حکومت نے نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-27 میں ترامیم منظور کرلیں

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-27 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جن کا مقصد مربوط توانائی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا، بجلی کی پیداوار اور ترسیلی نظام میں توسیع، دور دراز علاقوں میں قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو فروغ دینا اور سرحد پار بجلی کی تجارت کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت منگل کو اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کے دوران ہوئی

اجلاس میں پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-2027 میں ترامیم پیش کیں۔ نوٹس کے مطابق ان ترامیم میں توانائی کے شعبے میں مربوط منصوبہ بندی، بجلی کی پیداوار میں اضافہ، دور دراز علاقوں میں قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی فراہمی، سرحد پار بجلی کی تجارت، ترسیلی نظام میں توسیع، ٹیرف کا تعین، بجلی کی بچت، نظام اور مارکیٹنگ سے متعلق امور، خطرات کی نشاندہی اور متعلقہ انتظامی معاملات، مقامی سطح پر ایندھن اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت بہتر بنانا، تحقیق و ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔

ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے حکومتِ خیبر پختونخوا اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے مزید مشاورت کی جائے۔اجلاس میں کمیٹی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی انٹیگریٹڈ انرجی پلان 2027-2060 کی ہائی لیول ڈیزائن رپورٹ کی بھی منظوری دے دی۔بیان کے مطابق مذکورہ توانائی منصوبے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’اس منصوبے کا مقصد بجلی اور توانائی کے شعبے میں توانائی کے تحفظ اور معاشی مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔‘‘اس منصوبے کے تحت صنعتی اور گھریلو صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے کی حکمتِ عملی بھی وضع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کم کاربن اخراج والی توانائی اور بجلی کی پیداوار کے ساتھ ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے گا۔ مزید برآں، کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو مالی سال 2025-26 کے دوران پاور سیکٹر اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *