اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب: دہشت گردی برآمد کرنے والا ملک شہریوں کے تحفظ پر درس نہ دے

 

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شہریوں کے تحفظ پر سالانہ مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت کے بیان پر حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔

پاکستان کی کونسلر *صائمہ سلیم* نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر مظلومیت کا نقاب اوڑھ کر آیا ہے، لیکن دنیا اس کے پیچھے چھپے چہرے کو پہچانتی ہے۔ انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرتا ہے، طاقت کے زور پر اقوام کو زیرِ قبضہ رکھتا ہے، اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے، پانی کو ہتھیار بناتا ہے اور پھر دوسروں کو درس دیتا ہے۔

1. دہشت گردی کے الزامات:* پاکستان نے کہا کہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے پراکسی گروہ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرکے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغانستان میں کیے گئے آپریشنز صرف دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خلاف تھے، عام افغان شہریوں کے خلاف نہیں۔

2. کشمیر اور انسانی حقوق:* پاکستان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ نہ چھپا سکتا ہے نہ انکار کر سکتا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں شہریوں کا قتل، گرفتاری، گھروں کی مسماری اور حقِ خودارادیت سے محرومی جاری ہے۔

3. اقلیتوں کے ساتھ سلوک:* بھارت میں مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور مسیحیوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا انتہا پسندی، اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور ہجومی تشدد کو معمول بنا دیا گیا ہے۔

4. سندھ طاس معاہدہ:* پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور جو ملک کروڑوں لوگوں کا پانی خطرے میں ڈالے وہ شہریوں کے تحفظ پر بات نہیں کر سکتا۔

پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امن، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام تنازعات کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی، قبضے اور جارحیت کے باعث بے نقاب ہو چکا ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *