حقائق یہ ہیں: بھارت اور مکتی باہنی کا جھوٹ کھل گیا

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

آج کے اس دور میں جب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے، معاشی تعاون بڑھانے اور پرانے زخموں کو بھرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، بھارت ایک بار پھر 1971ء کے مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش کے مبینہ قتل عام کے پرانے، متنازعہ اور غیر منطقی اعداد و شمار کو اٹھا کر علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور منظم پروپیگنڈا ہے۔ اس کا واحد مقصد پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دینا، دونوں اسلامی ممالک کے درمیان ابھرتی ہوئی باہمی افہام و تفہیم کو زہر آلود کرنا اور بنگلہ دیش کے عوام کے ذہنوں میں پاکستان مخالف جذبات کو دوبارہ بھڑکانا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 1971ء کی آزادی کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں تعینات پاکستانی فوج کی کل تعداد صرف 50 ہزار کے قریب تھی۔ یہ تعداد نہ صرف لڑاکا فوجیوں کی تھی بلکہ اس میں لوجسٹک، انتظامی، میڈیکل اور دیگر سپورٹ سٹاف بھی شامل تھے۔ اگر بھارت، عوامی لیگ اور مکتی باہنی کا بار بار دہرایا جانے والا دعویٰ مان لیا جائے کہ اس جنگ میں 30 لاکھ بنگالی شہید ہوئے تو یہ بات منطق اور حقیقت سے بالکل بالاتر ہے۔ ایک ایسی فوج جو تعداد میں اتنی محدود تھی، پورے مشرقی پاکستان میں پھیلے ہوئے علاقوں میں اتنا بڑا منظم قتل عام کیسے انجام دے سکتی تھی؟ اور اگر واقعی 30 لاکھ افراد کو قتل کیا گیا ہوتا تو اس علاقے سے ایک الگ خودمختار ملک یعنی بنگلہ دیش کا وجود ہی ممکن نہ ہوتا۔ ایک فوج جو اپنے ہی علاقے کے تیس لاکھ شہریوں کو ختم کر دے، وہاں سے علیحدگی کی تحریک کامیاب کیسے ہو سکتی تھی؟ یہ اعداد و شمار نہ صرف غیر منطقی ہیں بلکہ تاریخی حقائق، جغرافیائی حقیقت اور فوجی صلاحیت کے بھی سراسر خلاف ہیں۔
مزید برآں، جنگی قیدیوں کی تعداد اس پورے دعوے کو مکمل طور پر جھٹلاتی ہے۔ پاکستانی فوج کے اہلکاروں کے علاوہ سرکاری ملازمین، پولیس اہلکار اور دیگر متعلقہ افراد سمیت کل 90 ہزار کے قریب پاکستانی بھارت کے جنگی قیدی بنے۔ یہ تعداد واضح طور پر بتاتی ہے کہ اصل لڑاکا فوجیوں کی تعداد اس سے بھی کم تھی۔ 50 ہزار فوجیوں میں سے بھی سب کے سب میدان جنگ میں لڑنے والے نہیں تھے۔ بہت سے فوجی انتظامی ڈیوٹی پر مامور تھے، سپلائی لائنز سنبھال رہے تھے یا دیگر معاون کاموں میں مصروف تھے۔ اس محدود فوجی طاقت کے باوجود 30 لاکھ اموات کا دعویٰ کرنا صرف اور صرف غلو (exaggeration) ہے۔ بھارت، عوامی لیگ اور مکتی باہنی نے یہ اعداد جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیے تاکہ بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں پاکستان کے خلاف شدید اور دائمی نفرت پیدا کی جا سکے۔ یہ ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا جسے بھارت آج بھی مختلف مواقع پر زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان فاصلے برقرار رہیں۔
اس پورے تنازعہ کے حوالے سے سب سے مستند، معتبر اور اندرونی تحقیق حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان حکومت کی اپنی انکوائری کمیشن تھی جس نے جنگ کے بعد تفصیلی تحقیق کی۔ کمیشن نے واضح طور پر بیان کیا کہ سویلین ہلاکتیں صرف 26 ہزار کے قریب تھیں۔ اس رپورٹ میں فوجی قیادت کی کچھ سیاسی غلطیوں کا بھی اعتراف کیا گیا جن کا نتیجہ ملک کی تقسیم کی صورت میں نکلا۔ تاہم یہ غلطیاں اس وقت کی مارشل لا قیادت کی تھیں جو ملک کے اقتدار پر براجمان تھی۔
آپریشن سرچ لائٹ ایک سیاسی فیصلہ تھا، نہ کہ کوئی منظم نسل کشی یا قتل عام کی مہم۔ کمیشن کی یہ رپورٹ آج بھی ان لوگوں کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے جو 30 لاکھ کا ڈرامائی دعویٰ کرتے ہیں۔
1971ء کا واقعہ یقیناً ایک المناک باب ہے۔ اس جنگ نے دونوں طرف لاکھوں خاندانوں کو متاثر کیا، بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اور خطے کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ مگر تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ بھارت کا یہ رویہ کہ وہ بار بار ان اعداد کو اٹھاتا ہے، دراصل دونوں ممالک کے درمیان پرانے زخموں کو کھرچنے کے مترادف ہے۔ آج کے دور میں جب پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں معاشی ترقی کے نئے مراحل سے گزر رہے ہیں، تجارت بڑھانے، سرحدوں پر امن قائم کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، تو بھارت کی یہ مداخلت پسندی دونوں ممالک کے عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
بنگلہ دیش کے اور پاکستان کے عوام دونوں کو اب آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پرانے پروپیگنڈے اور جھوٹے اعداد و شمار کو دوبارہ زندہ کرنے کی بجائے باہمی احترام، حقیقت پسندی اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔ دونوں ممالک اسلامی بھائی چارے کا حصہ ہیں۔ ان کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافت اور تاریخی پس منظر ہے۔ بھارت کو اپنے مداخلت پسندانہ رویے سے باز آنا چاہیے اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے دینا چاہیے۔
تاریخ سبق دیتی ہے کہ جھوٹ اور غلو زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے۔ وقت کے ساتھ حقائق خود کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ 1971ء کے اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت اور مکتی باہنی نے بہت بڑا جھوٹ بولا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اس جھوٹ سے نکل کر ایک روشن اور باہمی احترام پر مبنی مستقبل کی طرف بڑھیں

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *