تحریر: وجیہ احمد صدیقی

آج کشمیر کے دو حصے دو الگ کہانیاں سناتے ہیں۔ ایک کہانی آزاد کشمیر کی ہے، جہاں ریاستی سبسڈی کے ذریعے آٹا اور بجلی عوام کے لیے نسبتاً سستے کیے گئے ہیں؛ دوسری کہانی مقبوضہ کشمیر کی ہے، جہاں زمین، شناخت، ڈومیسائل اور سیاسی حقوق کے گرد ایک مسلسل کشمکش جاری ہے ۔ بظاہر دونوں خطے ایک ہی تہذیبی، تاریخی اور جغرافیائی پس منظر رکھتے ہیں، مگر عملی زندگی میں ان کے شہریوں کے مسائل، ریاستی رویّے اور قانونی بندوبست ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے کشمیریوں کے خلاف احتجاج کشمیر کی نام نہاد ایکشن کمیٹی کر رہی ہے۔ پہلے بھی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں چند موقع پرست اور کوتاہ نظر سیاستدان نہیں چاہتے کہ کشمیر آزاد ہو کیونکہ ایسی صورت میں ازاد کشمیر میں جو ان کے لیے لوٹ مار کے جو راستے کھلے ہیں وہ بند ہو جائیں گے اور یہی وجہ ہے اسی کوتاہ نظری کی مثال شوکت نواز میر ہیں یا تو وہ کوتاہ نظر ہیں یا پھر کشمیر کے دشمن ہیں ویسے بہرحال دونوں صورتوں میں وہ دشمنی تو کشمیر کے ساتھ ہی کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر میں مئی 2024 کے بعد جو ریلیف پیکیج سامنے آیا، وہ صرف ایک معاشی خبر نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی اعلان بھی تھا ۔ آٹے کی قیمت 50 روپے فی کلو اور 100 یونٹ تک گھریلو بجلی 3 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی، جبکہ بعد میں سبسڈی برقرار رکھنے کے فیصلے بھی سامنے آئے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے شہری ایک ایسے انتظامی نظام میں رہتے ہیں جہاں بنیادی ضروریات پر ریاستی رعایت واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کا عام گھرانہ نہ صرف سیاسی جذباتی فضا میں زندگی گزارتا ہے بلکہ روزمرہ ضروریات میں بھی ریاستی رعایت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
یہ وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کے عام شہری اور آزاد کشمیر کے شہری کے درمیان فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بجلی، گندم اور آٹے کی قیمتیں قومی مہنگائی، عالمی منڈی، ٹیکس، ڈسٹری بیوشن لاگت اور وفاقی/صوبائی پالیسی کے تحت چلتی ہیں ۔ وہاں 3 روپے فی یونٹ جیسی رعایت یا آٹے کی 50 روپے کلو قیمت کوئی عمومی حقیقت نہیں، بلکہ ایک غیر معمولی اور مخصوص انتظامی فیصلہ ہے ۔ اس لیے اگر کوئی یہ دلیل دے کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو وہ سہولتیں حاصل ہیں جو پاکستان کے عام شہریوں کو نہیں، تو یہ مؤقف ٹھوس معاشی بنیاد رکھتا ہے ۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی حقیقت زیادہ سخت اور زیادہ سیاسی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کا راج ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی دنیا کے سب سے زیادہ عسکریت زدہ خطوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے عام شہری کی زندگی کو مستقل نگرانی، خوف اور دباؤ میں جکڑ رکھا ہے۔ مختلف رپورٹس میں اس تعیناتی کو 10 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے، اس میں فوج پولیس اور ریزرو دستے بھی شامل ہیں اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک معمولی شہری حرکت بھی کئی بار بڑے سیکیورٹی آپریشن، چھاپے، تلاشی اور حراست کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی ماحول میں کشمیری عوام طویل عرصے سے یہ شکایت دہراتے آئے ہیں کہ ریاستی جبر، گھروں پر چھاپوں، خواتین کے خلاف بدسلوکی اور جنسی تشدد کے واقعات نے وادی کو ایک کھلے قید خانے میں بدل دیا ہے۔ پاکستان نے بھی بارہا یہ خمؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظالمانہ اقدامات کو دہشت گردی کے نام پر چھپانے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ وہاں کا سیاسی، انسانی اور حقوق کا المیہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اتنی بڑی سکیورٹی موجودگی کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں امن کا بھارتی دعویٰ ایک بیانیہ تو ہو سکتا ہے، مگر وہاں کے شہری کےلیے یہ بیانیہ روزمرہ خوف، محاصرے اور غیر معمولی عسکری دباؤ کی تلخ حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔
2019 کے بعد بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، اور پھر ڈومیسائل اور زمین سے متعلق قوانین میں ایسی تبدیلیاں کیں جن سے مقامی حقوق پر براہِ راست اثر پڑا ۔ اب بھارت کی کسی بھی ریاست کا شہری مقبوضہ جموں و کشمیر میں اراضی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ پہلے یہ حق زیادہ تر مقامی باشندوں تک محدود تھا ۔ ڈومیسائل قانون میں 15 سالہ رہائش یا مخصوص تعلیمی معیار جیسے اصول رکھے گئے، جنہیں کشمیری حلقوں نے آبادیاتی تبدیلی کا دروازہ قرار دیا ۔ یعنی بھارت کشمیر کی آبادی کو توازن خراب کرنا چاہتا ہے وہاں کی پہلے سے موجود مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔
یوں مقبوضہ کشمیر کے شہری بھارت کے عام شہریوں کے برابر حقوق سے محروم ہو کر ایک ایسے قانونی جال میں آ گئے جہاں ان کی مقامی حیثیت مسلسل کمزور کی جا رہی ہے ۔
یہ فرق محض نظریاتی نہیں، عملی بھی ہے۔ آزاد کشمیر میں سیاسی بندوبست اس طرح ہے کہ وہاں کے شہریوں کو ریاستی سطح پر مکمل شہری اور سیاسی حقوق حاصل ہیں ۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے: وہاں کی ریاست اپنے عوام کو آٹے اور بجلی میں ریلیف دے رہی ہے ۔ اس کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر میں ریاستی پالیسی کی توجہ عوامی سبسڈی پر کم، اور انتظامی کنٹرول، زمینی قواعد اور آبادیاتی بندوبست پر زیادہ رہی ہے ۔ اس لیے ایک طرف “سستی زندگی” کا بیانیہ ہے، اور دوسری طرف “شناخت بچانے” کی جنگ ۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: کیا آزاد کشمیر کے عوام کو حاصل یہ رعایتیں پاکستان کے عام شہریوں کو بھی ملتی ہیں؟ جواب صاف ہے: اسی پیمانے پر نہیں۔ پاکستان کے باقی حصوں میں آٹے کی قیمت، بجلی کا بل، اور خوراک کا بوجھ عام شہری کی قوت خرید کا امتحان لیتا ہے ۔ آزاد کشمیر میں اگرچہ سبسڈی ہمیشہ مستقل اور بے مسئلہ نہیں رہی، کے عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے ۔ یہی وہ دلیل ہے جو آپ کے موازنہ کو طاقت دیتی ہے۔
اب اگر رپورٹ کو حقائق کے زاویے سے دیکھا جائے تو : ایک طرف سستی بجلی اور سستا آٹا،اور دیگر رعایتیں دوسری طرف زمین اور شناخت اور حق خود ارادیت کی جنگ ہے۔ ایک طرف ریاست شہری کو سہارا دینے کے لیے نرخ کم کرتی ہے، دوسری طرف ریاستی قانون شہری کو اس کی اپنی زمین سے بے دخل کراتا ہے ۔ یہی کشمکش کشمیر کے دو چہروں کو بے نقاب کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں عوامی سیاست کا مرکز اکثر مہنگائی، سبسڈی اور ریلیف کے گرد گھومتا ہے ، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا مقامی آبادی اب بھی اپنے ہی خطے کی مالک ہے یا نہیں ۔
اس تضاد کا سیاسی اثر بھی کم نہیں۔ پاکستان آزاد کشمیر کے بارے میں بار بار یہ دعویٰ دہرایا جاتا ہے کہ وہاں عوام کو مکمل شہری و سیاسی حقوق حاصل ہیں ۔ دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے اقدامات کو انتظامی اصلاحات کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ کشمیری اسے حقوق پر حملہ سمجھتے ہیں ۔ یوں دونوں طرف بیانیہ اپنی جگہ قائم ہے، مگر عوامی تجربہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے شہری روزانہ کے حساب سے بجلی اور آٹے میں ریلیف محسوس کرتے ہیں ، جبکہ مقبوضہ کشمیر کے شہری روزانہ کے حساب سے اپنی شناخت، زمین اور قانونی حیثیت کے دباؤ کو محسوس کرتے ہیں ۔
آزاد کشمیر میں سبسڈی محض مالی معاونت نہیں بلکہ سیاسی حساسیت کا اظہار ہے ۔ حکومت جب آٹا سستا کرتی ہے یا بجلی کے نرخ کم کرتی ہے تو دراصل وہ عوامی اضطراب کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے ۔ لیکن یہی سہولتیں پاکستان کے عام شہریوں کو میسر نہیں ہوتیں، اس لیے آزاد کشمیر ایک “خصوصی رعایتی زون” کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ اس فرق کو اگر سخت، مگر درست، جملے میں بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے: “آزاد کشمیر کے لوگ سستی زندگی کے مخصوص سیاسی نظام میں رہ رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے عام شہری عام مارکیٹ کے بوجھ تلے دبے ہیں” ۔
مقبوضہ کشمیر میں اس کے برعکس “خصوصی نظام” شہری کو سہولت نہیں، تشویش دیتا ہے ۔ زمین کا قانون بدلا، ڈومیسائل کا قانون بدلا، اور مقامی شناخت کے تحفظ کے لیے بنائے گئے کئی پرانے حصار ہٹا دیے گئے ۔ اس تبدیلی نے کشمیری آبادی کو یہ احساس دیا کہ ان کی زمین اور ان کے حقوق اب ایک بڑے مرکز کے فیصلوں کے تابع ہو چکے ہیں ۔ یہی وہ فرق ہے جو اس پورے تقابلی جائزے کو محض خبر نہیں، بلکہ ایک سیاسی دستاویز بناتا ہے ۔
آخر میں بات سادہ ہے مگر شکوہ بھی ہے: آزاد کشمیر کے لوگوں کو بجلی اور آٹے میں جو ریلیف ملتا ہے، وہ پاکستان کے عام شہریوں کو اسی سطح پر میسر نہیں ہے۔ اور مقبوضہ کشمیر کے شہری بھارت کے عام شہریوں کی طرح زمین، ڈومیسائل اور مقامی حقوق کے مالک نہیں رہنے دیے گئے ۔ ایک خطہ رعایت کی سیاست میں جیتا ہے، دوسرا حق کی سیاست میں لڑتا ہے ۔ یہی کشمیر کی آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

Leave a Reply