اشرافیہ کی مراعات کے لیے پیٹرول 415 روپے لیٹر کیا گیا

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

 

کیا آپ نے آج پیٹرول پمپ پر کھڑے ہو کر سوچا کہ ہر لیٹر پیٹرول پر آپ کا 33 فیصد خون حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہورہا ہے؟ جی ہاں، حکومت نے ایک بار پھر عوام کی کمر توڑ دی۔ پیٹرول کی قیمت 14.92 روپے بڑھا کر 414.78 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 15 روپے بڑھا کر 414.58 روپے کر دی۔ یہ اضافہ کوئی عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ پیٹرولیم لیویٰ کو 120 روپے فی لیٹر تک پہنچا کر، کسٹمز ڈیوٹی اور موسمیاتی لیویٰ لگا کر کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ ٹیکسز کے بغیر پیٹرول کی قیمت محض 278 روپے ہونی چاہیے، جبکہ برینٹ خام تیل 100-104 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہے۔ فروری سے اب تک پاکستان میں 61.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہمسایہ ملک بھارت نے پیٹرولیم کی قیمتیں کنٹرول میں رکھیں۔

کیا واقعی ہماری حکومت مجبور ہے کہ وہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ کریں ہماری سمجھ میں نہیں اتا کہ یہ ظلم ہے یا معاشی دباؤ؟ آئیے اس کا بے لاگ جائزہ لیتے ہیں دیکھتے ہیں کہ حکومت کیسے عوام کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔ قربانی سے پہلے ہی

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ آئی ایم ایف کے وعدوں اور آمدنی کی کمی کی وجہ سے ہے، لیکن ائی ایم ایف تک نوبت بھی انہی حکمرانوں نے ہی پہنچائی ہے اپنی عیاشیاں اور اپنی مراعات کم کرنے کو یہ تیار نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ اور پوری ذمہ داری عوام پر ڈال دی گئی۔ طبقہ اشرافیہ نہ ٹیکس دینا چاہتا ہے نہ اپنی مراعات کم کرنا چاہتا ہے۔ پیٹرول پر 120 روپے لیویٰ، ڈیزل پر 45 روپے، اس کے علاوہ 30 روپے کسٹمز ڈیزل پر اور 20 روپے ڈیوٹی پیٹرول پر – کل ملا کر 33 فیصد پیٹرول اور 16 فیصد ڈیزل کی قیمت حکومت کے پاس جاتی ہے۔ یہ ٹیکس بوجھ نہیں، خون ہے جو ہر عام آدمی، کسان، ٹرانسپورٹر اور غریب کے جسم سے نکالاجارہا ہے۔ حکومت کے حامی سوشل میڈیا پر چیختے چلاتے پھر رہے ہیں کہ “پیٹرول مہنگا نہ کیا تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا”۔

لیکن کیا واقعی یہی ترقی کا راستہ ہے؟ 24 گھنٹے محنت کا نعرہ لگاتے ہوئے حکومت بھول جاتی ہے کہ ہفتے میں دو چھٹیاں کون کرتا ہے اب تو جمعے کی بھی عملآ چھٹی ہے یہ لوگ اپنی ناجائز مراعات کا خاتمہ نہ کریں اور ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کے لیے عوام 24 گھنٹے کام کریں؟

یہاں اصل سوال اٹھتا ہے: جب تک اشرافیہ اور بیوروکریسی اپنی مراعات نہ چھوڑیں، عوام کیوں قربانی دیں؟ اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ پاکستان کی اشرافیہ، بیوروکریسی اور ججوں سمیت اعلیٰ طبقہ سالانہ 14.7 ارب ڈالر (تقریباً 4 ٹریلین روپے) کی مراعات حاصل کرتا ہے۔ مفت پیٹرول، مفت گھر کا کرایہ، 80 فیصد پنشن، لگژری مراعات – یہ سب ٹیکس دہندگان کا خون چوستے ہیں۔ ایک عام سرکاری ملازم، جو گزیٹیڈ نہیں ہے وہ بھی اپنی تنخواہ سے گھر کا کرایہ دیتا ہے،اپنی بائیک میں پیٹرول بھرتا ہے،

بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ اسے کوئی مراعات حاصل نہیں، لیکن جج صاحب کو چھٹیاں بھی ملتی ہیں، عدالتوں میں مقدمات التوا پر پڑے رہتے، فیصلے رشوت پر ہوتے ہیں، اور پھر بھی ان کی تنخواہیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ عالمی بینک کی 2023 رپورٹ “پاکستان عوامی اخراجات جائزہ” اور اقوام متحدہ کی “امتياز اور عدم مساوات” رپورٹس یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ مراعات مجموعی داخلی پیداوار کا 3-4 فیصد کھا جاتی ہیں۔ اگر انہیں 4 ارب ڈالر تک محدود کر دیا جائے – بلکہ مکمل ختم – تو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

وزیراعظم شہباز شریف صاحب، آپ کی حکومت نے لوگوں پر یہ ظلم کیسے کر دیا؟ قیمتوں میں کمی کی بجائے ٹیکس لگا کر بڑھا دیا۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کی ناکامیوں کا بدلہ عام آدمی سے کیوں؟ یہ پیٹرول کی قیمت نہیں، معیشت کی گردن مار رہی ہے۔ فروری 2026 سے اب تک 61.5 فیصد اضافہ، جبکہ بھارت نے سبسڈی دے کر قیمتیں مستحکم رکھیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اتحادی بھی خام تیل کی قیمتیں کم رکھنے میں مددگار ہیں، لیکن پاکستان کی حکومت ٹیکسوں کا ڈھال بنا رہی ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ کیا: “بغیر ٹیکسز کے پٹرول کی قیمت 278 روپے، لیکن حکومت 415 روپے وصول کر رہی”۔


یہ اعداد و شمار تیل و گیس ریگولیٹری اتھارٹی، خزانہ ڈویژن کی نوٹیفکیشن سے لیے گئے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ عالمی قیمتوں میں استحکام ہے، صرف مقامی ٹیکسز بڑھے۔


اب دیکھیں اس کے اثرات: کسان ٹریکٹر نہیں چلا سکیں گے، ٹرانسپورٹرز کرایہ بڑھائیں گے، دکاندار سامان مہنگا کریں گے۔ مہنگائی کی شرح پہلے ہی 25 فیصد سے زائد ہے، اب یہ اضافہ غریب کی روٹی چھین لے گا۔ سوشل میڈیا پر عوامی غصہ پھٹ پڑا ہے: “شہباز صاحب، لیویٰ واپس لو!” پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی تیاری کر رہی ہیں۔ لیکن اصل حل اشرافیہ کی مراعات ختم کرنا ہے۔ ججوں کی 80 فیصد پنشن، جو ان کی تنخواہ سے زیادہ ہے، ختم کرو۔ مفت پیٹرول، جو اعلیٰ افسران کو ملتا ہے، روکو۔ عالمی بینک کی رپورٹ کہتی ہے کہ یہ مراعات 14.7 ارب ڈالر سالانہ ہیں – اس کا 30 فیصد بھی بچ جائے تو پیٹرول سستا ہو سکتا ہے۔

حکومت کا جواب؟ “کفایت شعاری” کا ڈھونگ۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ خود قربانی دے رہے، لیکن حقیقت میں پورا بوجھ عوام پر ہے ان پرایک فیصد بھی نہیں ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت آمدنی ہدف پورا کرنے کا بہانہ تراشاگیا ہے، لیکن وفاقی بورڈ آف ریونیو کی ناکامیوں کا ذمہ دار کون؟ ٹیکس چوروں کو پکڑو، نہ کہ عام آدمی کو لوٹو۔ سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستان کو 5 ارب ڈالر دیا، متحدہ عرب امارات نے بھی مدد کی، پھر کیوں عوام پر ٹیکس؟ یہ معاشی دہشت گردی ہے۔
عوام سے اپیل: خاموش نہ رہیں ۔ یہ وقت احتساب کا ہے۔ ججوں، بیوروکریٹس اور اشرافیہ جواب دیں کہ ان کی مراعات کیسے جائز ہیں جب عام ملازم سب کچھ خود ادا کرتا ہے۔ شہباز شریف صاحب، فوری طور پر یہ لیویٰ واپس لیں، ناجائز مراعات ختم کریں،(آپ کی ساری مراعات ہی ناجائز ہیں ) ورنہ عوام کا غصہ حکومت کے خاتمے کا آغاز بن جائے گا۔ پاکستان ترقی چاہتا ہے، لیکن ظلم کی قیمت پر نہیں۔ 24 گھنٹے محنت تو اشرافیہ بھی کرے، چھٹیاں اور مفت مراعات چھوڑے۔ عالمی بینک اور اقوام متحدہ رپورٹس گواہ ہیں – تبدیلی ابھی لاؤ، ورنہ تاریخ معاف نہ کرے گی۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *