آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایران نے امریکی نیت پر سوال اٹھا دیے

اسلام آباد: ایران نے امن منصوبے پر ردعمل مؤخر کر کے امریکہ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا خلیج میں نئی جھڑپوں کے دوران ایران نے امریکی سفارتی سنجیدگی پر سوال اٹھا دیے، جنگ بندی کی تجویز پر واشنگٹن ایرانی جواب کا منتظر،خلیج میں بحری جھڑپوں کے نئے سلسلے کے بعد ایران نے ہفتے کے روز امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے، جبکہ واشنگٹن اب بھی تہران کے تازہ مذاکراتی موقف پر جواب کا منتظر ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ انہیں جنگ بندی کے نازک معاہدے میں توسیع اور امن مذاکرات کے آغاز سے متعلق واشنگٹن کی نئی تجویز پر ایران کے جواب کی توقع ہے، ’’ممکنہ طور پر آج رات تک‘‘۔اہم اگر ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے کوئی جواب بھجوایا بھی، تو اس کا کوئی عوامی اشارہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب سے گفتگو میں امریکی قیادت کے قابلِ اعتماد ہونے پر سوال اٹھا دیے۔

ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ’’خلیج فارس میں امریکی افواج کی حالیہ کشیدگی میں اضافہ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق ان کے متعدد اقدامات نے سفارت کاری کے عمل میں امریکی فریق کی نیت اور سنجیدگی کے حوالے سے شکوک و شبہات مزید بڑھا دیے ہیں۔‘‘

جمعہ کو پیش آنے والے ایک واقعے میں ایک امریکی جنگی طیارے نے دو ایرانی پرچم بردار ٹینکروں پر فائرنگ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا، جن پر واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔تازہ واقعہ آبنائے ہرمز میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی کشیدگی کے بعد پیش آیا۔ یہ اہم عالمی بحری گزرگاہ ایران کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے، جہاں تہران غیر ملکی بحری جہازوں سے محصولات وصول کرنے اور امریکہ و اس کے اتحادیوں پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو ایک بار پھر کہا کہ تہران کے لیے اس اہم تیل بردار بحری راستے پر کنٹرول حاصل کرنا ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔واشنگٹن نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو خلیج میں جنگ بندی میں توسیع کی ایک تجویز بھجوائی ہے تاکہ 10 ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آئی ایس این اے کے مطابق جمعہ کو کہا کہ اس تجویز کا ’’جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی قیادت میں مستقل امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایران جنگ کے دوران قطر میں بعض مقامات کو بھی نشانہ بنا چکا ہے اور اس کی وجہ امیر ریاست قطر میں موجود بڑے امریکی فضائی اڈے کو قرار دیا جاتا ہے۔دریں اثنا، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے ساحل کے قریب سمندر میں تیل کی تہہ پھیل رہی ہے۔عالمی نگرانی کے ادارے آربیٹل ای او ایس کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ممکنہ اخراج کی وجہ کیا تھی، تاہم یہ تہہ جزیرے کے مغربی ساحل کے قریب دیکھی گئی اور اس کا پھیلاؤ 20 مربع میل (52 مربع کلومیٹر) سے زیادہ رقبے تک محسوس کیا گیا۔ برطانیہ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم، کنفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے تک تیل کی یہ تہہ ’’نمایاں حد تک کم ہو چکی تھی‘‘ اور امکان ہے کہ اس کی وجہ تیل کے انفرااسٹرکچر سے ہونے والا رساؤ ہو۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *