مومنہ اقبال ,اور ثاقب چدھڑ کیس یا گھریلو ملازمہ کا گینگ ریپ اور قتل

تحریر: وجیہ احمد صدیقی
پاکستان میں ہراسانی کا جو قانون بنایا گیا تھا، اس کا مقصد تھا کہ ان خواتین کو جو اپنے کام کے مقامات پر ہراساں کی جاتی ہیں مختلف طریقوں سے ان کو تحفظ حاصل ہوسکے ۔لیکن وہ خواتین تو اب بھی غیر محفوظ ہیں اور اس قانون کو اب ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔ جو اداکارہ گلوکارہ چاہتی ہے اس قانون کو استعمال کر کے اپنی شہرت میں اضافہ کر لیتی ہے، اور گھریلو ملازمائیں مردوں اور عورتوں کے تشدد سہتے سہتے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔
اس کی تازہ ترین مثال ان دو کیسز سے ملتی ہے ایک کیس تو لاہور کی گھریلو ملازمہ کا ہے جس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور پھر جہاں وہ ملازم تھی وہاں کے لوگوں نے دباؤ ڈال کر اس سے ان مجرموں کو بچانے کے لیے بیان لے لیا لیکن وہ اپنی جان نہ بچا سکی۔ اور دوسرا کیس وہ ہے جس میں اداکارہ مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ پر ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ یہ کیس صرف ایک ذاتی جھگڑا نہیں ہے بلکہ اس میں غلط ہوتا ہوا قانون، طاقتور کا تحفظ، اور عوام کا اعتماد جیسے بڑے سوال بھی شامل ہیں جن نے پورے ملک میں بحث کو بڑھا دیا ہے۔
کیس کی تفصیلات اور پیچیدہ پس منظر
مومنہ اقبال نے مئی 2026 میں پولیس کو ایک درخواست دی تھی جس میں انہوں نے ثاقب چدھڑ پر بلیک میلنگ، ہراسانی، اور موت کی دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم پی اے نے انہیں اور ان کے منگیتر حمزہ حبیب کو بار بار فون کر کے دھمکیاں دی ہیں۔ یہ درخواست قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھیجی گئی تھی جہاں سے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد انہوں نے لاہور کے ایک جج سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی۔ عدالت نے یہ ضمانت منظور کی۔ یہ کیس ایسا دلچسپ بن گیا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے پر الزامات کا انبار لگاتے رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر اس کی شدت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔
اداکارہ کا رویہ: بدتہذیبی یا حق کی آواز؟
مومنہ اقبال کے خلاف جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ہیں، ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ خود بھی رکن صوبائی اسمبلی کو ہراساں کر رہی ہیں۔ مڈل فنگر دکھانا، بدتہذیبی، اور ناپسندیدہ انداز میں بات کرنا کسی بھی سماج میں پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا، چاہے وہ شخص کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو۔ اگر انہیں قانون سے انصاف درکار ہے تو وہ سوشل میڈیا پر بھی اخلاق کے دائرے میں رہیں اپنے بیڈ روم کے مناظر سوشل میڈیا پر نہ پیش کریں۔ اگر کوئی اداکارہ قانون کے سامنے اپنی بات رکھتی ہے تو اسے بھی اخلاقی حدود کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن یہاں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ خود قانون کی توہین کر رہی ہیں۔
یہ رویہ دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریق قانون کا استعمال اپنے ذاتی ذاتی شہرت اور خبروں میں رہنے کے لیے کر رہے ہیں ۔ مومنہ اقبال کا مڈل فنگر دکھانا اور ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت حاصل کرنا، دونوں ہی اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کیس اصل میں ہراسانی کے قانون پہلے سے نہیں بلکہ طاقت اور شہرت کے استعمال کا ہے۔ ہمیں اس بات سے اتفاق ہے کہ کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کو ہراساں کرنے کی آزادی نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ اس کیس میں موت تک کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ لیکن جس طریقے سے اس کیس کی شہرت ہو رہی ہے اور جس طریقے سے اداکارہ کی تصاویر عام ہو رہی ہیں اس کا مقصد ہمیں کچھ اور ہی نظر اتا ہے اور اس قانون کو استعمال کر کے اپنی شہرت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسی دوران لاہور میں ایک 18 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ نہ صرف زیادتی ہوئی اس کی عصمت دری ہوئی بلکہ اس پر اتنا تشدد ہوا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اس کے پاس ایسا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ یہ بتا سکتی کہ اسے جس گھر میں وہ کام کر رہی ہے ہراساں کیا جا رہا ہے یہ قانون غریبوں کے لیے نہیں ہے محتاجوں کے لیے نہیں ہے صرف عمرہ کی طفل تسلیوں کے لیے ہے۔
ہراسانی کا قانون: ایک مذاق بن کر رہ گیا
پاکستان میں ہراسانی کے قوانین کا مقصد کمزور لوگوں کو طاقتور کے ظلم سے بچانا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون اب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں ہراساں کیے جاتے ہیں، وہ اپنی بےعزتی کے خوف سے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ اس بےعزتی، اس توہین کا ذکر نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ انصاف ملنا ناممکن ہے۔ اور جس شخص نے ان کی توہین کی ہے انہیں ہراساں کیا ہے وہ بہت طاقتور ہے اس کے خلاف وہ کچھ نہیں کر سکتے اور قانون بھی انہی کی طفل تسلیوں کے لیے بنایا گیا ہے۔
طاقتور لوگ، چاہے وہ سیاستدان ہوں، فنکار ہوں، یا کاروباری ہوں، اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے قانون کے پنجے سے نکل جاتے ہیں۔ ثاقب چدھڑ جیسے ایم پی اے کو عبوری ضمانت مل جاتی ہے، جبکہ ایک عام شہری کو برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ یہ تضاد عوام کے ذہنوں میں قانون کے خلاف بے اعتمادی پیدا کرتا ہے۔
طاقتور کا تحفظ اور کمزور کا دب جانا
اس کیس میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ثاقب چدھڑ واقعی بے گناہ ہیں تو انہیں عبوری ضمانت کیوں ملنی چاہیے؟ اور اگر وہ گناہگار ہیں تو انہیں کیوں سزا نہیں مل رہی؟ دوسری طرف، مومنہ اقبال جیسی اداکارہ جو خود بھی اخلاقی حدود کا خیال نہیں رکھتی، وہ کیسے ہراسانی کا شکار ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ طاقتور لوگ ہمیشہ اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ ثاقب چدھڑ جیسے ایم پی اے کے پاس سیاسی اثر و رسوخ ہے، وہ عدالتوں میں اپنی ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔ مومنہ اقبال جیسی اداکارہ کے پاس شہرت ہے، وہ میڈیا کے ذریعے اپنی بات پھیلا سکتی ہیں۔ لیکن دونوں ہی اصل ہراسانی کے شکار لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے۔
قانون کا مذاق بننا اور عوامی بے اعتمادی
جب طاقتور لوگ قانون کا مذاق بناتے ہیں، تو عوام کا قانون کے خلاف بداعتمادی بڑھتی ہے۔ عام شہری جو ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ انصاف میں قانون کے خلاف بداعتمادی کا ایک بڑا سبب ہے۔
ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال دونوں ہی اس قانون کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں۔ ایک ایم پی اے ہے جو عبوری ضمانت حاصل کر لیتا ہے، اور دوسری اداکارہ ہے جو اخلاقی حدود کا خیال نہیں رکھتی۔ دونوں ہی اصل ہراسانی کے شکار لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے، اور یہی مسئلہ ہے۔
سخت سزا: ایک ہی راستہ
اگر ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے تو میری ناقص رائے کے مطابق، ان دونوں حضرات کو اس قانون کا مذاق بنانے پر سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ ثاقب چدھڑ اگر واقعی بے گناہ ہیں تو انہیں ثابت کرنا چاہیے، لیکن اگر وہ گناہگار ہیں تو انہیں سزا ملنی چاہیے۔ مومنہ اقبال اگر خود بھی اخلاقی حدود کا خیال نہیں رکھتی، تو وہ کیسے ہراسانی کا شکار ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہیں؟
یہ کیس اس بات کی دلیل ہے کہ ہراسانی کا قانون اب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ طاقتور لوگ اس کا استعمال اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کرتے ہیں، جبکہ کمزور لوگ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان دونوں حضرات کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ دیگر لوگوں کو پیغام ملے کہ قانون کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔
عوامی جذبات اور انصاف کی خواہش
عوامی جذبات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ لوگ انصاف چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ طاقتور لوگ قانون کا مذاق بنائیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے سزا ملے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ دونوں ہی شہرت اور طاقت کے مالک ہیں، لیکن انہیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔
پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں۔ وہ اپنی مزید بےعزتی کے خوف سے بات نہیں کرتے۔ ان لوگوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ اگر ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کو سزا ملتی ہے تو یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہوگا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار
میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس کیس کو بہت بڑا بنا دیا ہے۔ دونوں فریق سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہتے ہیں۔اگر وہ واقعی ہراساں ہوئے ہیں تو انہیں عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے نہ کہ سوشل میڈیا اپنی عدالت لگا کر بیٹھ جائیں۔اس عدالت کو جس میں یہ مقدمہ چل رہا ہے اسے بھی فریقین کو پابند کرنا چاہیے کہ اپنا مقدمہ سوشل میڈیا پر نہ چلائیں ۔ یہ صورتحال اس بات کی دلیل ہے کہ میڈیا کو بھی ذمہ داری سے کام کرنا چاہیے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ حقائق کی جانچ کرے اور صرف ایک فریق کی بات نہ سنے۔
سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگ مومنہ اقبال کے ساتھ ہیں، تو کچھ لوگ ثاقب چدھڑ کے ساتھ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق قانون کا مذاق بنائے ہوئے ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ عوام کو حقائق بتائے اور انصاف کے لیے آواز اٹھائے۔
قانون میں اصلاح کی ضرورت
پاکستان میں ہراسانی کے قانون میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ یہ قانون اب کمزور لوگوں کی بجائے طاقتور لوگوں کے کام آ رہا ہے۔ قانون میں ایسی بندشیں ہونی چاہئیں کہ طاقتور لوگ اس کا استعمال نہ کر سکیں۔ ہراسانی کے شکار لوگوں کو تحفظ حاصل ہونا چاہیے، اور انہیں انصاف ملنا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ لاہور کی گھریلو ملازمہ کی طرح جس کے گینگ ریپ ہوا آوروں قتل بھی ہوگئی۔لیکن وہ انصاف کا دروازہ نہیں کھٹکھٹا سکی۔
قانون میں تبدیلی آنی چاہیے تاکہ ہراسانی کے کیسز جلدی سماعت ہو سکیں۔ فی الحال کیسز برسوں تک عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں، اور ہراسانی کا شکار شخص تباہ ہو جاتا ہے۔ قانون میں ایسی ترتیب ہونی چاہیے کہ ہراسانی کے کیسز کاکم از کم تین ماہ کے اندر فیصلہ ہو جائے۔
ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کا کیس صرف ایک ذاتی جھگڑا نہیں بلکہ اس کیس میں قانون کا غلط استعمال، طاقتور کا تحفظ، اور عوامی اعتماد کے بڑے سوال شامل ہیں۔ دونوں فریق قانون کا مذاق بنانے میں ملوث ہیں، اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ پاکستان میں ہراسانی کے قانون کو باوقار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور لوگوں کو بھی سزا ملے، اور کمزور لوگوں کو انصاف ملے۔
یہ کیس ایک وارننگ ہے کہ قانون کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر طاقتور لوگ قانون کا مذاق بناتے رہے، تو عوام کا قانون کے خلاف بے اعتمادی بڑھتی رہے گی، اور اصل ہراسانی کے شکار لوگ ہمیشہ دبک کر بیٹھتے رہیں گے۔ ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال دونوں ہی اس بات کی دلیل ہیں کہ قانون کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا، اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔
پاکستان میں انصاف کا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔ ہر شخص کو برابر انصاف ملنا چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ اگر ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کو سزا ملتی ہے تو یہ پورے ملک کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہوگا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، اور کوئی اس سے اوپر نہیں ہے۔

Leave a Reply