پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ: فلسطین و مقبوضہ کشمیر میں انسانی رسائی اور احتساب یقینی بنایا جائے

اقوامِ متحدہ: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ غیر ملکی قبضے کے تحت فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کا تحفظ شدید خطرات سے دوچار ہے، اور بلا رکاوٹ انسانی امداد، احتساب اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ناگزیر ہے۔

20 مئی 2026 کو سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب *سفیر عاصم افتخار احمد* نے کہا کہ قبضہ قابض طاقت کی ذمہ داریاں کم نہیں کرتا بلکہ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے فلسطین میں محفوظ اور فوری انسانی امداد، خلاف ورزیوں کے احتساب اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر زور دیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے شہری بھاری عسکری موجودگی، من مانی گرفتاریوں، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی اکتوبر 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے 2,800 گرفتاریوں، گھروں کی مسماری اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش کا ذکر کیا۔

سفیر نے کہا کہ ساحل، سوڈان، ڈی آر سی اور غزہ سمیت کئی خطوں میں شہری بمباری، بے دخلی، بھوک اور تشدد کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کا تحفظ ہمدردی نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کے لیے 5 ترجیحات پیش کیں: بین الاقوامی قانون کا بلا امتیاز نفاذ، احتساب، محفوظ انسانی رسائی، تنازعات کا پُرامن حل، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قانون کے دائرے میں لانا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *