ایران کے یہودی: حقیقت جو آپ کو سوچ میں ڈال دے

*تحریر : وجیہ احمد صدیقی*

مشرق وسطی میں اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ یہودی ایران میں رہتے ہیں ۔ایران میں رہنے والے چند ہزار یہودی آج بھی اس ملک کی سرزمین پر اپنی قدیم جڑوں کو تھامے ہوئے ہیں جہاں صدیوں سے ان کے آباؤ اجداد نے رہائش اختیار کی تھی۔ لیکن جب اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے ایران کی جوہری تنصیبات، فوجی اڈوں اور حتیٰ کہ تہران کی ایک قدیم یہودی عبادت گاہ پر بھی ہوتے ہیں تو یہ کمیونٹی کیا کرتی ہے؟ وہ اسرائیل کی حمایت نہیں کرتی، بلکہ زبردست الفاظ میں اس کی مذمت کرتی ہے اور ایران کی فوج سے تباہ کن جواب کا مطالبہ کرتی ہے۔
کیا یہ محض خوف کی وجہ سے ہے یا واقعی ملک کے ساتھ وفاداری کا تقاضاپورا کیاگیاہے؟ کیا یہودی کمیونٹی ایرانی حکومت کی یرغمال بن چکی ہے؟ یا وہ خود کو ایرانی یہودی سمجھتے ہوئے صیہونیت کو الگ تھلگ قرار دیتے ہیں؟ یہ سوالات نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں بلکہ اقلیتوں، شناخت اور بقا کی عالمی داستان کو بھی سناتے ہیں۔ اس جائزے میں ہم حقائق، اعداد و شمار، تاریخی پس منظر اور حالیہ بیانات کی روشنی میں اس پیچیدہ صورتحال کا تجزیہ کریں گے۔
ایران میں یہودیوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ بادشاہ کورش اعظم نے یہودیوں کو بابل کی غلامی سے آزادی دلائی تھی اور انہیں واپس فلسطین جانے کی اجازت بھی دی تھی۔ اس کے باوجود بہت سے یہودی ایران ہی میں رہ گئے اور ایرانی ثقافت کا حصہ بن گئے۔
1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے ایران میں 80,000 سے 100,000 یہودی رہتے تھے۔ انقلاب کے بعد بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی اور تقریباً 60,000 سے 80,000 یہودی ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ زیادہ تر امریکہ اور اسرائیل پہنچے۔ آج 2026 میں ایران میں یہودیوں کی تعداد 8,500 سے 15,000 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ زیادہ تر تخمینہ 9,000 سے 10,000 کے قریب ہے۔ جبکہ کچھ ذرائع 15,000 تک کا ذکر کرتے ہیں۔ زیادہ تر یہودی تہران، شیراز اور اصفهان میں رہتے ہیں۔ یہ تنزل سیاسی عدم استحکام، معاشی پابندیوں اور اسرائیل ایران تناؤ کی وجہ سے ہوا، مگر باقی رہنے والے خود کو ایرانی شہری کہتے ہیں اور اپنے وطن سے گہرا تعلق بھی جتاتے ہیں۔
ایرانی آئین یہودیوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے اور ان کے لیے پارلیمنٹ یعنی مجلس میں خصوصی نشستیں بھی مختص ہیں۔ مجلس میں یہودیوں کے لیے صرف ایک مخصوص نشست ہے۔ موجودہ نمائندہ ڈاکٹر ہمایوں سمیح نجف آبادی ہیں جو 2020 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ وہ تہران یہودی ایسوسی ایشن کے سربراہ بھی ہیں۔ ان سے پہلے سیامک مورہ صدق اور موریس معتمد جیسے ارکان رہے۔ یہ نمائندہ کمیونٹی کے حقوق کی آواز اٹھاتا ہے مگر اعلیٰ عہدوں جیسے صدارت یا فوجی قیادت پر یہودیوں سمیت کسی غیر مسلم کے فائز ہونے پر پابندی ہے۔ یہ نظام اقلیتوں کو تحفظ دیتا ہے مگر حقیقت میں انہیں مسلم اکثریت کے برابر حقوق نہیں ملتے۔ مثال کے طور پر جائیداد کی وراثت میں غیر مسلم کو کم حصہ ملتا ہے اور یہودیوں پر جاسوسی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان یہودیوں کو اسرائیل جانے کی اجازت ہے یا نہیں؟
قانونی طور پر ایرانی آئین مائیگریشن کی اجازت دیتا ہے مگر عملی طور پر رکاوٹیں ہیں۔ ایرانی پاسپورٹ پر اسرائیل کے لیے ویزا نہیں ملتا۔ اسرائیل جانے والوں کو کسی تیسرے ملک سے ویزا لینا پڑتا ہے۔ فیملیز ایک ساتھ نہیں جاسکتیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ان خاندانوں کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔
1979 کے بعد 20,000 سے زائد یہودی اسرائیل گئے مگر اب مائیگریشن بہت کم ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے 2007 میں ایرانی یہودیوں کو بہت سی مالی مراعات کی پیشکش کی مگر ایران کے یہودی کمیونٹی کے لیڈرز نے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر ہمایوں سمیح نجف آبادی اور دیگر لیڈرز کہتے ہیں کہ ہم ایرانی ہیں، صیہونی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران ہمارا وطن ہے اور ہم یہاں کاروبار کرتے ہیں، ہماری خاندانی جڑیں یہاں ہیں اور حکومت کی نگرانی میں میں ہی ہم بقا کی راہ تلاش کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اسرائیل امریکہ کے حملوں نے اس کمیونٹی کو مزید امتحان میں ڈال دیا۔ جون 2025 کی 12 روزہ جنگ میں اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔
فروری مارچ 2026 میں امریکہ اسرائیل کے مشترکہ حملوں نے ایرانی انقلابی گارڈز کے کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا۔ اور اپریل 2026 میں تہران کی رفیع نیا سیناگاگ پر حملہ ہوا جس میں یہودی عبادت گاہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور تورات کی مقدس کتابیں ملبے تلے دب گئیں۔ ان حملوں پر ایرانی یہودی کمیونٹی کا موقف یکساں طور پر واضح اور شدید ہے۔
ڈاکٹر ہمایوں سمیح نجف آبادی نے حملوں کو وحشیانہ اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے یہودیوں پر بھی رحم نہیں کیا۔ یہودی تعطیلات کے دوران ہمارے ایک قدیم اور مقدس سیناگاگ کو نشانہ بنایا گیا۔ تورات کے کئی نسخے سیناگاگ کےملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہ صیہونی حکومت کا ایرانی یہودیوں کے ساتھ مکمل نفرت کا اظہار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم صیہونیت کو ایک ایسا فرقہ قرار دیتے ہیں جس کا یہودیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل ایسا سبق سکھائیں کہ وہ یاد رکھے اور اور انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی اطاعت پر زور دیا۔
اصفہان یہودی ایسوسی ایشن نے بیان جاری کیا کہ صیہونیوں کی سفاکیت کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت نے ہمارے دلوں کو زخمی کیا ہے۔ یزد یہودی ایسوسی ایشن نے اسے وحشیانہ اور درندگی کہا اور توقع ظاہر کی کہ ایران اسرائیل کو منہ توڑ جواب دے گا۔
تہران کے چیف ربی یونس حمامی لاله زار نے حملوں کوانسانیت سے غداری اور جنگی جرائم قرار دیا۔ ربی نے کہا کہ صیہونی کسی مذہب کا احترام نہیں کرتے۔ ان تمام بیانات میں کمیونٹی نے ایران کی فوج سے سے مطالبہ کیا کہ ایسا جواب دیں کہ اسرائیل اس حملے پر ساری عمر پچھتاتا رہے۔

*یہ موقف بقا کی حکمت عملی ہے یا حقیقی وفاداری؟*

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی یہودی عمومی طور پر حکومت کے وفادار رہتے ہیں تاکہ سرکاری طور پر ستائے جانے سے بچیں۔ *کیونکہ 1979 کے بعد 13 یہودیوں کو پھانسی دی جا چکی ہے اور ان پر جاسوسی کے الزامات لگتے رہتے ہیں ۔*
دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ میں رہنے والے ایرانی یہودی ان حملوں کو حکومت کی تبدیلی کی امید سمجھتے ہیں۔ ایران میں رہنے والے لیڈرز کہتے ہیں کہ وہ وطن پرست ہیں جبکہ بیرون ملک رہنے والے انہیں یرغمال کہتے ہیں۔
اس صورتحال سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا اقلیتوں کو ہمیشہ اکثریت کی وفاداری کا ثبوت دینا پڑتا ہے؟
کیا مذہبی آزادی صرف آئین کی دفعات تک محدود ہے یا یہ سماجی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے؟
ایران کی یہودی کمیونٹی 25 سیناگاگ، ڈاکٹر ساپیر ہسپتال چلاتیب اور اپنا اخبار شائع کرتی ہے۔ مگر عبرانی زبان پڑھانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ پابندی قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا یہ بقا کی حکمت عملی ہے یا ایرانی شناخت کی حقیقی مثال؟
مستقبل میں یہ تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ اگر ایران اسرائیل جنگ جاری رہی تو ایرانی یہودیوں پر دباؤ بڑھے گا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر ہجرت ممکن نہیں کیونکہ حکومت اسے روکتی ہے۔ دوسری طرف بیرون ملک رہنے والے ایرانی یہودیوں کو واپس لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اقلیتوں کی جگہ کو نمایاں کرتی ہے۔
کیا یہودی کمیونٹی ایران کی حکومت کے لیے ثبوت ہے کہ یہ یہودی ملک دشمن ہیں یا نہیں؟ یا یہ صرف ایک پروپیگنڈا ہے؟
آخر میں، ایرانی یہودیوں کی کہانی صرف اعداد و شمار اور بیانات کی نہیں بلکہ شناخت، وفاداری اور بقا کی ہے۔ وہ اسرائیل کے حملوں پر رونے لگتے ہیں کیونکہ ان کی عبادت سیناگاگ تباہ ہو رہے ہیں، ان کے وطن پر اسرائیلی بم گر رہے ہیں۔ کیا یہ انہیں اسرائیل کا دشمن بناتا ہے یا یہ صرف انسانی جذبات کا اظہارہے؟ قارئین خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ وفاداری ہے، خوف ہے یا تاریخ کی ایک الگ داستان جو ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں صرف فوجیوں کی نہیں بلکہ ان لوگوں کی بھی ہوتی ہیں جو درمیان میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی جذبات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں اور شناخت کبھی ایک رنگ نسل اور مذہب کی نہیں ہوتی۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *