حکومت پاکستان خوشحال، عوام کا دیوالیہ نکل گیا

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

پاکستان کی معیشت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف حکومت پٹرول پر پیٹرولیم لیوی بڑھا کر اربوں روپے جمع کر رہی ہے، قرضوں کی قسطیں ادا کر رہی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اہداف پورے کر رہی ہے۔ دوسری طرف عام شہری مہنگائی، بجلی کے بلوں اور پٹرول کی قیمتوں کے بوجھ تلے دب کر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ مئی 2026 میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر کر دیا ہے جبکہ ڈیزل 414 روپے 58 پیسے پر پہنچ گیا۔ اس کے نتیجے میں پٹرول مارکیٹ میں 416 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے پٹرول پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اب 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو چکی ہے۔ یہ اضافہ براہ راست عوام کی جیب سے نکل رہا ہے۔یہ صورتحال محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا نتیجہ ہے جو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتی ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پٹرول اور بجلی پر ٹیکس زیادہ ہوتے ہیں، لیکن وہاں آمدنی، عوامی نقل و حمل اور سماجی تحفظ کا نظام مختلف ہے۔ پاکستان میں یہ نظام عوام کو نچوڑ کر حکومت کو بچانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

پاکستان میں پٹرول پر ٹیکس کا نظام


پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں متعدد ٹیکس اور وصولیاں شامل ہیں جن میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر چارجز شامل ہیں۔ حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت کا تقریباً 30 سے 35 فیصد حصہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ حکومت کی طرف سے دعوی کیا گیا ہے کہ مئی 2026 میں لیوی میں 13 روپے 91 پیسے کا اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط پوری کرنے کے لیے کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے، اشیاء کی نقل و حمل مہنگی ہوئی اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی صورتحال مختلف نہیں، مگر حالات الگ ہیں۔ یورپی ممالک میں پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی 0.359 یورو فی لیٹر سے شروع ہوتی ہے جو فرانس اور جرمنی جیسے ممالک میں 0.6 یورو یا اس سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکس 17 سے 27 فیصد تک لگتا ہے۔ نتیجتاً پٹرول کی قیمت کا 50 سے 60 فیصد حصہ ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برطانیہ میں فیول ڈیوٹی 0.5295 پاؤنڈ فی لیٹر کے علاوہ 20 فیصد قدر اضافی ٹیکس لگتا ہے۔فرق یہ ہے کہ یورپ میں اوسط آمدنی زیادہ ہے، عوامی بس اور ٹرین کا نظام بہترین ہے، اور ٹیکس سے جمع ہونے والا پیسہ سڑکوں، گرین انرجی اور سماجی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان میں غریب اور درمیانہ طبقہ گاڑی یا موٹر سائیکل پر مجبور ہے۔ کوئی مناسب متبادل موجود نہیں۔ لہٰذا یہ ٹیکس غریب پر زیادہ بوجھ ڈالنے والا ہے۔بجلی کے بلوں میں بھی یہی کہانی ہے۔ بجلی پیدا کرنے، تقسیم کرنے، توانائی وصولیوں، ماحولیاتی چارجز اور قدر اضافی ٹیکس مل کر بل کو آسمان چھوا دیتے ہیں۔

جرمنی جیسے ممالک میں بل کا 22 سے 30 فیصد حصہ ٹیکسوں کا ہوتا ہے، مگر وہاں سبسڈی اور رعایتیں بھی بہتر ہیںیعوام کے دیوالیہ ہونے کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت مستحکم ہے۔ مگر عوام کی کی معاشی حالت بالکل غیر مستحکم ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ٹرانسپورٹیشن کے کرایوں، سبزیوں، دودھ اور روزمرہ اشیاء تک سب کچھ مہنگا کر دیا۔ تنخواہ دار طبقہ، جس کا ٹیکس خود بخود کاٹا جاتا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے جولائی سے مارچ مالی سال 26 میں 420 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے 197 ارب روپے سے دگنا ہے۔دوسری طرف بڑے زمیندار، رئیل اسٹیٹ کے مالکان، طاقتور تاجر اور کچھ سیاستدان کم ٹیکس دیتے ہیں۔ زراعت پر ٹیکس کا دائرہ بہت محدود ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں کم قیمت دکھانا اور نقد لین دین عام ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کا تخمینہ ہے کہ سالانہ ٹیکس چوری ایک ٹریلین روپے سے زیادہ ہے جبکہ کچھ رپورٹس اسے 5.8 کھرب روپے تک بتاتی ہیں۔ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب پاکستان میں اب بھی 9 سے 11 فیصد کے قریب ہے جو خطے کے دوسرے ممالک سے کم ہے۔ حکومت بالواسطہ ٹیکسوں (پٹرول، سیلز ٹیکس، کسٹمز) پر انحصار کرتی ہے کیونکہ یہ آسان اور یقینی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ براہ راست ٹیکس (انکم ٹیکس) بڑھانے میں سیاسی ارادے کی کمی ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت تو دیوالیہ نہیں ہو رہی — وہ قرض لے کر اور ٹیکس نچوڑ کر اپنا بجٹ چلا رہی ہے — مگر عوام دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ گھریلو اخراجات بڑھ رہے ہیں، بچت کم ہو رہی ہے، کاروبار متاثر ہو رہے ہیں اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • ٹیکس چوری کرنے والے کون ہیں؟زیادہ آمدنی کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والوں میں شامل ہیں:
  • بڑے زمیندار: زرعی آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے۔
  • رئیل اسٹیٹ کے بڑے مالکان: جعلی قیمتوں کا تعین اور کم آمدنی ظاہر کرنا۔
  • بڑے تاجر نقد لین دین، جعلی انوائسز اور طرز زندگی کی نگرانی سے بچنا۔
  • سیاسی اشرافیہ: ان کے خاندان اور اثاثے اکثر ٹیکس کے جال سے باہر رہتے ہیں۔

اس کے برعکس تنخواہ دار طبقہ (صرف دو سے چار فیصد آبادی) سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے کیونکہ ان کا ٹیکس خود بخود کاٹ لیا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس صارفین ہی ادا کرتے ہیں مگر وہ شفاف ہوتا ہے۔ بل میں الگ الگ دکھایا جاتا ہے۔ جمع ہونے والا پیسہ سڑکوں، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان میں شفافیت کم ہے، اخراجات میں کرپشن اور غیر ضروری خرچوں کے الزامات عام ہیں۔ عوام کو لگتا ہے کہ ان کا ٹیکس سیاستدانوں کی عیاشی، قرضوں کی قسطوں اور سرکاری اداروں کی نااہلی میں ضائع ہو رہا ہے۔حل کیا ہے؟

  • ٹیکس کے دائرے کو وسیع کریں — زراعت، رئیل اسٹیٹ اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لائیں۔
  • براہ راست ٹیکس بڑھائیں اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کریں۔
  • شفافیت اور احتساب یقینی بنائیں — عوام کو بتایا جائے کہ پیٹرول لیوی کا پیسہ کہاں خرچ ہوا۔
  • عوامی نقل و حمل بہتر کریں اور سبسڈی کو صرف غریبوں تک محدود رکھیں۔
  • سیاسی ارادہ پیدا کریں اور طاقتور لابیوں کے خلاف کارروائی کریں۔

پاکستان کی معیشت اگر عوام کی قربانی پر چل رہی ہے تو یہ طویل مدتی طور پر ناقابل قبول ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف دے، غیر ضروری اخراجات کم کرے اور ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائے۔ ورنہ عوام کا صبر ٹوٹ جائے گا۔یہ وقت ہے کہ پالیسی ساز سوچیں کہ حکومت کی بقا عوام کی خو9گ7شحالی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر عوام دیوالیہ ہو گئے تو حکومت بھی بچ نہیں سکتی۔ معاشی استحکام کی بنیاد عوام کی معاشی طاقت ہے، نہ کہ ان کی امدنی پر ڈالے ہوئے ڈاکے قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے ان تمام لوگوں کو ٹیکس ادا کرنا چاہیے جو اب تک ادا نہیں کر رہے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیکس کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے عوام پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ کر دیا جائے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *