اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل: مشرق وسطیٰ گہرے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، مکمل جنگ کا خطرہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے 10 جون 2026 کو سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ گہرے بحران میں دھنستا جا رہا ہے اور اس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ہفتے حملوں میں اضافہ اور صورتحال کی مزید خرابی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے مکمل جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

### لبنان، غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال
سیکرٹری جنرل نے لبنان میں مارچ سے جاری کشیدگی پر تشویش ظاہر کی، جہاں اسرائیل نے لبنان کے اندر کارروائیاں تیز کیں اور حزب اللہ نے اسرائیل کے اندر حملے کیے۔ انہوں نے شہریوں کی ہلاکت، ایک ملین سے زائد افراد کی بے گھری، اور سات اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا، جن میں ایک ہلاکت گزشتہ ہفتے ہوئی۔

انہوں نے لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے مطابق سفارتی حل پر زور دیا اور کہا کہ لبنان میں اسلحے پر حکومت کی اجارہ داری ہونی چاہیے۔

غزہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آٹھ ماہ قبل اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود صورتحال غیر یقینی اور انسانی مصائب شدید ہیں۔ روزانہ شہریوں کی ہلاکت ہو رہی ہے، انسانی امداد محدود ہے، اور پانی، خوراک، صحت جیسی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے غزہ میں امداد کو سودے بازی کا ذریعہ نہ بنانے اور جنگ بندی کو مستحکم کر کے تعمیر نو کا مطالبہ کیا۔

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد، گھروں کی مسماری، اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کو ناممکن بنا رہے ہیں۔

### خلیج، شام اور یمن پر مؤقف
خلیج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی “کمزور جنگ بندی” بن گئی ہے اور 48 گھنٹوں میں حملے اور بیان بازی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری حقوق کی پابندیوں کو عالمی مہنگائی اور خوراک کے بحران کا سبب قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان کی فعال ثالثی پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور مصر، عمان، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی کوشوں کو سراہا۔ ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات اور خلیج کے لیے نئی سلامتی کا ڈھانچہ تجویز کیا۔

شام میں 13 سال بعد امن کی امید پر بات کرتے ہوئے انہوں نے شمولیت، قانون کی حکمرانی اور تعمیر نو کی ضرورت پر زور دیا۔ یمن میں 1600 قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کو ثالثی کی کامیابی قرار دیتے ہوئے انہوں نے حوثیوں سے اقوام متحدہ اور این جی اوز کے اہلکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *