ابادی 52 فیصد تھی بلکہ یہ علاقے گورداس پور وغیرہ پاکستان میں شامل ہو چکے تھے۔ 17 اگست 1947 کو دوبارہ ان کو ہندوستان میں شامل کیا گیا، تب مسلمانوں نے راتوں رات وہاں سے پاکستان ہجرت کی ۔پنجاب کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور انہیں پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا ان میں فیروز پور جہاں مسلمان 55.2 فیصد تھے۔ زیرہ جہاں مسلمان 65.2 فیصد تھے نکودار جہاں مسلمان 59.2 فیصد تھے جالندھر جہاں مسلمان 51.1 فیصد تھے اجنالہ جہاں مسلمان 59.4 فیصد تھے۔ لیکن گورداس پور جو کہ مسلم اکثریت کا علاقہ تھا تو اچانک اقلیت میں کیسے بدل گیا اس کی یہی وجہ تھی کہ قادیانیوں نے خود کہہ دیا کہ ہمیں مسلمانوں میں شمار نہ کرو ۔شاید اللہ تعالٰی نے یہ انتظام خود ہی کر دیا تھا کیونکہ آگے چل کر وہ کشمیر کو قادیانیت کا مرکز بنانے کی کوشش کرتے ۔ اس لیے کہ 1931 میں بھی قادیانیوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی اور کوشش کی کہ کشمیر پر قادیانیوں کا غلبہ ہو جائے ۔ان کی کوششوں کو علامہ اقبال نے اچھی طرح سمجھا اور قادیانیوں کی کمیٹیوں کو ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا ۔
اس بات سے قادیانی انکار کرتے ہیں کہ گورداس پور کی مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لیے ان کے خلیفہ نے ایسا کوئی فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی بحث میں یہ بات سامنے آئی اور جس کی تصدیق بھی ان کے اپنے اس وقت کے خلیفہ نے کی اور اس بات کی تردید نہیں کی کہ آزادی کے وقت اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے ایک الگ جماعت ہیں۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے سرحدی علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور ریڈکلف ایوارڈ کے فیصلے میں گورداس پور بھارت کے حوالے کردیا گیا تاکہ اسے کشمیر میں داخل ہونے کا راستہ مل سکے۔ قادیانیوں کے لیے یہ بات اس لیے بھی صدمے کا باعث ہوئی کہ قادیانیوں نے اپنی عرضداشت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے آبائی علاقے قادیان کو ہندوستان میں ویٹیکن سٹی کے جیسا درجہ دلوانے کی درخواست کی تھی۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود کہتے ہیں۔( نعوذ باللہ ) اسی طرح وہ مسیحیوں کی نقل میں اپنے مقدس مقام کو ویٹیکن سٹی کا درجہ دلوانا چاہتے تھے جو ہندوستان کے اندر ایسی آزاد ریاست ہو جہاں ہندوستان کا عمل دخل بھی نہ ہو۔ لیکن یہ مطالبہ برطانوی حکومت میں تسلیم نہیں کیا مگر کافی عرصے تک قادیان اور ربوہ ویٹیکن کی طرح دونوں بند شہر رہے۔ یہاں پر غیر قادیانیوں کا داخلہ بند تھا۔ قادیانی اسے از خود ویٹیکن سٹی کا درجہ دے رہے تھے۔ ایک عرصے تک بھارت اور پاکستان کی حکومتیں ان شہروں میں مداخلت نہ کر سکیں۔ بھارت تو اب بھی مداخلت نہیں کر سکتا قادیان میں اس کے اہلکار داخل نہیں ہو سکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گورداس پور میں جب 52 فیصد مسلمان تھے وہاں 23 فیصد سکھ 21 فیصد ہندو اور 4.4 فیصد عیسائی تھے۔ اکثریت مسلمانوں کی تھی فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہونا چاہیے تھا لیکن چونکہ مسلمانوں کے نام پر ختم نبوت کے منکرین بھی موجود تھے تو انہوں نے ازخود یہ انکار کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ان کو مسلمانوں میں شمار نہ کیا جائے یہاں تک کہ قادیان کے بھارت میں شامل ہونے کے باوجود قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ یا اگر وہ اپنے آپ کو ویٹیکن کی طرز پر ایک عیسائی سمجھتے ہیں تو قادیانیوں کے دوسرے پوپ مرزا بشیر الدین محمود نے دوسرے قادیانیوں کو قادیان سے نقل مکانی کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن پاکستان میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور ربوہ قائم کرنے کے لیے قادیانی بھاگ کر پاکستان آئے۔یہ بات بھی تاریخی طور پر مسلمہ ہے کہ علامہ اقبال نے قادیانیوں کو ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں قرار دیا تھا تو اس پر ان کو اسلامی ملت کا حصہ قرار دینے کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو نے سفارش کی تھی کہ آپ انہیں مسلمانوں میں شمار کریں ،
جس پر علامہ اقبال نےنہایت سخت جواب پنڈت نہرو کو دیا تھا۔ اصل میں قادیانیوں کو یہ صدمہ اس لیے ہوا کہ انگریز ہندوستان چھوڑ کر جا رہے تھے اور یہ ان کے لیے رنج اور دکھ کی بات تھی۔ کیونکہ ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے برطانوی راج کو انعام الہی قرار دیا تھا (نعوذ باللہ)، اللہ کا انعام؟ اور انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد یا جہاد کی سخت مخالفت کی تھی بلکہ تاج برطانیہ کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا تھا، اور تاج برطانیہ کی اطاعت کو اپنے تمام پیروں کاروں پر لازم کرتے ہوئے مذہبی فریضہ قرار دیا تھا۔ جب ان کا آقا میدان چھوڑ کر فرار ہو رہا تھا تو ایسے میں ان کو صدمہ تو پہنچنا ہی تھا، لہذا یہ بات جس پر آج قادیانی پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو اور انگریز دونوں قادیانیوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں اسرائیل میں جا کر نریندر مودی نے قادیانیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی ۔حیرت یہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں کا جانی دشمن ہو ان کے اوپر اپنے ملک کے اندرزندگی تنگ کر رکھی ہو، ان کی شہریت ختم کر رہا ہو ان کے مذہبی تہوار منانے کی آزادی انہیں نہیں دے رہا ہو۔ ان کے روزگار میں اور حد یہ کہ ان کے کھانے پینے میں رکاوٹ ڈال رہا ہو کہ وہ کیا کھا سکتے ہیں کیا نہیں کھا سکتے وہ یہ طے کر رہا ہو۔ وہ شخص قادیانیوں سے بڑے خوشی خوشی گلے ملتا ہے اور وہ بھی انہیں بڑی خوشی خوشی گلے لگاتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ آج بھی بھارت قادیان ایک بند شہر ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اب ربوہ بند شہر نہیں رہا اس کا نام چناب نگر ہو گیا ہے۔ لیکن پاکستان قادیانیوں کی سازشوں سے محفوظ نہیں ہے۔ کشمیری خاص کر آزاد کشمیر کے لوگ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ پاکستانی نہ صرف ان سے محبت رکھتے ہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے ہر کشمیری کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔ لہذا آپ میں جو چند لوگ ایسے گھس آئے ہیں جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو آزادکشمیر کی اسمبلی میں نمائندگی نہ دی جائے۔ سوچ لیجئے اور سمجھ لیجیے کہ یہ بھارت کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے ان کو یہ بتانا مقصود ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے جو لوگ ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں۔بھارت ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے ان کی تلاش میں ہے،جیسے سید صلاح الدین اور اگر کشمیر ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں آپ ان کا ساتھ دیں گے۔ تو سید صلاح الدین کو بھی بھارت کے حوالے کرنا پڑے گا۔ کیا آپ کشمیر ایکشن کمیٹی کا ساتھ دے کر ایسی غلطی کریں گے؟
آزاد کشمیر میں جو ہنگامے ہو رہے ہیں ان پر بھارت میں بہت ہی زیادہ خوشی کا اظہار ہو رہا ہے۔ اور آزادکشمیر کے شہریوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ تمہارے حقوق پاکستان میں مارے جارہے ہیں۔
پاکستان میں بھی بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آزاد کشمیر میں لوگوں کے حقوق غصب کیےجا رہے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کشمیری پاکستان کی بیوروکریسی میں پاکستان کی عدلیہ میں پاکستان کی تجارت میں پاکستان کی فوج میں کشمیری آزادانہ طور پر شامل ہیں ۔اسلام آباد اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے سربراہان کی بڑی تعداد کشمیری ہے اور اسلام آباد میں پوش اور مہنگے ترین سیکٹرز میں جتنی بھی بڑی جائیدادیں ہیں وہ کشمیریوں کی ہیں ۔جن کا تعلق زیادہ تر آزادکشمیر سے ہے۔
منگلا ڈیم یہ بنانے کے سلسلے میں میرپور تمام کا تمام ڈیم میں ڈوب گیا اس کے بدلے میں جو معاوضہ میرپور کے رہنے والوں کو دیا گیا وہ اتنا زیادہ تھا کہ ان سب نے جاکر برطانیہ کی شہریت اختیار کی اور ایک نیا میرپور آزاد کشمیر میں بنایا جو بالکل یورپی طرز کا ہے جو بھی لوگ میرپور جاتے ہیں یعنی نئے میرپور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ بالکل یورپ کی طرز پر بنا ہوا ہے۔ یہ تو بات بر سبیل تذکرہ اگئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے علاوہ کچھ اور دشمن بھی اس سازش میں شریک ہیں اس لیے کہ آزادکشمیر کو مقبوضہ کشمیر سے الگ کر کے اگر دیکھا جائے گا تو اس کی کچھ حیثیت نہیں ہے ریاست جموں و کشمیر کا مجموعی رقبہ 8471 مربع میل ہے اور موجودہ آزاد کشمیر کا رقبہ بمشکل پانچ ہزار مربع میل ہے جبکہ گلگت بلتستان کا علاقہ 28 ہزار مربع میل ہے باقی کشمیر کے 52 ہزار مربع میل پر بھارت کا قبضہ ہے قیام پاکستان سے پہلے کشمیر جانے والا ہر راستہ راولپنڈی سے ہو کر جاتا تھا۔ لیکن ایک راستہ ایسا بھی تھا جو گورداس پور سے ہو کر جاتا تھا۔ گورداس پور مسلم اکثریت کا علاقہ تھا کیونکہ اس وقت قادیانیوں کو کافر نہیں قرار دیا گیا تھا اس بارے میں مسلمان کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے یا طاقت نہیں رکھتے تھے کشمیر پر قادیانیوں کی بہت پہلے سے نظر تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین بھیروی مہاراجہ گلاب سنگھ کے درباری بن گئے تھے۔ تاکہ اس کی خوشنودی حاصل کر سکے۔ اس طبقے نے ہر مسلم دشمن قوت کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply