ٹرمپ پالیسیوں کے تحت تارکینِ وطن کی ’رضاکارانہ واپسی‘ میں اضافہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری حکومت کے دوران امریکہ میں زیرِ حراست رہنے اور پناہ کی درخواستوں میں کم کامیابی کے باعث تارکینِ وطن کی بڑی تعداد “رضاکارانہ واپسی” کا انتخاب کر رہی ہے۔ امیگریشن وکلا کے مطابق یہ عمل بظاہر رضاکارانہ ضرور ہے لیکن حقیقت میں دباؤ پر مبنی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالتی اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک امیگریشن ججوں نے 80 ہزار سے زائد رضاکارانہ واپسی کے احکامات جاری کیے۔ اس طریقے میں افراد کو باقاعدہ ڈی پورٹ نہیں کیا جاتا، جس سے مستقبل میں قانونی طور پر امریکہ واپسی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *