گلگت بلتستان میں صوبائی تعصب کی سیاست

خرم دستگیر، عابد شیر علی کی خطرناک شعلہ بیانی

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

گلگت بلتستان کے انتخابی موسم میں جو کچھ کہا گیا، وہ محض دو جملے نہیں تھے۔ یہ دو جملے اس پوری سیاسی ذہنیت کی نمائندگی کرتے ہیں جو حساس خطوں میں ووٹ لینے کے لیے کبھی ترقی کے نام پر، کبھی تقابل کے نام پر اور کبھی طنز کے ہتھیار سے کام لیتی ہے۔ خرم دستگیر کا یہ کہنا کہ “اگلے پانچ سال میں ہنزہ کو کراچی جیسا بنانا ہے یا لاہور جیسا، فیصلہ عوام کریں”، اور عابد شیر علی کا یہ جملہ کہ “جو اپنے صوبے کو پانی نہیں دے سکتا وہ گلگت بلتستان کو کیسے دے گا”، بظاہر انتخابی تقریر کے جملے ہو سکتے ہیں، مگر دراصل یہ وہی لہجہ ہے جو معاشروں میں نفرت، اور صوبائی تعصب کو جنم دیتا ہے۔

یہ بات صاف صاف سمجھنی چاہیے کہ گلگت بلتستان کوئی عام انتخابی ضلع یا معمولی سیاسی حلقہ نہیں۔ یہ ایک متنازعہ خطہ ہے، اس کی آئینی حیثیت آج بھی بحث طلب ہے، اور اس کی سیاسی ساخت براہِ راست مسئلہ کشمیر سے جڑی ہوئی ہے۔ اس خطے میں سیاست کرنا معمولی بات نہیں، یہاں الفاظ کی بھی قیمت ہوتی ہے اور لہجے کی بھی۔ جو رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں آ کر پنجاب، لاہور، کراچی یا کسی اور صوبے کو ترقی کی علامت بنا کر پیش کرنا کافی ہے، وہ دراصل اس خطے کی تاریخ، شناخت اور حساسیت سے ناواقف ہیں۔ یا اگر واقف ہیں تو پھر جان بوجھ کر آگ سے کھیل رہے ہیں۔

خرم دستگیر کے بیان میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے، وہ یہ نہیں کہ انہوں نے کراچی اور لاہور کی مثال دی۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے گلگت بلتستان کے ایک حساس علاقے کو ایک تقابلی سیاسی منظرنامے میں کھڑا کر دیا، جیسے عوام کے سامنے دو شہروں کی تصویر رکھ کر فیصلہ کروایا جا رہا ہو۔ اس میں ایک پوشیدہ پیغام ہے:

وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وسائل کا استحصال کراچی میں ہو رہا ہے اور ان کا استعمال لاہور میں ہو رہا ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر یہ فرق موجود ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے خود وفاقی حکومت اور وزیراعظم اس میں برابر کے ذمہ دار ہیں کہ کراچی اگر ترقیاتی کام نہیں ہو رہے تو قومی آمدنی میں کراچی کے حصے کو استعمال کرنے کا ان کے پاس کوئی حق نہیں ہے۔ دوسرے معنوں میں اگر ہم یہ سمجھے کہ خرم دستگیر کراچی کو منفی طور پر پیش کر رہے ہیں اور لاہور کو مثبت طور پر، تو بھی یہ ایک شرمناک موازنہ ہے جو ان جیسے سیاست دان کو نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے والد کے دامن پر ایک ایسا داغ لگا ہوا ہے جسے مٹانا ان کے لیے ممکن نہیں ہے محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے ایک نہایت قبیح کام غلام دستگیر خان نے کیا تھا۔ کراچی اور لاہور کے ترقیاتی کاموں کا موازنہ دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے باعث شرم ہے اس لیے کہ وفاقی حکومت میں دونوں اقتدار میں شریک ہیں صدر پیپلز پارٹی کے ہیں چیئرمین سینٹ پیپلز پارٹی کے ہیں پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے گورنرز پیپلز پارٹی کے سندھ بلوچستان کے گورنر مسلم لیگ نون کے۔ اب اگر کراچی میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے تو اس جرم میں وفاقی حکومت بھی برابر کی شریک ہے کیونکہ کراچی محض سندھ کا ایک شہر نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔ جس کی ترقی اور فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہر وہ حکومت ہے جو کراچی سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں کے بل پر اپنے اخراجات کر رہی ہے ۔ خرم دستگیر کی یہ سوچ کہ ترقی کی اصل شکل کراچی اور لاہور ہیں، باقی علاقوں کو انہی کے سانچے میں ڈھالنا چاہیے۔ یہ سوچ بظاہر جدیدیت کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، مگر اصل میں یہ مرکزیت پسند ذہنیت ہے، وہی ذہنیت جو چھوٹے خطوں کو بڑے شہروں کے تابع دیکھنا چاہتی ہے۔

لیکن گلگت بلتستان کے لوگ اپنے طور پر ایک جداگانہ سماجی، جغرافیائی اور تاریخی شناخت رکھتے ہیں۔ ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ صرف لاہور یا کراچی جیسا بننے کو ترقی سمجھیں، ناانصافی ہے۔ ہر خطے کی اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں، اپنی مشکلات ہوتی ہیں، اپنی ثقافت ہوتی ہے، اور اپنی سیاسی ترجیحات ہوتی ہیں۔ ہنزہ کے عوام سے یہ پوچھنا کہ “کراچی جیسا چاہیے یا لاہور جیسا”، اصل سوال سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تعلیم، صحت، سڑک، سیاحت، روزگار اور مقامی اختیارات کے لیے کیا کیا جائے گا؟ مگر انتخابی جلسوں میں یہ سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے، کیونکہ اصل کام تو نعرہ لگانا ہوتا ہے، مسئلہ حل کرنا نہیں۔

دوسری جانب عابد شیر علی کا بیان اس سے بھی زیادہ سخت، تلخ اور بے لچک ہے۔ یہ جملہ کہ “جو اپنے صوبے کو پانی نہیں دے سکتا وہ گلگت بلتستان کو کیسے دے گا” نہ صرف طنزیہ ہے بلکہ ایک صوبے کی ناکامی کو دوسرے خطے کے سامنے ڈھال بنا کر پیش کرنے کی کوشش بھی ہے۔ یہ محض سیاسی چوٹ نہیں، یہ سیاسی بدتمیزی ہے۔ اس قسم کے جملے عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ ایک خطہ دوسرے خطے سے بہتر ہے، ایک صوبہ دوسرے پر برتر ہے، اور ایک جماعت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے دوسرے علاقوں کے دکھوں کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ جمہوری زبان نہیں، یہ تقسیم پیدا کرنے والی زبان ہے۔ کیا عابد شیر علی یہ نہیں جانتے کہ پانی کی تقسیم پر سندھ اور پنجاب میں واضح اختلافات ہیں یہ انہی اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں گلگت بلتستان کے انتخابات پر ساری دنیا کی نظریں ہیں کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ باقی دنیا بیوقوف ہے اور صرف یہی عقلمند ہیں۔اگر کوئی سیاست دان یہ سمجھے کہ گلگت بلتستان کے عوام ایسے جملوں سے متاثر ہو جائیں گے تو وہ عوام کی سیاسی سمجھ بوجھ کو کم سمجھ رہا ہے۔ یہ لوگ اپنے خطے کے مسائل کو بخوبی جانتے ہیں، کہ کون سی جماعت صرف دورے کر کے چلی جاتی ہے اور کون سی جماعت واقعی ان کے مسائل کو سنجیدگی حل کرنے میں دلچسپی لیتی ہے۔ لہٰذا ایسے بیانات وقتی طور پر تاثر تو بنا سکتے ہیں، لیکن دیرپا اعتماد پیدا نہیں کر سکتے۔ اور سیاست میں اصل چیز اعتماد ہی ہوتی ہے۔

اب اس بحث کو مزید گہرا کریں تو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت خود ایک پیچیدہ سوال ہے۔ یہ پاکستان کا باقاعدہ صوبہ نہیں، لیکن اسے محض انتظامی اکائی بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی تاریخ، جغرافیہ اور سیاسی مقام اسے ایک منفرد خطہ بناتے ہیں۔ اسی لیے اس پر ہر سیاسی جماعت کا موقف مختلف ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بارہا گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے اور صوبائی یا عبوری صوبائی حیثیت دینے کی بات کی ہے۔ مسلم لیگ نون بھی عملاً اس خطے کو زیادہ آئینی اور انتظامی اختیار دینے کی بات کرتی رہی ہے، مگر جب اس کے رہنما انتخابی مہم میں آتے ہیں تو ان کے الفاظ کئی بار وہی خطرناک سمت اختیار کر لیتے ہیں جس کی اس خطے میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری طرف کچھ جماعتیں اور کئی سنجیدہ سیاسی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ بنانا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی مؤقف کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ خطہ ایک متنازع علاقہ ہے، اور اسے اس حتمی سیاسی حل سے پہلے مکمل صوبہ کہنا یا بنانا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔ یہ موقف درست ہو یا غلط، مگر اسے سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کا معاملہ صرف چند نشستوں یا چند ووٹوں کا نہیں، بلکہ ریاستی مؤقف، بین الاقوامی تنازع اور مقامی حقوق کے بیچ ایک نازک توازن کا نام ہے۔ جو سیاست دان اس توازن کو جذباتی جملوں سے توڑنا چاہتے ہیں، وہ مسئلے کا حل نہیں، مسئلے کا حصہ ہیں۔

ایک اور اہم بات بھی سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ گلگت بلتستان کے لوگ روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی کی تلاش میں زیادہ تر کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ کراچی ان کے لیے ایک ایسا شہر بن چکا ہے جہاں وہ کام بھی کرتے ہیں، پڑھتے بھی ہیں، رہتے بھی ہیں، اور اپنی برادری کے ساتھ جڑتے بھی ہیں۔ وہاں ان کی شناخت محض مہاجر یا مسافر کی نہیں، بلکہ ایک منظم شہری موجودگی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب میں ایسی منظم، واضح اور بڑی سطح کی گلگت بلتستانی شناخت کم دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے جب سیاست دان لاہور یا پنجاب کو ترقی کا معیار بنا کر پیش کرتے ہیں، تو وہ ایک ایسی سماجی حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں جو گلگت بلتستان کے عوام کے تجربے کا حصہ ہے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاست میں اکثر ووٹ جماعت کی کارکردگی پر نہیں بلکہ اس بات پر پڑتا ہے کہ مرکز میں کون سی جماعت طاقت میں ہے۔ یعنی وفاقی حکومت کا سایہ یہاں کے سیاسی فیصلوں پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ جمہوریت کا کمزور پہلو ہے، اور اسی کمزوری کا فائدہ بڑی جماعتیں اٹھاتی رہی ہیں۔ جب مرکز کی اتحادی جماعتیں یہاں آکر یہ تاثر دیں کہ ہم ہی تمہیں ترقی دیں گے، ہم ہی تمہارے مسائل حل کریں گے، اور ہم ہی تمہاری شناخت طے کریں گے، تو پھر مقامی سیاست محض ماتحتی کی سیاست بن جاتی ہے۔ اور اگر اس ماتحتی کے ساتھ تعصب آمیز بیانات بھی شامل ہو جائیں تو صورتِ حال مزید بگڑ جاتی ہے۔

خرم دستگیر اور عابد شیر علی جیسے رہنماؤں کے بیانات اسی لیے خطرناک ہیں کہ وہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری سیاسی سوچ کا اظہار ہیں۔ یہ سوچ عوام سے زیادہ نعرے پر یقین رکھتی ہے، مسئلے سے زیادہ مقابلے پر، اور خدمت سے زیادہ برتری کے احساس پر۔ اگر یہ رہنما واقعی گلگت بلتستان کے خیر خواہ ہوتے تو انہیں وہاں کے عوام سے ان کے اپنے مسائل کی بات کرنی چاہیے تھی۔ انہیں یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ سیاحت کیسے بڑھے، پانی کا انتظام کیسے ہو، سڑکیں کیسے بہتر ہوں، نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے، تعلیم کیسے مضبوط ہو، اور آئینی ابہام کیسے کم ہو۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے وہ زبان اختیار کی جس میں اشتعال زیادہ تھا، سنجیدگی کم۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 2024 کے قومی انتخابات میں ان دونوں کو اپنے اپنے حلقوں میں شکست فاش ہوئی ہے انہوں نے یہی منفی انداز گفتگو اختیار کیا ہوگا جسے عوام نے مسترد کر دیا۔

اسی لیے یہ بات دو ٹوک انداز میں کہی جانی چاہیے کہ گلگت بلتستان کے انتخاب میں اس نوع کے بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سیاسی اخلاقیات کے بھی خلاف ہیں۔ جب ایک حساس خطے میں سیاسی رہنما دوسرے صوبوں کو نشانہ بنا کر یا ترقی کے نام پر برتری کی فضا پیدا کر کے ووٹ مانگتے ہیں، تو وہ عوامی شعور کی توہین کرتے ہیں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں: کیا آپ خدمت کے لیے آئے ہیں یا اشتعال کے لیے؟ کیا آپ ہمارے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں یا ہمارے جذبات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ہمیں عزت دینا چاہتے ہیں یا ہمیں اپنے سیاسی تجربات کا میدان بنانا چاہتے ہیں؟

گلگت بلتستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے نہیں، عملی سیاست سے دلچسپی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ کون ان کے لیے سڑک بنا سکتا ہے، کون ان کے اسکول بہتر کر سکتا ہے، کون ان کے ہسپتال درست کر سکتا ہے، کون ان کی زمین اور ان کی شناخت کا احترام کر سکتا ہے۔ ان کے لیے یہ سوال اہم نہیں کہ لاہور بہتر ہے یا کراچی؛ ان کے لیے اہم یہ ہے کہ ان کا اپنا علاقہ کتنا بہتر ہوگا۔ ان کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ ان کے بارے میں بولنے والے رہنما ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہیں یا نہیں۔

آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاست کی اصل کسوٹی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ یہاں زبان نرم ہو یا سخت، اس کی تاثیر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ہر وہ بیان جو صوبائی تعصب، طنز، کم تری یا برتری کے احساس کو جنم دے، اسے سنجیدگی سے رد کیا جانا چاہیے۔ خرم دستگیر اور عابد شیر علی کے حالیہ بیانات اسی زمرے میں آتے ہیں۔ یہ بیانات ترقی کی بات نہیں کرتے، تقسیم اور تعصب کی بو دیتے ہیں۔ یہ عوامی خدمت کی نہیں، سیاسی اشتعال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اور ایسے بیانات کو گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ان پر کھل کر تنقید ہونی چاہیے۔ یہی جمہوریت کی صحت ہے، یہی سیاسی دیانت ہے، اور یہی اس خطے کے عوام کا حق ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *