چینی کمپنی کو گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت، بڑا فیصلہ سامنے آگیا!

اسلام آباد: چینی کمپنی کی کام بند کرنے کی دھمکی کام کر گئے کمپنی کو پا کستان سے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی بلوچستان کے گوادر زون میں کام کرنے والی چینی کمپنی ہان گینگ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان سے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

کمپنی نے گذشتہ روز انتظامی معاملات کی وجہ سے کام بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے سربراہ اینڈی لیاؤ کے مطابق ’کمپنی کو بند کرنے کا بیان جاری کرنے کے بعد ان سے رابطہ کیا گیا اور انہیں اجازت نامہ دینے کا بتایا۔‘کمپنی کی جانب سے یکم مئی کو ایک بیان جاری کیا گیا تھا کہ نان آپریشنل رکاوٹوں کی وجہ سے کمپنی اپنے تمام ملازمین کو فارغ کرنے اور کام بند کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’ہماری کمپنی کو چین کے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عالمی معیار کی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے،

تاہم تمام تر ضروری منظوری کے باوجود ہمیں درآمدات کے لیے پاکستان کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ کمپنی کے عہدیدار اینڈی نےبتایا کہ ’بغیر کسی وجہ کے ہمیں وفاقی وزارت خوراک کی جانب سے این او سی جاری نہیں ہوا تھا لیکن اب اجازت مل گئی ہے

انہوں نے مزید بتایا کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے ہمیں ہر قسم کی سپورٹ مل رہی ہے لیکن انفرادی طور پر محکموں میں لوگ ذاتی مفاد کے لیے ایسا کرتے ہیں۔کمپنی کے سربراہ اینڈی نے بتایا کہ ’گوادر فری زون میں 70 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے 2023 میں گدھوں کے لیے سلاٹر ہاؤس بنایا گیا ہے

جہاں سے 15 ہزار ٹن تک گدھے کا گوشت اور سالانہ دو لاکھ 16 ہزار تک گدھے کی کھالیں چین برآمد کی جائیں گی جو ایچاؤ نامی دوا میں استعمال ہوتی ہے۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایچاؤ (جو گدھے کی کھال سے نکلنے والی جیلاٹن کو کہا جاتا ہے) ایک روایتی چینی دوا ہے جو بطور فوڈ سپلیمنٹ خون کی کمی، اور دیگر صحت کے فائدوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔این آئی ایچ کے مطابق 2020 میں ایچاؤ کی فروخت چھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *