ٹی ایس ایم سی (TSMC) نے ریکارڈ منافع کمایا ہے۔

ایران کی حالیہ جنگ نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، لیکن اسی جنگ کے درمیان تائیوان کی چپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی (TSMC) نے ریکارڈ منافع کمایا ہے۔

کمپنی نے رواں سال کے پہلے سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2026) میں اپنے خالص منافع میں 58 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) چپس کی بے پناہ عالمی مانگ کی وجہ سے ہوا، جبکہ ایران جنگ نے بھی بالواسطہ طور پر کچھ مثبت ماحول پیدا کیا۔

TSMC کا ریکارڈ کارکردگی کا اعلان

ٹی ایس ایم سی، جو دنیا کی سب سے بڑی کانٹریکٹ چپ میکر کمپنی ہے اور ایپل، این ویڈیا سمیت بڑی ٹیک کمپنیوں کو جدید چپس فراہم کرتی ہے، نے اعلان کیا کہ اس سہ ماہی میں اس کا خالص منافع 18.1 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 572.5 ارب نیو تائیوان ڈالر) تک پہنچ گیا۔

یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 58 فیصد زیادہ ہے (جو 11.5 ارب ڈالر تھا) اور پچھلے سہ ماہی (اکتوبر-دسمبر) کے مقابلے میں بھی 13.2 فیصد کا اضافہ ہے۔ کمپنی کی ریونیو بھی 35.9 ارب ڈالر تک پہنچی، جو 35-40 فیصد سالانہ اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ چوتھا مسلسل ریکارڈ منافع والا سہ ماہی ہے۔

AI بوم اور ایران جنگ کا کردار

کمپنی کے سی ای او سی سی وی کے مطابق، AI سے متعلق ڈیمانڈ انتہائی مضبوط ہے اور یہ ایک کئی سالہ میگا ٹرینڈ ہے۔ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (HPC) اور AI چپس اب کمپنی کی کل ریونیو کا 61 فیصد حصہ بن چکے ہیں۔

تاہم، کچھ تجزیہ کاروں اور رپورٹس میں ایران جنگ کو بھی منافع میں جزوی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں کچھ عدم استحکام پیدا ہوا، جس سے چپ بنانے والے مواد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر ہیلیم گیس (جو چپس کی فیبلیکیشن میں کولنگ اور etching کے لیے ناگزیر ہے) اور دیگر کیمیکلز کی رسد متاثر ہوئی، جس سے مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئیں۔

ٹی ایس ایم سی نے خود خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے ممکنہ اثرات صرف سپلائی چین کی لاگت میں اضافہ نہیں بلکہ ہیلیم، ہائیڈروجن اور دیگر اہم گیسوں/کیمیکلز کی سپلائی میں خلل بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم، کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سیفٹی سٹاک موجود ہے اور قریب المستقبل میں کوئی بڑا آپریشنل اثر نہیں پڑے گا۔

مستقبل کا outlook بھی روشن

ٹی ایس ایم سی نے 2026 کے لیے اپنا ریونیو گروتھ کا تخمینہ بھی بڑھا دیا ہے — اب یہ 30 فیصد سے زیادہ سالانہ اضافے کی توقع ہے (پہلے 30 فیصد کے قریب تھا)۔ کیپیٹل ایکسپینڈیچر بھی 52 سے 56 ارب ڈالر تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو AI کی تیاری کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

خلاصہ: جنگ اور ٹیکنالوجی کا عجیب امتزاج

ایران جنگ نے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالا ہے، تیل اور گیس کی قیمتیں متاثر ہوئیں، اور چپ انڈسٹری کے لیے خام مال (جیسے ہیلیم) کی سپلائی چین خطرے میں پڑی۔ مگر اسی دوران ٹی ایس ایم سی نے AI کی لہر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریکارڈ منافع کمایا۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مانگ کتنی مضبوط ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات بھی اسے روک نہیں پائے۔

تاہم، اگر جنگ طویل ہوئی تو سپلائی چین کی لاگت بڑھنے سے مستقبل میں منافع پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ فی الحال، AI کی بھوک TSMC کو مزید بلندیوں کی طرف لے جا رہی ہے۔

یہ خبر مختلف زاویوں سے دیکھی جا سکتی ہے: ایک طرف AI انقلاب کی کامیابی، دوسری طرف جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات۔ ٹی ایس ایم سی کی یہ کارکردگی عالمی ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک مثبت سگنل ہے، مگر احتیاط برتنے کی بھی ضرورت ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *