نیویارک( نمائندہ خصوصی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک سینئر پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ سلامتی کونسل کی حالیہ سالانہ رپورٹ میں دیرینہ تنازعات، کشمیر اور فلسطین کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں ان کے مطابق 15 رکنی ادارے کی اپنی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ کی مدت (1 جنوری سے 31 دسمبر 2025) کے دوران مسئلہ پاک ہند سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ میں لائے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کونسل نے مئی 2025 میں اس ایجنڈا آئٹم کے تحت بند کمرے کا مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔ سفیر عاصم احمد نے اس رپورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے مسلسل اس کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ جولائی 2025 میں کونسل کے صدر کی حیثیت سے پاکستان نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے اور اس کا مسودہ تیار کرنے میں تعاون کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ناگزیر ہے اور کشمیریوں کو ان کے حقِ خودارادیت کے استعمال کی اجازت ملنی چاہیے۔
پاکستانی مندوب کے ان بیانات پر بھارتی سفیر پروا تھانینی ہریش نے ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جس پر پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے سخت جوابی وار کرتے ہوئے نئی دہلی پر کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کے وعدہ کردہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھنے کا الزام لگایا۔ 193 رکنی اسمبلی سے اپنے خطاب میں سفیر عاصم احمد نے یہ بھی کہا کہ یہ سالانہ رپورٹ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو نمایاں کرتی ہے جن میں مسئلہ فلسطین اور جموں و کشمیر کا تنازع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازعات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کا حل ہونا ناگزیر ہے۔
مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ جاری المیہ، بالخصوص غزہ کی صورتحال کونسل کے ایجنڈے پر سرفہرست رہی۔ خونریزی کو روکنے میں بار بار کی ناکامیوں کے بعد کونسل نے قرارداد 2803 منظور کی جس میں غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی اور یہ امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ قرارداد 2803 پر مکمل اور دیانتداری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے فلسطین کی ریاست کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ سفیر عاصم احمد نے کہا کہ یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور خصوصی سیاسی مشنز کے ناگزیر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن مشنز کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ یہ مشنز موثر ہوں، انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں اور وہ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

Leave a Reply