سلیکون ویلی کا اصل چہرہ
تحریر: وجیہ احمد صدیقی
امریکہ کی ٹیکنالوجی کی دنیا، جہاں دنیا کے بہترین دماغوں کو ان کی محنت اور صلاحیت کو جانچ کر جگہ دینی تھی، آج ایک خفیہ نیٹ ورک کی گرفت میں ہے۔ گوگل کے پرانے اور اہم کنٹریکٹر اسٹیفن ویوین نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے جو انکشافات کیے ہیں، وہ امریکی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ صرف ایک فرد کی شکایت نہیں ہے بلکہ پورے ایک گروپ کی بددیانتی کا کھلا ثبوت ہے۔
اسٹیفن ویوین نے برطانیہ کے جی بی نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ آئی ٹی کے شعبے میں جب بھی کسی بھارتی امیدوار کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے، وہ پہلے سے تیار سوالات کو دوسرے بھارتی امیدواروں کو بتا دیتا ہے۔ اگلے ہفتے جب دوسرا آتا ہے تو وہ وہی سوالات کے جوابات دے کر بغیر کسی قابلیت اور صلاحیت کے کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ دھوکہ بازی اور انٹرویو کےامتحان میں مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔
ویوین نے مزید کہا کہ مجھ سے بھی اپنے عہدے کی جگہ پر کام کرنے والے شخص کی تربیت کرنے کو کہا گیا۔ میں نے دیکھا کہ جو شخص میری جگہ لینے والا تھا، اس نے میرے کام کے طریقوں کو سیکھا لیکن انٹرویو کے سوالات اسے پہلے سے معلوم تھے۔ یہ کسی بھی طرح شفاف عمل نہیں تھا۔ یہ نیٹ ورک اتنا منظم ہے کہ جب ایک بھارتی کسی کمپنی میں داخل ہوتا ہے تو فوراً اپنے جاننے والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو نوکری کی معلومات دیتا ہے۔
اسٹیفن ویوین نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ بھارتی بھارتیوں کو روزگار دیتے ہیں ( کسی دوسری قومیت خصوصا” پاکستانیوں کے لیے تو یہ راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں)۔ یہ سلیکون ویلی کا سب سے بڑا کھلا راز ہے۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بھارتی آپس میں مل کر دوسرے بھارتیوں کو ہی روزگار دیتے ہیں، انٹرویو سے پہلے سوال و جوابات بتا دیے جاتے ہیں، کم قابلیت ، کم صلاحیت اورکمتر معیار کے لوگوں کو زیادہ تنخواہ دے کر رکھا جاتا ہے، اور مقامی امریکیوں اور دیگر ایشیائیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
ویوین کا یہ کہنا کہ بھارتیوں کی صلاحیت اتنی اچھی نہیں ہے، کہ وہ ان کمپنیوں کے اعلی عہدوں پر فائز کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی صلاحیت سے نہیں بلکہ نیٹ ورک اور دوستوں کو روزگار دے کر پھیلتے ہیں۔ ان کی تعلیم اس معیار کی اور اتنی اچھی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی اعلیٰ عہدوں پر قابض ہوتے ہیں۔ یہ صرف ظاہری نمائش ہے، اصلی صلاحیت نہیں ہے۔
جب ہم یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ امریکہ میں کل بتیس لاکھ بھارتی امیگرینٹس ہیں، تو صورتحال مزید پریشان کن ہو جاتی ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق امریکہ میں کل غیر ملکی چار کروڑ اسی ملین ہیں، جن میں سے بھارتیوں کا حصہ کل غیر ملکیوں کا چھ اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔ یہ میکسیکو کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ صرف پاکستانی امیگرینٹس چھ لاکھ چالیس ہزار ہیں جو کہ صفر اعشاریہ سات فیصد بنتا ہے۔ ہزار دو ہزار سے ہزار تیس انیس تک بھارتی امیگرینٹس کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ سے بڑھ کر تین کروڑ بیس لاکھ ہو گئی، یعنی تین سو چالیس فیصد اضافہ ہوا۔
آپ یہ سوچیں کہ اگر امریکہ سے بھارتیوں کو نکال دیا جائے تو چھ فیصد یعنی تیس لاکھ عہدے خالی ہو جائیں گے۔ بہت سی بڑی امریکی کمپنیاں اب بھارتیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ گوگل کمپنی کا سربراہ سندر پچائی ہے، مائیکروسافٹ کا سربراہ سمتیا نڈیلا ہے، ایمیزون کا سربراہ اینڈی جیسی ہے، اور آئی بی ایم کا سربراہ اروند کرشنا ہے۔ یہ چاروں کمپنیاں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں اور ان کے سربراہ بھارتی نژاد ہیں۔ یہ کیوں چاہیں گے کہ ان سوشل میڈیا پر بھارت کے خلاف کوئی حقائق دنیا کے سامنے ائے اسی لیے یہ کشمیر میں ہونے والے ظلم اور دیگر بھارتی ریاستوں میں جو بھارت سے ازادی چاہتے ہیں ان کے ازادی کی تحریکوں کی خبروں اور معلومات کو یہ دباتے ہیں۔
بتیس لاکھ بھارتی امیگرینٹس کی آبادی میں جب جرم کی شرح کا تجزیہ کیا جائے تو کچھ عجیب باتیں سامنے آتی ہیں۔ بڑی تعداد کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تیس لاکھ کی آبادی میں جرم کی تعداد خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ جعلی دستاویزات کے ذریعے امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔ تعلیم اور صلاحیت کم ہونے کے باوجود اعلیٰ عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک جرم کو چھپانے کے لیے پورا نیٹ ورک کام کرتا ہے۔
مستند ذرائع کے مطابق امریکہ میں بھارتیوں میں جرم کی درج ذیل شکلیں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ روزگاری فراڈ، جعلی دستاویزات، امتحان کے سوالات لیک کرنا۔ امتحانات کے لیے مل بیٹھ کر جوابات تیار کرتے ہیں۔ جعلی تعلیمی دستاویزات سے ویزا حاصل کرتے ہیں۔ انٹرویو کے جوابات دینے کے پیسے لیتے ہیں۔ آپس میں مل کر مقامی امیدواروں کو شکست دیتے ہیں۔ یہ بھارتیوں کی عادت ہے کہ وہ پیپرز لیک کرتے ہیں بھارت میں خود اس طرح کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔
گینگ اور نیٹ ورک میں فرق صرف تعلیمی اور ٹیکنیکل قابلیت کا نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ہے۔ دونوں منظم طریقے سے کام کرتے ہیں۔ دونوں میں دھوکہ دہی ہوتی ہے۔ دونوں مقامی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کے خلاف امتیاز کرتے ہیں۔ ان کا گینگ طاقت اور دھمکیوں سے کام لیتا ہے جبکہ نیٹ ورک علم، دوستی اور نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے۔ گینگ واضح جرم کرتا ہے جبکہ نیٹ ورک قانونی راستوں اپنی مکاری کے ذریعے سے استعمال کرتا ہے جس سے قانون بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسٹیفن ویوین کا الزام کہ بھارتی بھارتیوں کو روزگار دیتے ہیں، واضح امتیاز ہے۔
2002 سے 2019 تک بھارتی امیگرینٹس کی تعداد میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا۔ 2002 میں تیس لاکھ بھارتی امیگرینٹس تھے۔ 2010 میں مزید چھ لاکھ کا اضافہ ہوا، اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ نیٹ ورک اور گینگ کا نتیجہ ہے۔
امریکی شہریت کے حصول میں بھارت کا درجہ دوسرا نمبر ہے۔ اس کی وجہ بڑی تعداد میں ویزے اور نیٹ ورک کا نظام ہے۔ اقوام متحدہ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق بھارت اور امریکہ امیگریشن کے دس بڑے راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف امیگرینٹس ہی نہیں بلکہ منظم طریقے سے داخل ہونے والے ہیں۔
بھارتیوں کا پھیلنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلا بھارتی ویزے پر کام کرنے کے لیے آتا ہے، پھر نیٹ ورک سے جڑتا ہے، دوستوں کو معلومات شیئر کرتا ہے، دوسرے کو بلاتا ہے، انٹرویو کے سوالات بتاتا ہے، پوری ٹیم بن جاتی ہے جو صرف بھارتی ہوتی ہے، پھر مقامی لوگ باہر ہو جاتے ہیں، عہدے خالی ہو جاتے ہیں، اور آخر میں سربراہ بن جاتے ہیں جو گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون جیسی کمپنیاں چلاتے ہیں۔
جب بتیس لاکھ کی تعداد ایک ہی نیٹ ورک کا حصہ بن جاتی ہے، تو امریکہ کی ٹیکنالوجی کی دنیا کے لیے یہ خطرناک ہے۔ صلاحیت کی کمی اس لیے کہ انٹرویو سوالات لیک کرنا کامیابی کا معیار نہیں ہے۔ منصفانہ موقع اس لیے نہیں ملتا کہ مقامی امیدواروں کو موقع نہیں ملتا۔ اعتماد کی کمی اس لیے کہ نیٹ ورک میں اعتماد نہیں مقصد ہوتا ہے۔ اقتصادی نقصان اس لیے کہ کم معیار کے عملے کو اعلیٰ تنخواہ ملتی ہے۔ ملکی سلامتی اس لیے خطرے میں ہے کہ تکنیکی معلومات کا لیک ی جاتی ہیں بھارتی امریکہ کے دشمن ممالک کے لیے جاسوسی میں ملوث ہوتے ہیں۔
اسٹیفن ویوین نے جو انکشاف کیا وہ کیمیائی عمل کی طرح ہے ۔ اگر امریکہ کسی بھی سال بتیس لاکھ بھارتی امیگرینٹس کو نکال دیتا ہے تو چھ اعشاریہ پانچ فیصد کل غیر ملکی روزگار کے ذرائع خالی کر کے جائیں گے ۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیس لاکھ عہدے خالی ہو جائیں گے۔ گوگل، مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں متاثر تو ہوں گی۔ لیکن انہیں پھر ان کی جگہ پر زیادہ قابل اور اچھے لوگ ملیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ یہ قدم اٹھایا جائے گا یا نہیں کیونکہ اس بات کی تصدیق تو ہو رہی ہے کہ بھارتی نہایت سازشی طور پر سنگین جرائم میں اور ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ضروری ہے۔
امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کی دنیا کو صلاحیت کے اصول پر چلائے اور بھارتی جعل سازی کو ختم کرے،۔ اعلی ملازمتوں کو گینگ کے نیٹ ورک کے اصول پر نہیں چلائیں۔ کیونکہ جب ملک کی معیشت اور سلامتی کا سوال ہو تو منصفانہ طریقہ ہی بہتر ہوتا ہے۔ بھارتی امیگرینٹس کا یہ نیٹ ورک امریکہ کی ٹیکنالوجی کی دنیا کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ اگر اسے وقت نہ سمجھا گیا تو مستقبل میں بڑے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔

Leave a Reply