بارود، سازش اور پردۂ اغیار: بھارت پاکستان کے اندرونی انتشار کا سہولت کار

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی محض اندرونی خلفشار نہیں، بلکہ ایک منظم، بین الاقوامی سازش کا نتیجہ بھی ہے۔ تازہ بین الاقوامی رپورٹس، گرفتار دہشت گرد کمانڈروں کے اعترافات اور آپریشنل نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے گروپ صرف نظریاتی اختلاف رکھنے والے الگ الگ بازو نہیں؛ یہ باہم منسلک، وسائل بانٹنے اور مشترکہ اہداف رکھنے والے نیٹ ورکس ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی 2026 رپورٹ (S/2026/44) نے اسی باہمی تعاون کی تصدیق کی، اور 2024–25 کی گرفتاریاں اس جال کی ساخت کو واضح کرتی ہیں۔
یہ نیٹ ورکس افغانستان کو اپنے محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہاں سے اسلحہ، تربیت اور لوجسٹک مدد ملتی ہے جس سے پاکستانی سرزمین پر حملے ممکن بنتے ہیں۔ سی پیک اورپاک چین مفادات کو نشانہ بنانے کا مشترکہ ہدف، ان گروہوں کی دہشت گردی کو بیرونی اثرو رسوخ سے جوڑتا ہے۔ جب کسی علاقائی منصوبے کو توڑنے میں بیرونی طاقتوں کا مفاد ہو، تو پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پھیلانا ایک سستا اور مؤثر حربہ بن جاتا ہے۔
دستاویزی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ نیٹ ورکس صرف خودکش حملوں یا ہائی جیکنگ تک محدود نہیں۔ ان میں مالی معاونت، اسمگلنگ روٹس، جعلی شناخت، اور آن لائن پروپیگنڈا شامل ہیں۔ اثاثوں کی منتقلی اکثر خفیہ چینلز اور بین الاقوامی سہولت کاروں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور دہشت گردی اور لائبہ کیس جیسے واقعات نے دکھایا کہ تربیت، مہارت اور منصوبہ بندی کا تعلق سرحد پار تربیتی مراکز سے تھا — اتفاقی نہیں، منصوبہ بند تھا۔
سب سے شرمناک اور حالیہ طور پر سامنے آنے والا پہلو خواتین کا منظم استحصال ہے۔ بی ایل اے اور اس کے پراکسیز نے خواتین کو بھرتی کرنے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ایک منظم نظام وضع کر رکھا ہے۔ یہ بھرتی اکثر فریب، جھوٹے تعلقات یا زور زبردستی کے ذریعے ہوتی ہے۔ جب خاندانوں کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی بیٹیاں دہشت گرد کیمپوں میں ہیں، تو وہاں تربیتی مراکز نہیں بلکہ تشدد، جنسی استحصال اور ذہنی شکنجہ نظر آتا ہے۔ خواتین کو “قربانی” یا “بہادر سپاہی” کہنے کا پروپیگنڈا اصل جرم کو چھپانے کی کوشش ہے — حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد استعمال کیے گئے، توڑ دئیے گئے اور پھر مبینہ نظریاتی رنگ دے کر میدان میں اتارے گئے۔

یہ منظم استحصال صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؛ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا گھرانہ ہوتا ہے، ہر خودکش حملہ ایک معاشرے کے خوف کو پنکچر کرتا ہے۔ 2025 میں پاکستان میں رجسٹر ہونے والے ہزاروں حملے اور ہزاروں ہلاکتیں محض اعداد و شمار نہیں — یہ اس سازشی نیٹ ورک کی کارکردگی کا ثبوت ہیں جسے بیرونی سہولت کار سہارا دیتے ہیں۔

کچھ ثبوت براہِ راست ہیں: بین الاقوامی رپورٹس، گرفتار کمانڈروں کے اعترافات اور ویڈیوز۔ بعض شواہد بالواسطہ مگر معنی خیز ہیں: مشترکہ اہداف (سی پیک)، ساز و سامان کی سرحدی منتقلی، اور آن لائن بھرتی کے ایک جیسے طریقے۔ یہ نشانات اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ کچھ بیرونی کھلاڑی اس عدم استحکام کو بڑھاوا دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب بھی ایک طاقت اپنے علاقائی مفادات میں خلل محسوس کرتی ہے، تو پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے نقصان پہنچانا اس کی ترجیح بن جاتا ہے — اور ہمارے ثبوت یہی بتاتے ہیں کہ بھارت کبھی کبھار اسی راہ کا انتخاب کرتا آیا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دشمنی یا حملہ کی پشت پر براہِ راست بیرونی مداخلت ہے۔ بہت سی مقامی نوعیت کی وجوہات بھی ہیں۔ مگر جب کارروائیوں کے پیٹرن، اہداف اور آپریشنل طریقے بار بار ملتے ہوں، تو محض اتفاقی کہنا عقلی نہیں رہتا۔ قومی و علاقائی مفادات کے اس پیچیدہ کھیل میں بیرونی سہولت کار کئی صورتوں میں پروپیگنڈا، مالی مدد اور آپریشنل تعاون مہیا کرتے ہیں — یہ وہ عناصر ہیں جو ایک متفرق گروہ کو خطرناک اور تباہ کن قوت بنا دیتے ہیں۔

حکومت اور ریاستی مشینری کے لیے ضروری ہے کہ وہ جامع اور متوازی حکمتِ عمل اپنائیں:

انٹیلی جنس اور سرحدی نگرانی کو مربوط کیا جائے، تاکہ اسمگلنگ، افراد کی نقل و حرکت اور اسلحہ کی ترسیل کو روکا جا سکے۔ افغانستان کے کنارے نگرانی اور بین الاقوامی رابطہ کاری کو تیز کرنا لازمی ہے۔
مالی سراغ رسانی تیز کی جائے؛ غیر معمولی رقوم کے بہاؤ کو روکا جائے اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں ہوں۔ شواہد پر مبنی مقدمات چلائے جائیں تاکہ سہولت کار اور فنڈرز اپنی کارروائیوں کا خمیازہ بھگتیں۔
خواتین کے تحفظ اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں: ریہیبیلیٹیشن سینٹرز، ذہنی صحت کی مدد، اور جامعات میں حفاظتی میکانزم۔ تعلیمی اداروں میں ایسے نشاندہی سسٹم بنائے جائیں جو بھرتی کی کوششوں کو فوراً رپورٹ کریں۔
بین الاقوامی فورمز پر ثبوت پیش کیے جائیں اور سفارتی دباؤ کے ذریعے مداخلت کو ناکام بنایا جائے۔ صرف دعووں سے کچھ حاصل نہیں؛ ثبوت کی بنیاد پر عالمی شراکت داروں کو متحرک کیا جانا چاہیے۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کو مضبوط کیا جائے تاکہ پروپیگنڈا کا مقابلہ ہو اور متاثرہ خاندانوں کی کہانیوں کو منظرِ عام پر لایا جائے۔ حقائق پر مبنی رپورٹس سے عوام کا شعور بڑھے گا اور بھرتی کی کوششوں کو کمزور کیا جا سکے گا۔
آخر میں، یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ عدم استحکام کا داعی جال صرف مقامی نہیں؛ اس کے دھاگے بین الاقوامی مفادات اور سہولت کاروں سے جڑے ہیں۔ بھارت جیسے پڑوسی کا منفی کردار بعض اوقات واضح ہوتا ہے، بعض اوقات بالواسطہ — مگر اس کا نتیجہ ایک ہی ہے: ہمارے معاشرے کو کمزور کرنا۔ اس کا حل عسکری کارروائی تک محدود نہیں؛ یہ عدلیہ کی مضبوطی، سماجی بحالی، اور بین الاقوامی سفارت کاری کا مجموعی عمل ہے۔ تبھی ہم اس سازشی جنگ کے جال کو کھینچ کر الگ کر سکتے ہیں اور اپنے شہریوں، خصوصاً خواتین، کو وہ محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *