گلگت بلتستان الیکشن: پی پی پی اور نہ لیگ کی بڑی جنگ، کون جیتے گا؟

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

گلگت بلتستان میں 7 جون 2026 کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ الیکشن پاکستانی سیاست کے لیے بہت اہم ہے۔ گلگت بلتستان خطہء کشمیر کا ماضی میں حصہ رہا ہے اور کشمیر کے حق خود ارادی کے فیصلوں میں اس کا بھی حصہ ہوگا۔ اس پس منظر میں اس تجزیہ کو دیکھیے۔
اس بار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف دونوں نے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ دونوں کی یہ غیر معمولی دلچسپی عوام میں بڑے سوال پیدا کر رہی ہے۔

  1. گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں سے الیکشن ہوں گے۔ کل 403 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 272 آزاد امیدوار اور 131 جماعتوں کے امیدوار شامل ہیں۔ یہاں خواتین کے لیے 8 الگ نشستیں بھی ہیں۔ آزاد امیدواروں کی یہ بڑی تعداد کبھی نہیں دیکھی گئی۔
    اتحریک انصاف کو انتخابی نشان ‘بلے’ سے محروم کر دیا گیا ہے، اس لیے اس کے زیادہ تر کارکن آزاد امیدوار بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ 2020 میں تحریک انصاف نے 9 سیٹیں جیتیں تھیں۔ اب وہی پارٹی آزاد امیدواروں کی شکل میں واپس آئی ہے۔
    بلاول بھٹو کی مہم: آٹھ بڑے جلسے
    بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن آصفہ بھٹو نے خود گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے 8 بڑے جلسے کرنے کا شیڈول بنایا ہے:
    31 مئی: شگر
    1 جون: خپلو
    2 جون: اسکردو
    3 جون: دیامر (بلاول) اور ہنزہ (آصفہ)
    4 جون: غذر (بلاول) اور نگر (آصفہ)
    5 جون: گلگت
    یہ شیڈول دکھاتا ہے کہ بلاول نے گلگت کے تمام اہم علاقوں کا احاطہ کیا ہے، بشمول دور دراز شگر، خپلو، دیامر، ہنزہ، غذر اور نگر۔ یہ ایک بہت بڑی مہم ہے۔
    نواز شریف کا دورہ: ایک دن کی اہم مہم
    نواز شریف نے یکم جون کو گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کیا۔ وہ تین مقامات پر عوامی جلسوں سے خطاب کرنے والے تھے۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں اور انتخابی حکمت عملی حتمی کی۔
    مسلم لیگ ن نے 22 امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ ان میں گلگت، ہنزہ، اور اسکردو کے اہم حلقوں کے لوگ شامل ہیں۔ یہ حکمت عملی بتاتی ہے کہ ن لیگ نے اہم جگہوں پر توجہ دی ہے۔
    پاکستان میں شریک اقتدار اتحادی دونوں جماعتوں کی اس الیکشن میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟
    سوال یہ ہے کہ بلاول اور نواز دونوں کی اتنی بڑی کوشش کیوں ہے؟
    کیا انہیں مقتدر حلقوں کی خوشنودی چاہیے؟ یا کوئی اور وجہ ہے؟
    اس کے کئی جواب ہیں:
    پہلی وجہ: حکومت بنانے کا موقع ملے گا۔
    گلگت بلتستان میں کل 34 نشستیں ہیں (24 براہِ راست + 6 خواتین + 4 ماہرین)۔ حکومت بنانے کے لیے 18 سیٹیں درکار ہیں۔ جو جماعت یہاں حکومت بنائے گی، وہ تمام منصوبوں، روزگار اور فنڈز کی تقسیم پر رکھنے والی ہے۔ یہ ایک بڑی طاقت ہے۔
    دوسری وجہ: صوبائی حیثیت کا وعدہ
    گلگت بلتستان کو ابھی تک پاکستان کا مکمل صوبہ نہیں بنایا گیا۔ یہاں کے عوام کی سب سے بڑی خواہش صوبائی حیثیت ملنا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ “گلگت بلتستان کو حقوق دو”۔ پیپلز پارٹی کا وعدہ ہے کہ وہ اسے صوبہ بنائے گی۔ یہ وعدہ بہت سے ووٹوں کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔
    لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پاکستان اسے صوبے کا درجہ نہیں دے سکتا کیونکہ کشمیر پر پاکستان کا موقف اس فیصلے سے کمزور ہوتا ہے۔
    تیسری وجہ: سی پیک کا کنٹرول
    گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سب سے اہم حصہ ہے۔ گوادر سے خپلو تک تمام اہم سڑکیں اور منصوبے یہاں سے گزرتے ہیں۔ جس جماعت کی حکومت ہوگی، وہ ان منصوبوں پر نظر رکھے گی۔ یہ قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔
    چوتھی وجہ: 2024 کے الیکشن کا بدلہ
    2024 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کو بڑی سیٹیں کھونی پڑی تھیں۔ اب گلگت بلتستان میں کامیابی سے دونوں جماعتیں اپنی مقبولیت کو واپس لا سکتی ہیں۔ خاص طور پر نواز شریف کی سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ وہ عملی سیاست میں اپنی واپسی کا اس طرح اعلان کر رہے ہیں۔ اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد وہ کسی حد تک گوشہ نشین ہو کر رہ گئے تھے
    پانچویں وجہ: صوبائی حکومتوں کا فائدہ
    پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی۔ گلگت بلتستان میں کامیابی سے دونوں صوبائی حکومتوں کو فائدہ ہوگا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں ان کا اثر بڑھ جائے گا۔
    مقابلہ کس کا ہے؟
    2020 کے نتائج:

    تحریک انصاف: 9 سیٹیں
    آزاد امیدوار: 7-8 سیٹیں
    پیپلز پارٹی: 4 سیٹیں
    مسلم لیگ ن: 2 سیٹیں

    اس بار صورتحال بدل گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے 23 اور ن لیگ کے 22 امیدوار ہیں، جو کہ قریب قریب برابر ہے۔ دونوں جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔
    تحریک انصاف کی کیا صورت حال ہے؟
    پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کرنے کے بعد، اس کے کارکن آزاد امیدوار بن گئے ہیں۔ 272 آزاد امیدواروں میں سے زیادہ تر پی ٹی آئی کے ہیں۔ 2020 میں آزاد امیدواروں نے 7-8 سیٹیں جیتیں تھیں۔ اس بار بھی آزاد امیدوار اہم کردار ادا کریں گے۔
    دیگر جماعتوں میں اسلامی تحریک (10 امیدوار)، جمعیت علماء اسلام (9 امیدوار)، اور جماعت اسلامی (6 امیدوار) شامل ہیں۔ یہ جماعتیں دیامر، گانچھے جیسے علاقوں میں مضبوط ہیں۔
    تین ممکنہ نتائج ہوسکتے ہیں۔
    پہلا: پیپلز پارٹی کی جیت
    اگر بلاول بھٹو کی مہم کامیاب ہوئی اور پیپلز پارٹی نے 10-12 سیٹیں جیت لیں، تو وہ حکومت بنا سکتی ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کے بعد دوسری بڑی کامیابی ہوگی۔
    دوسرا: ن لیگ کی فتح
    اگر نواز شریف کی حکمت عملی کام کرے اور ن لیگ 10-11 سیٹیں جیتے، تو وہ حکومت بنا سکتی ہے۔ یہ نواز شریف کی سیاسی واپسی کا اہم قدم ہوگا۔
    تیسرا امکان: مخلوط حکومت کا ہے۔
    اگر کوئی بھی واضح اکثریت نہ پا سکے، تو مخلوط حکومت بنے گی۔ 2020 میں بھی ایسا ہوا تھا جب تحریک انصاف نے اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنائی تھی۔
    مقتدر حلقوں کا کردار
    کیا دونوں قیادتوں کو مقتدر حلقوں کی خوشنودی چاہیے؟ تجزیہ کار کہتے ہیں:
    نواز شریف کی سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ انہیں فوجی قیادت کی حمایت حاصل ہے، جو کہ 2024 کے بعد پہلی بار ہے۔
    بلاول بھٹو کی مہم بھی بتاتی ہے کہ انہیں مرکزی حکومت سے اجازت ملی ہے، کیونکہ انہوں نے گلگت بلتستان کے حقوق کی بات کی ہے۔
    دونوں قیادتوں کی یہ اتنی سرگرمی بتاتی ہے کہ وہ دونوں ہی کسی حد تک سرپرستی حاصل کر رہے ہیں۔
    علاقائی عوام کی کیا خواہش ہے؟
    گلگت بلتستان کے عوام کی بڑی خواہش صوبائی حیثیت کی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ “اسلام آباد میں فیصلے ہوں گے تو مسائل حل ہوں گے”۔ یہ بیانیہ علاقائی عوام کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
    نواز شریف نے ترقیاتی کاموں پر زور دیا ہے۔ ن لیگ نے مقامی لوگوں کو ٹکٹ دیے ہیں، جو کہ مقامی حمایت کا اشارہ ہے۔
    چیلنجز کیا ہیں؟
    گلگت بلتستان میں الیکشن کے کئی مشکلات ہیں:
    دور دراز علاقے، برفباری، اور ٹرانسپورٹ کی دشواری
    سیاسی عدم استحکام، جماعتوں کے درمیان کشیدگی
    آئینی عدم یقینی، صوبائی حیثیت کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

*چین، بھارت، اور افغانستان کے درمیان تزویراتی اہمیت*

گلگت بلتستان کے انتخابات صرف علاقائی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ بلاول بھٹو اور نواز شریف کی غیر معمولی دلچسپی کی بہت سی وجوہات ہیں: سیاسی طاقت، سی پیک کا کنٹرول، صوبائی حیثیت، اور قومی سفارتکاری۔
مقتدر حلقوں کی خوشنودی شاید ایک وجہ ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ دونوں قیادتیں اپنی سیاسی بقا کے لیے گلگت بلتستان میں کامیابی چاہتی ہیں۔
*آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد کیوں؟*
، پی ٹی آئی کی عدم موجودگی، کی وجہ سے اور دو بڑی جماعتوں کا براہِ راست مقابلہ ہورہا ہے — یہ سب مل کر ایک سنسنی خیز منظر پیش کر رہے ہیں۔ عوام کو امید ہے کہ اس بار ان کے حقوق ملیں گے اور علاقے کو صوبائی حیثیت ملنے کی طرف بڑھنے کا راستہ ملے گا۔
7 جون کو جو نتائج آئیں گے، وہ نہ صرف گلگت بلتستان کی بلکہ پاکستانی سیاست کے مستقبل کی سمت بھی طے کریں گے۔ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہے، اور کامیابی کا انحصار عوام کے فیصلے پر ہوگا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *