کراچی: میڈ ان پاکستان کا دبئی یا ہانگ کانگ بن سکتا ہے ؟

پاکستان کا معاشی مرکز، کراچی، اس وقت ایک عجیب و غریب پوزیشن میں ہے۔ شہر ملک کی 80 فیصد کاروباری اور صنعتی پیداواری سرگرمیوں کا مرکز ہے ۔ ملک بھر کے کم از کم 65 فیصد ٹیکس کی وصولی یہاں سے ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ گلوبل ہبز جیسے ہانگ کانگ یا دبئی کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا۔ اس لیے کہ اس شہر کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو دبئی اور ہانگ کانگ کو حاصل ہیں۔ اس لیے کہ صوبائی حکومتیں اور مقامی حکومت کے درمیان نسلی اور لسانی تعصبات کی دیوار کھڑی ہے جبکہ کراچی شہر پر پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے لیکن لسانیت کا زہر پھیلانے والوں نے اسے صرف اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے اور صوبائی حکومت نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ یہ شہر ان کا نہیں ہے۔ اس لیے شہر کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا انتظام ان ہاتھوں میں جائے جو لسانیت اور صوبائیت سے پاک ہوں۔

جب تک کہ وفاقی حکومت اسے ایک الگ وفاقی شہر اور بزنس فرینڈلی سٹیٹ کی حیثیت نہ دے اور ایسے اقدامات نہ کرے جو شہر کی ترقی کے لیے ضروری اور لازمی ہیں ۔ دنیا میں ہماری کرنسی کو اسی وقت طاقت ملے گی جب ہم عالمی منڈی میں اپنی بنائی ہوئی چیزیں پیش کریں گے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے صنعتی شہروں کو وہ سہولت مہیا کریں جو عالمی منڈی کو اپنی مصنوعات سے بھر دیں۔


میڈ ان پاکستان کے تصور کے ساتھ، کراچی کو ٹرانسپورٹ، سستی بجلیکی سہولیات دیتے ہوئےاور پروڈکشن کے حوالے سے جدید اقدامات سے ہی پاکستان گلوبل مارکیٹ میں مقابلہ کر سکے گا، بصورت دیگر یہ شہر کراچی غیر ملکی مصنوعات کاگودام بنا رہے گا۔


کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام اس قدر تکلیف دہ ہے ک 20 کلومیٹر کا سفر ڈھائی گھنٹے میں طے ہوتا ہے، جو کہ زیادہ سے زیادہ 20 منٹ میں طے ہو نا چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی اس سست رفتاری سے شہر کی پیداواری صلاحیت 30-40 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ ٹریفک جام، بی آر ٹی لائنز کی سہولتوں کا نہ موجود ہونا اور سڑکوں کی تعمیر کے نام پر برسوں تک شہر کو کھود کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کو دانستہ ترقی کرنے سے روکا جا رہا ہے اور شہر کو صرف ایک لسانی قوت کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا ہے جب شہر کے عوام نے اس قوت کو مسترد کر دیا تو اسے جبرا” عوام پر مسلط کیا گیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں ان کو تحفے میں دے دی گئی جبکہ عوام نے ان کو ایک فیصد بھی ووٹ نہیں دیا تھا ۔کیونکہ اقتدار میں آنے والی جماعتوں کو وہی لسانی گروہ پسند ہے۔ ماضی میں اسی گروہ نے شہر میں پہلے سے قائم سرکلر ریلوے کو ختم کیا جو مستقبل میں شہر کی میٹرو ٹرین بن سکتی تھی لیکن اس گروہ نے ریلوے کی زمینوں پر ناجائز قبضے کرائے اور اب شہر کی ترقی کو مشکل بنانے میں اسی گروہ کو بجائے اس کے کہ سزا دی جاتی اقتدار تھما دیا گیا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی تھما دی گئی اس کے غنڈوں کو وزیر بنا دیا گیا۔ جنہوں نے شہر کا امن غارت کیا جس کے نتیجے میں سرمایہ کار اس شہر سے بھاگ گئے اور شہر میں روزگار کے بجائے بھوک و افلاس نے اپنی جگہ بنا لی۔

اس وقت شہر کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کے مواقع پر بروقت پہنچنا ہے جس کو سب سے پہلے مشکل انہی لوگوں نے بنایا اور دیگر حکمرانوں نے اسی طرز پر کام کیا۔ سمندری پورٹ سے ایئرپورٹ تک کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے ایئرپورٹ–پورٹ ٹرمینلز کے درمیان ٹرانسپورٹ کا عدم توازن اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ 2025 کے ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان کے مطابق، شہر کو ہر ڈسٹرکٹ کے لیے بی آر ٹی، ریل، اور لائٹ ٹرام سسٹم کی ضرورت ہے، لیکن یہ صرف اس وقت کامیاب ہو گا جب یہ ایک کمپیوٹرائزڈ ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم (TMS) کے ساتھ جڑے گا جو ٹریفک کی مانیٹرنگ، ٹائم ٹیبل، اور ایمرجنسی ریسپانس کو ایک جیسے ڈیش بورڈ پر لائے۔ ریڈلائن اور ییلو لائن بی آر ٹی کو 24/7 مینٹیننس اور ہائی ٹیک سگنلائزیشن کے ساتھ ہر صنعتی زون تک جوڑنا چاہیے، تاکہ لاجسٹکس کا ٹائم کم ہو کر ملک کی پیداوار کو گلوبل ڈیلیوری کے لیے تیار کرے۔ ہالیڈے ٹرانسفر نظام یا ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ ٹولز جیسے ریئل ٹائم ایپس اور ایوائرنس سسٹمز کو ایک ملکی پلیٹ فارم پر جمع کرنا، ٹیکسی، ریکس، اور فریٹ کارگو کے لیے ایک سپرہائی وے نیٹ ورک بنائے جو میڈ ان پاکستان کے یونٹس کو ایک ہی مرکز سے جوڑے۔

کراچی میں بجلی کا عدم توازن ہے ، جبکہ اسٹیبلٹی کی ضرورت ہے، اور ہائی ٹیکنالوجی فیکٹریوں کو مسلسل بجلی کی ضرورت ہے لیکن غیر ملکی ائی پی پیز اپنے اس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں کہ پاکستان کے اندر انڈسٹریل پروڈکشن کو اتنا مہنگا بنا دیا جائے کہ وہ عالمی منڈی میں مقابلہ نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کے ناقص نظام کی وجہ سے فیکٹریاں ہر گھنٹے 20-30 فیصد نقصان کا سامنا کرتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہر یونٹ اپنے ہی جنریٹرز چلاتا ہے، لاگت 50 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، اور پیداوار کا شیڈول ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ سب پاکستانی مصنوعات کی ایکسپورٹ کی ساکھ کو کم کرتا ہے، کیونکہ گلوبل گاہکوں کو ٹائمنگ اور کوالٹی کی یقین دہانی چاہیے۔ 2026 کے ایک دستاویز کے مطابق، کراچی کے ہر صنعتی زون کے لیے 24 گھنٹے ہائی وولٹیج سپلائی، ڈیجیٹل میٹر، گریڈ سٹیشن، اور ٹرانسفارمرز کی ریموٹ مانیٹرنگ کی ضرورت ہے، جو ایک ایکسٹرنل گرڈ سے جڑی ہوگی۔ قابل تجدید توانائی (سولر، گرین ہائیڈرو، گرین گیس) کو ایک گرین ہب بنانے کے لیے اولیت دینا ضروری ہے، 2025 کے گرین ٹرانزیشن پلان کے مطابق، ہر یونٹ کی لاگت کو 25-30 فیصد کم کرے گا اور ایکسپورٹ ٹیکس کی برداشت کو آسان بنائے گا۔ ہر صنعتی ایریا میں ہائی ڈیمانڈ مانیٹرنگ سسٹم، جوگلوبل ڈیٹا کے ساتھ منسلک ہوگا، تاکہ ٹرانسمیشن کے لیے تمام ذرائع ایک نیٹ ورک کے نیچے ہوں نام نہاد ٹرانسمیشن کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں کو بلا جواز مہنگا کیا ہے۔ جس سے بجلی کی قیمتیں اور ٹیکسیشن ایک ہی چھوٹے پلیٹ فارم پر ہوں گی؛ یہ ایک “بزنس کارڈ” کے طور پر ہر کاروبار کو ٹیکس ریبیٹ، ایکسپورٹ ٹیکس ریلیف، اور گرین سرٹیفیکیٹ پیش کرے گا۔

کراچی میں 3.5 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاروبار، 1,402 ارب روپے ٹیکس، اور 80 ہزار چھوٹے–درمیانے یونٹس کے ساتھ ایک چھوٹے ایشیائی ملک کی اکنامی کی طرح ہے، لیکن یہ اپنی پوری صلاحیت کا استعمال نہیں کر رہا کیونکہ 9.28 ارب روپے کے 2025 کے ترقیاتی پیکیج کو صرف اسفالٹ اور روڈ کی حد تک لےگیا ہے۔ یہ صنعتی زونز کو گرین فیکٹریز، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، وینٹی لیشن، اور ہائی ٹیکنالوجی کے لیے ایک ہی ایکٹ کے ساتھ ایک ہی اسٹیٹ ایکسپریس ویے پر لا کر، ہر یونٹ کو 20 فیصد کاروباری ٹیکس کمی کے ساتھ ایک ہی اپلیکیشن سے رجسٹر کرنا چاہیے، جو ایک ہی اکاؤنٹ میں ٹیکس، ٹیکس ریفنڈ، اور ایکسپورٹ ڈیوٹی ریلیف کو جوڑے گا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت، 2026 کے گرین ہب پروگرام کے تحت، کراچی کے ای ایس ایز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو ہانگ کانگ یا دبئی کی طرح ایک ہی ہائی ڈیمانڈ ہائی ٹیکنالوجی ہبل بنائے گا، جہاں ہر یونٹ کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، ٹیکسیشن چھوٹ، اور گرین سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا، جو ایک ہی پلیٹ فارم پر گلوبل گاہکوں سے کنیکٹ کرے گا۔ یہ ایک ہی ایکسپورٹ زون (KAR-EZ) ہوگا، جہاں ہر یونٹ کو ایک ہی ہیوی ٹرانسپورٹ ٹرمینل، ہوائی اڈے، اور پورٹ ٹرمینل کے ساتھ ہک کر دیا جائے گا، جس سے ٹرانزٹ تیاری 48 گھنٹے کے اندر ہو جائے گی اور پیداوار کی قیمت 20 فیصد کم ہو جائے گی؛ یہ ایک ہی ایکسوپورٹ ٹریڈنگ ٹول (KAR-EXPORT) ہوگا، جو ایک ہی اپلیکیشن میں ٹیکس، ٹیکس ریفانڈ، اور گلوبل گاہک کنیکٹیویٹی کو جوڑے گا۔

کراچی کو ایک الگ وفاقی شہر بنانے کی ضرورت

اس وقت کراچی کے مسائل کو سیاسی اور انتظامی مقاصد کے لیے نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ بھی20 سال تک حل نہیں ہوتا۔ 2026 کے ڈیٹا کے مطابق، شہر کی ٹیکس وصولی 30 فیصد، ٹیکسٹائل پیداوار 40 فیصد، اور ہارڈ ویئر ٹیکسٹائل 80 فیصد کے ساتھ ہے، لیکن یہ انتظامی، سیکیورٹی، اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ہر معمولی چیلنج کو نظر انداز کرنے سے ہر یونٹ کی پیداوار 20 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ کراچی کو ایک الگ وفاقی شہر یا “سٹیٹ” کی حیثیت دی جائے، جہاں ہر ادارہ ایک ہی ایکسٹرنل گرڈ سے جڑا ہوگا، ہر ادارہ ایک ہی ڈیٹا پلیٹ فارم پر ہوگا، اور ہر یونٹ کو ایک ہی اپلیکیشن سے ٹیکس، ٹیکس ریفنڈ، اور گلوبل کسٹمرز کو کنیکٹیویٹی ملے گی؛ یہ ایک ہی ایکسٹرنل گرڈ ہوگا، جو ہر ادارہ اور ہر یونٹ کو ہائی ٹیکنالوجی، ہائی ڈیمانڈ، اور ہائی ٹرانسپورٹ سے جوڑے گا، جس سے ہر یونٹ کی پیداوار 20 فیصد بڑھ جائے گی اور گلوبل کسٹمرز کے لیے ہر یونٹ کی قیمت کو 20 فیصد کم ہو جائے گی۔ اس طرح کراچی ہانگ کانگ یا دبئی کی جگہ تو نہیں لے گا، لیکن یہ ایک ہائی ڈیمانڈ ہائی ٹیکنالوجی کا مرکز بن جائے گا، جو گلوبل کسٹمرز کے لیے ٹیکسٹائل، ہارڈ ویئر، فوڈ، اور ہارڈ ویئر کی میڈ ان پاکستان کی مصنوعات کو گلوبل مارکیٹ میں ٹکنیکل گاہکوں کے ساتھ ہی کاروبار کرے گا۔


جدید ترین معلومات کے مطابق، 2026 کے گلوبل ٹرانزیشن ٹریکنگ سسٹم (GTS) کے مطابق، ہر گلوبل کسٹمر ہائی ٹیکنالوجی، ہائی ڈیمانڈ، اور ہائی ٹرانسپورٹ کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ کیا ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی یہ چاہتی ہیں؟؟

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *