امریکہ کی تنہائی: ایران جنگ میں اتحادیوں کا انکار اور ٹرمپ کی الجھن

*تحریر : وجیہ احمد صدیقی*

امریکہ جو خود کو عالمی طاقت اور جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتا ہے، آج ایران کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر تنہا دکھائی دے رہا ہے۔ برطانیہ نے اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے، عرب اتحادی ممالک بھی اس جنگ میں سرمایہ کاری اور فوجی تعاون سے گریز کر رہے ہیں، یورپی اور نیٹو ممالک “یہ ہماری جنگ نہیں” کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ نیٹو اتحادیوں نے افغانستان اور عراق جیسی جنگوں میں ہزاروں سپاہی اور اربوں ڈالر ضائع کر کے سبق سیکھ لیا ہے۔ اس پس منظر میں روس-یوکرین جنگ کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے: اگر روس غالب آیا تو امریکہ کی عالمی بالادستی ختم ہو جائے گی اور مغربی ممالک روس کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے۔ یہ نقطہ نظر صرف قیاس نہیں بلکہ تازہ ترین اخباری رپورٹس اور میڈیا تجزیوں سے مکمل طور پر ثابت ہوتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریروں میں جو کنفیوژن نظر آرہا ہے، وہ بھی اسی تنہائی اور اتحادیوں کی بے رخی کا نتیجہ ہے۔
برطانیہ کی پوزیشن سب سے واضح ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بار بار کہا ہے کہ برطانیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہو گا۔ انہوں نے 5 مارچ 2026 کو 10ڈاؤننگ سٹریٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ “یہ قومی مفاد میں نہیں ہے” اور صرف دفاعی آپریشنز تک محدود رہیں گے۔ گارڈین نے 16 مارچ کو رپورٹ کیا کہ برطانیہ مشرق وسطیٰ کی وسیع جنگ میں نہیں کھنچے گا۔ ٹائم میگزین اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق سٹارمر نے ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود “اصولی طور پر” انکار کیا اور کہا کہ “رجیم چینج آسمان سے نہیں ہوتا”۔ یہ فیصلہ عراق جنگ کے سبق پر مبنی ہے جہاں برطانیہ نے بھاری قیمت ادا کی تھی۔
عرب اتحادی بھی اس جنگ سے دور بھاگ رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے جنگ سے پہلے ہی امریکی حملوں کی مخالفت کی تھی۔ پولیٹیکو کی 26 مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے وارننگ دی تھی کہ جنگ کی صورت میں وہ امریکہ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری واپس لے سکتے ہیں۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ یہ ممالک جنگ سے پہلے لابنگ کر رہے تھے کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے کیونکہ انہیں ایرانی ردعمل کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اب یہ ممالک صرف دفاعی اقدامات پر زور دے رہے ہیں، فوجی تعاون یا سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ جنگ سے علاقائی معیشت تباہ ہو جائے گی اور ویژن 2030 جیسے منصوبے متاثر ہوں گے۔
یورپی ممالک اور نیٹو کی پوزیشن بھی بالکل واضح ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے 17 مارچ کو کہا کہ “کوئی بھی اس جنگ میں شامل ہونے کا خواہشمند نہیں”۔ الجزیرہ نے 16 مارچ کو رپورٹ کیا کہ جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین اور یونان نے آبنائےہرمز میں فوجی آپریشن سے انکار کر دیا۔ جرمنی کے دفاعی وزیر بورس پیسٹوریوس نے صاف کہا: “یہ ہماری جنگ نہیں، ہم نے اسے شروع نہیں کیا”۔ ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کی کہ “وہ بہت احمقانہ غلطی کر رہے ہیں” مگر یورپی ممالک نے اپنا موقف نہ بدلا۔ یہ انکار صرف خوف نہیں بلکہ پرانی جنگوں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔
نیٹو نے افغانستان میں 3,621 فوجی کھوئے، جن میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت دیگر اتحادیوں کے سینکڑوں سپاہی شامل تھے۔ عراق جنگ میں بھی اربوں ڈالر ضائع ہوئے اور معاشی بحران پیدا ہوا۔ یہ ممالک اب نئی جنگ میں اپنے وسائل کھونے کو تیار نہیں۔ روس-یوکرین جنگ اس تناظر کو مزید واضح کرتی ہے۔ اگر روس غالب آیا تو یورپ روس کے سامنے بے بس ہو جائے گا۔ یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ روس کی جیت امریکہ کی بالادستی ختم کر دے گی اور نیٹو کی وحدت ٹوٹ جائے گی۔ یورپی ممالک پہلے ہی یوکرین جنگ میں تھک چکے ہیں، اب ایران جیسے نئے محاذ پر جانے کو تیار نہیں۔
امریکہ اس جنگ میں واقعی تنہا رہ گیا ہے۔ ٹرمپ نے اتحادیوں سے بحری جہاز بھیجنے کا مطالبہ کیا مگر برطانیہ، یورپ اور عرب ممالک نے انکار کر دیا۔ وکی پیڈیا اور ریٹرز کی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو حملے شروع کیے مگر اتحادیوں کی بے رخی واضح ہے۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریریں اس تنہائی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اے پی نیوز، لاس اینجلس ٹائمز اور سی این این نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ ایک ہی دن میں متضاد بیان دے رہے ہیں: کبھی کہتے ہیں “جنگ مکمل طور پر جیت لی گئی”، کبھی مزید فوجی بھیج رہے ہیں، کبھی “دو تین ہفتوں میں ختم” کہتے ہیں تو کبھی “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ الجھن اس لیے ہے کہ اتحادیوں کی عدم حمایت سے امریکی حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کو اندازہ ہو گیا ہے کہ بغیر اتحادیوں کے ایران جیسے بڑے ملک کے خلاف طویل جنگ ناممکن ہے۔
یہ صورتحال امریکہ کی عالمی قیادت پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ اگر روس یوکرین میں غالب آیا تو چین، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک مزید حوصلہ پائیں گے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ اور دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی جیت امریکہ کی ڈیٹرنس کمزور کر دے گی۔ مغربی ممالک روس کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے جبکہ امریکہ کی بالادستی ختم ہو جائے گی۔ ایران سے جنگ بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے: امریکہ اب اکیلے لڑ رہا ہے کیونکہ دنیا نے پرانی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ امریکہ کی “تنہائی” اس کی پرانی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ٹرمپ کی الجھن اس بات کی علامت ہے کہ اتحادیوں کے بغیر عالمی طاقت بننا ممکن نہیں۔ برطانیہ، عرب اور یورپی ممالک کا انکار، نیٹو کی بے رخی اور روس-یوکرین جنگ کا اثر سب کچھ واضح کر رہے ہیں کہ امریکہ اب اکیلا کھڑا ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو نہ صرف ایران جنگ بلکہ امریکی عالمی بالادستی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *