گندم ذخائر پر وزیر غذائی تحفظ کا بیان، بحران کی خبریں بے بنیاد

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں وافر ذخائر موجود ہیں گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں انہوں نے منگل کو نیشنل ویٹ اوورسائٹ کمیٹی کے 12ویں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک میں گندم کی موجودہ خریداری کی صورتحال، گزشتہ سالوں کے اسٹاک، طلب و رسد کی صورتحال اور مجموعی غذائی تحفظ کے پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

حکومت کے مطابق وفاقی اور صوبائی اداروں کے باہمی رابطے سے گندم کی سپلائی اور قیمتیں مستحکم ہیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مصنوعی بحران یا ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے بروقت اقدامات جاری رہیں گے۔

اجلاس میں وزارت کے سینئر حکام، صوبائی محکمہ زراعت کے سیکرٹریز، پاسکو کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سرکاری اداروں کے پاس موجود گندم کے ذخائر، مختلف صوبوں میں جاری خریداری آپریشنز، اور بین الصوبائی ترسیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی تاکہ ملک بھر میں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمیٹی نے ملکی ضروریات، اسٹریٹجک ذخائر اور مارکیٹ رجحانات کا بھی جائزہ لیا۔وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت قومی ذخائر میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے اور جاری خریداری کے اہداف آنے والے ہفتوں میں مزید مضبوط بفر اسٹاک کو یقینی بنائیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ گندم کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام میں مدد دے رہا ہے۔وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی کمی سے متعلق خبریں بے بنیاد اور سرکاری اعداد و شمار کے منافی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت غذائی تحفظ، قیمتوں کے استحکام اور ملک بھر میں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ وزیر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ خریداری کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جائے، اسٹاک رپورٹنگ میں شفافیت کو بہتر بنایا جائے اور مارکیٹ میں کسی بھی قسم کے مصنوعی اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔

کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسانوں کے مفادات اور صارفین کی ضروریات کے تحفظ کے لیے متوازن خریداری اور ترسیل کی پالیسی پر عمل جاری رکھے گی

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *