“را کا مبینہ خفیہ منصوبہ بے نقاب! آزاد کشمیر سے متعلق چونکا دینے والی دستاویز لیک”

‏اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے پکڑے گئے ایک خفیہ مراسلے میں آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ہو شربا انکشافات سامنے آئے ہیں سکیورٹی ذرائع کے مطابق اپریل کے تیسرے ہفتے میں مارخور نے بھارتی خفیہ ایجنسی کا کلاسیفائیڈ مراسلہ حاصل کیا۔ جس میں آزاد کشمیر میں حالیہ انتشار کی تمام منصوبہ بندی موجود تھی ۔ اور اس وقت آزاد کشمیر اور برطانیہ میں وہی سب ہورہا ہے جس کی را نے منصوبہ بندی کی تھی اور ایکشن کمیٹی صرف اس منصوبہ بندی پر عمل درآمد کررہی ہے ۔ 6 اپریل 2026 کو بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی اندرونی خفیہ دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ حالیہ بد امنی کے پس پردہ بھارت ہے ۔ نئی دہلی ایک منظم منصوبے کے تحت بدامنی کو ہوا دے رہی ہے تاکہ عالمی رائے عامہ اور سفارتی محاذ پر پاکستان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیلا جا سکے۔ اس خفیہ دستاویزات کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی نے منصوبہ بنایا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دوبارہ فعال کیا جائے گا ۔ اور جون کے اوائل میں آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی لہر چلائی جائے گی ۔ اس کیلئے گزشتہ برس اکتوبر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو اس منصوبے کا کامیاب پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا ۔

یعنی ایک ایسا ماڈل جو مقامی آبادی کے حقوق کے نام پر پاکستان مخالف جزبات کو ابھار سکے ۔ دستاویز یہ بھی بتاتی ہے کہ JKLF، UK PNP اور JAAC جیسی تنظیموں کے اندر بھارتی حمایت یافتہ کارندے اب اتنا اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں کہ یہ تنظیمی پالیسی اور فیصلہ سازی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بھارت سے دی جانے والی والی ہدایات مقامی آواز بنا کر پیش کی جاتی ہیں، جس سے عام لوگ کُھل کر اصل محرکات کو بھانپ نہیں پاتے۔ را نے یہ اہداف طے کئے تھے (1) آزاد کشمیر کے آئینی و قانونی ڈھانچے میں تبدیلی کے مطالبات کو عوامی خواہش بنا کر پیش کیا جائے تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کشمیر سے متعلق قانونی حیثیت کو دھچکا پہنچے۔(2) پاکستان کو ایک مفاد پرست فریق کے طور پر بدنام کیا جائے اور اس کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا کیا جائے۔(3) سوشل میڈیا اور زمینی احتجاج کے ذریعے پاکستان آرمی اور انٹیلیجنس اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی جائے، تاکہ سیکیورٹی فورسز کو “باہر کے قابض” قرار دے کر اُن پر حملے جائز دکھائے جا سکیں۔ (4) برطانیہ، سعودی عرب، امریکہ اور یورپ میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن کو اُکسایا جائے کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں اور ہائی کمیشنز کے باہر احتجاج کر کے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کریں۔اس منصوبہ بندی کے تحت بھارت کا مطلوبہ بنیادی مقصد یہ تھا کہ آزاد کشمیر میں مسلسل عدم استحکام رہے، پاکستان ہر فورم پر دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور ہو، اور کشمیر پر اس کا اخلاقی و سفارتی موقف کمزور پڑ جائے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *