حلال” گوشت کا بھارتی جھوٹ

گائے کو اسلامی طریقے سے ذبح نہیں کیا جاتا

مسلمان ملکوں کو حرام گوشت بھیجا جا رہا ہے

کیونکہ ذبیحہ کمپنیوں کےمالکان مسلمان نہیں ہندو ہیں

اتر پردیش میں حلال سرٹیفیکیٹ پر پابندی ہے اور یہ ساری کمپنیاں اتر پردیش میں ہیں

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

دنیا بھر میں جومسلم ممالک بھارت سے گوشت خریدتے ہیں اور اسے حلال سمجھتے ہیں،یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے جسے بھارتی میڈیا اور حکومت پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھارت میں گائے کو ماں کا درجہ حاصل ہے، اسے ذبح کرنے پر کئی بھارتی ریاستوں میں پابندی ہے، گائے کو ذبح کرنے کا الزام لگا کر مسلمانوں پر گائے رکھشکوں کی طرف سے تشدد کیا جاتا ہے، انہیں قتل تک کر دیتے ہیں، لیکن اسی بھارت سے سالانہ 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا گوشت مسلم ممالک کو برآمد ہو رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ جواب ایک تلخ سچائی ہے: بھارتی گوشت برآمد کرنے والی بڑی کمپنیاں ہندو مالکان کے پاس ہیں جو اسلامی ناموں کے پیچھے چھپ کر مسلمان ممالک کو “حلال” گوشت کے نام پر اپنی مصنوعات بیچ رہے ہیں۔

بھارت دنیا کا دوسرا بڑا بیف ایکسپورٹر
بھارت برازیل کے بعد دنیا میں گائے کے گوشت کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ 2025 میں بھارت کی بیف برآمدات 15 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جو 4 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ 2024 میں گوشت اور اس کی مصنوعات کی برآمدات 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو گزشتہ برس کے 40 کروڈ 60 لاکھ ڈالر سے 20 فیصد زیادہ ہے۔ 2023 میں کل گوشت برآمدات 18 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن تھی۔
یہاں ایک کھلا تضاد ہے: بھارت میں ایک طرف گائے کو “ماں” کا درجہ دیا جاتا ہے، گائے رکھشک مسلمانوں پر یہ الزام لگا کر کہ وہ گائے ذبح کر رہے ہیں حملے کرتے ہیں، اور گائے ذبح کرنے والوں کو قتل کیا جاتا ہے، دوسری طرف اسی بھارت سے مسلمان ممالک کو کروڑوں ڈالر کا گوشت برآمد ہو رہا ہے۔ یہ گوشت حلال بھی ہے یا نہیں؟ یہ معاملہ بھی مشکوک ہے

بھارتی گوشت کے خریدار کون کون سے ممالک ہیں؟
بھارت کی گوشت برآمدات کے اہم ممالک میں ویتنام، ملائیشیا، مصر، عراق، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، کویت، قطر، اور بحرین شامل ہیں۔ یہ پندرہ اہم حلال منڈیاں ہیں جن میں بھارت گوشت وہ بھی بیف برآمد کرتا ہے: بحرین، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ایران، عراق، کویت، ملائیشیا، اردن، عمان، فلپائن، قطر، سعودی عرب، سنگاپور، ترکی، اور متحدہ عرب امارات۔

ویتنام بھارتی بیف کی برآمدات کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ملائیشیا کل برآمدات کا اہم حصہ ہے (2023 میں 26 فیصد میں شامل)۔ مصر 2023 میں بھارت کی برآمدات کا 17 فیصد خریدتا تھا، لیکن اب یہ منڈی کمزور ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک میں عراق، یو اے ای، سعودی عرب، کویت، قطر، اور بحرین اہم منڈیاں ہیں۔

بڑی کمپنیاں اور ان کے ہندو مالکان
بھارت میں گوشت برآمد کرنے والی سب سے بڑی کمپنی الکبیر ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ ہے، جس کے مالکان ستیش سبھروال اور اتول سبھروال ہیں، جو ہندو ہیں۔ ان کا 4 سو ایکڑ کا سلاٹر ہاؤس رودراک گاؤں، تلنگانہ میں واقع ہے، جو بھارت کا سب سے بڑا سلاٹر ہاؤس ہے۔

عربیہ ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک سنیل کپور ہیں (ہندو)، جو ممبئی میں واقع ہیں۔ النور ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک سنیل سوڈ ہیں (ہندو)، شیر نگر، مظفر نگر، اتر پردیش میں۔ اے او بی ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک او پی اروڑا ہیں (ہندو)، اوناو ضلع، اتر پردیش میں۔ اسٹینڈرڈ فروزن فوڈز کے مالک کمل ورما ہیں (ہندو)، چاندپور گاؤں، اوناو، یو پی میں۔ ایم کے آر فروزن فوڈ ایکسپورٹس کے مالک مدن ایبٹ ہیں (ہندو)، ایم جی روڈ، جنتپت، نئی دہلی میں۔ پی ایم ایل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ایس بی بندرا ہیں (ہندو)، سیکٹر تین چار اے، چندی گڑھ میں۔

الکبیر، الکریم، اور عربین ایکسپورٹس جیسے اسلامی ناموں کے پیچھے اکثر غیر مسلم مالکان کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔ یہ زمینی حقیقت ہے جو پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔

اتر پردیش میں 35 لاکھ ہندو گوشت کاروبار سے وابستہ ہیں، جبکہ مسلمان صرف 15 لاکھ ہیں ۔ 40 بڑے ایکسپورٹرز کی اکثریت غیر مسلم ہے۔ گائے کا گوشت کھانے کے مسئلے پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے، لیکن لیکن گائے کا گوشت فروخت کرنے کا کاروبار مکمل طور پر ہندو ہی کرتے ہیں۔

ہند ایگرو انڈسٹریز لمیٹڈ واحد بڑی کمپنی ہے جو 1990 میں قائم ہوئی اور 23 فیصد برآمدات او آئی سی ممالک کو کرتی ہے، جس کے مالک سراج الدین قریشی (مسلم) ہیں۔ یہ واحد کمپنی ہے جس کے پاس ورلڈ آرگنائزیشن فار اینمل ہیلتھ کے سخت ضوابط کے مطابق جانور پالنے اور ذبح کرنے کی سہولت ہے۔

حلال سرٹیفیکیشن پر حکومتی دباؤ
بھارت میں حلال سرٹیفیکیشن پر حکومتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اترپردیش میں حلال سرٹیفکیٹ والی اشیا پر پابندی لگا دی گئی (نومبر 2023 سے)۔ حلال سرٹیفکیٹ دینے والی چار تنظیموں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے 24 گھنٹوں کے عرصے میں ریاست اتر پردیش میں حلال اشیاء کی فروخت پر پابندی لگا دی۔
2024 میں بھارت نے نئی ہدایات جاری کیں: صرف 15 اہم حلال منڈیوں میں ہی گوشت برآمد کیا جا سکتا ہے، اور صرف آئی کیس حلال سرٹیفائڈ اداروں سے۔ یہ دباؤ کیوں؟ کیونکہ مسلمانوں پر دباؤ ڈال کر حرام گوشت کو حلال کہہ کر بیچنا آسان ہو گیا ہے۔

بھارت کا دوغلہ پن: ماں گائے اور برآمدات
بھارت کا دوغلہ پن یہ ہے کہ ایک طرف گائے کو “ماں” کا درجہ دیتا ہے، دوسری جانب دنیا میں دوسرے نمبر پر اسی ماں کے گوشت برآمد کنندہ ہے۔ ہندو مالک مسلمان ناموں سے کاروبار شروع کر کے عرب ممالک کو حلال کہہ کر بیچتے ہیں تاکہ مسلمان ممالک انہیں خریدیں۔ جبکہ یہ گوشت صریحا” مشکوک ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحی کو اس کی اصل روح یعنی جانور کی قربانی کے ساتھ منانے کی اجازت نہیں ہے، بھارت کے 14 فیصد مسلمانوں کو اپنا مذہبی تہوار منانے نہیں دیا جاتا۔ ان پر قربانی کرنے پر پابندی ہے۔ اب کی بار مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ گائے کو قومی جانور قرار دے دیں تاکہ اس کے ذبح پر پابندی لگ جائے، لیکن بھارت ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ یہ کاروبار بہت بڑا ہے۔ پابندی صرف بھارت کے مسلمان شہریوں پر ہے کہ وہ نہ گائے کا گوشت کھائیں نہ کوئی اور جانور ذبح کرے وہ کسی قسم کا گوشت نہ کھائیں۔

مسلم ممالک سے یہ گزارش اور مطالبہ ہے کہ وہ بھارت پر یہ شرط لگائیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے، اس کا گوشت کھانے کی آزادی ہوگی، تب ہی ہم آپ کا یہ گوشت خریدیں گے۔ ورنہ بصورت دیگر ہمارے لیے یہ شک ہے کہ یہ حلال گوشت ہے یا نہیں۔

آپ کے سرٹیفکیٹ اور وہاں کے مسلمانوں کے سرٹیفکیٹ کو ہم نہیں مانتے جن پر دباؤ ہے۔ ان پر دباؤ ڈال کر بھی حرام گوشت کو حلال گوشت کہہ سکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیے گئے ہوں، یہ ضروری نہیں کہ ذبح بھی کیے گئے ہیں یا نہیں۔ تو بھارتی گوشت کے بارے میں شکوک و شبہات رہیں گے کہ یہ حلال ہے یا نہیں۔

اسرائیل کو گوشت کی برآمدات؟
بھارتی گوشت کا کوشر کی شکل میں اسرائیل جانے کے بارے میں براہ راست تصدیق نہیں ہوئی ۔ بھارت کی 15 حلال منڈیوں میں اسرائیل شامل نہیں ہے۔ کیونکہ اسرائیل بھارت کے گوشت کو حلال یا کوشر تسلیم نہیں کرتا اسے بھارت کے حفظان صحت پر بھی تحفظات ہیں۔
تاہم بھارت اسرائیل کو ہتھیار اور دفاعی پرزے برآمد کرتا ہے (دوسرا بڑا ملک)۔ کوشر گوشت یہودی طریقہ ذبح ہے جو حلال سے ملتا جلتا ہے لیکن مختلف مذہبی تقاضے ہیں۔

نتیجہ: ہوٹل کا نام بدل کر کچن نہیں بدلتا
بھارتی گوشت برآمدات کا کاروبار ایک بڑی سازش ہے بھارتی حکومت مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اسلامی ناموں کے پیچھے ہندو مالکان، حکومتی دباؤ پر حلال سرٹیفکیٹ، مسلمانوں پر ذبح کی پابندی، لیکن برآمدات میں اضافہ – یہ سب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ بھارتی گوشت کا بائیکاٹ کریں یا پھر مستقل شرط لگائیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو آزادی ہو، تب ہی خریدیں گے۔ کیونکہ یہ صرف گوشت کا مسئلہ نہیں، یہ مسلمانوں کے حقوق، مذہبی آزادی، اور انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔

ہوٹل کا نام بدل دینے سے
کچن نہیں بدلتا، اسی طرح اسلامی ناموں کے پیچھے چھپ کر حلال گوشت کا دھوکہ دینا مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور بھارتی گوشت پر پابندی لگائیں، جب تک بھارت مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کی مکمل آزادی نہیں دیتا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *