اسلام آباد( نمائندہ خصوسی) ایران جنگ اور پاکستان سے کشیدگی کے باعث افغانستان شدید بحران کا شکار ہو گیا پاکستان کی جانب سے سرحدی رکاوٹ اور اب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے خشکی سے گھرے افغانستان کے لیے تجارت اور انسانی امداد کی فراہمی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں جبکہ غذائی قلت کے شکار ہزاروں افراد بنیادی سہولتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔گذشتہ سال کے آخر میں جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحدی گزرگاہیں بند ہوئیں تو افغان تاجروں نے متبادل راستے کے طور پر ایران کا رخ کیا۔ پاکستان کی سرحدی بندش کے بعد افغانستان کی برآمدات اور درآمدات کی ترسیل ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے ذریعے شروع کی گئی تاہم یہ راستہ بھی زیادہ دیر کارآمد نہ رہ سکا
کیونکہ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں جاری جنگ کے باعث سینکڑوں بحری جہاز پھنس چکے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی افغانستان کے لیے آنے والے ہزاروں کنٹینرز رکے ہوئے ہیں۔ان دونوں راستوں کی بندش نے افغانستان کی معیشت اور امدادی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق غذائی قلت کے شکار خواتین اور بچوں کے لیے فراہم کی جانے والی امداد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف ترسیلی اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے بلکہ سپلائی بھی تقریباً منقطع ہو چکی ہے۔ اس سے قبل زیادہ تر غذائی امداد پاکستان سے آتی تھی، تاہم سرحد بند ہونے کے بعد اسے دبئی اور ایران کے راستے منتقل کیا جا رہا تھا، جو اب عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔

Leave a Reply