قادیانیوں کی ذیلی جماعت امن و نور احمدی کے ہیڈ کوارٹرز پر 500 پولیس اہلکار تعینات
لندن۔(پاک وطن رپورٹ )
برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی پولیس نے سنگین جنسی جرائم، جدید غلامی اور جبری شادی کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں احمدی ریلجن آف پیس اینڈ لائٹ (AROPL) کے ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ مارا ہے۔( جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کی ہی زیلی جماعت ہے) انگلینڈ کے شمال مغربی علاقے سے تقریباً 500 پولیس اہلکار بدھ کی صبح کریو، چیشائر میں موجود تھے۔ پولیس نے تصدیق کی کہ نو احمدی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو حراست میں ہیں۔ پولیس کو گروپ کے ہیڈ کوارٹرز (جو پہلے قادیانی یتیم خانہ تھا) اور کریو کے دیگر مقامات پر چھاپہ مارنے کے وارنٹ حاصل تھے۔
یہ گرفتاریاں مارچ میں اس وقت ہوئیں جب چیشائر پولیس کو ایک خاتون کی جانب سے شکایت ملی،( وہ اب آئرلینڈ میں رہتی ہیں)۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2023 میں AROPL کے ہیڈ کوارٹرز پر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیااور اس کی عصمت دری کی گئی۔ اس وقت وہ احمدی جماعت کی رکن تھی۔
پولیس کے مطابق چھ مرد اور تین خواتین کو انسانی سمگلنگ، جنسی حملہ، عصمت دری، جبری شادی اور جدید غلامی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔ ملزموں کی قومیتیں امریکی، میکسیکن، ہسپانوی، مصری، اطالوی اور سویڈش بتائی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ 13 افراد کو عوامی امن کے خلاف جرائم کے شبہ میں گرفتار کیا گیا، جو اس تحقیقات سے الگ ہے۔
گرفتاریوں کے بعد پولیس نے جگہ کی تلاشی لی۔ ہیڈ کوارٹرز کے قریب سڑک بند کر دی گئی تھی جب پولیس کی بڑی ٹولی اندر داخل ہوئی۔
چیف سپرنٹنڈنٹ گیرتھ رگلی نے کہا: “گرفتار شدگان گروپ کے رکن ہیں، لیکن یہ مذہب کی تحقیقات نہیں بلکہ سنگین الزامات کی تفتیش ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “ہم تمام جنسی حملوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور انصاف کے لیے کوشاں ہیں۔”
احمدی ریلیجن اف پیس اینڈ لائٹ
ایک مذہبی فرقہ ہے جو 2021 میں کریو منتقل ہوا۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ یہ اسلام کے شیعہ عقائد کو المناٹی اور ایلین عقائد اور امریکی صدور پر کنٹرول جیسے قیاس آرائیوں سے ملا دیتا ہے۔ کے پیروکار پیروکار سیاہ ٹوپیاں پہنتے ہیں اور مانتے ہیں کہ ان کے لیڈر بیماروں کو ٹھیک کر سکتے ہیں اور چاند غائب کر سکتے ہیں۔
گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ پرامن، کھلا اور شفاف ہے، جو شیعہ اسلام سے نکلا ہے ۔ برطانیہ میں اسے چیریٹی کا درجہ حاصل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قادیانی جماعت ہی کی ایک شکل ہے جو اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے اس ذریعے کو استعمال کرتی ہے اگر یہ شیعہ عقائد پر مشتمل ہے تو ان کے نام میں احمدی کا لفظ کیوں آیا ہے کیونکہ کوئی بھی شیعہ احمدی عقائد نہیں رکھتا۔
قادیانی گروپ کو ان سے اپنے تعلق سے برات کا اعلان اس وقت کیوں کرنا پڑا جب ان کے خلاف چھاپہ پڑا ، جبکہ یہ کئی سالوں سے احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ کے نام سے کام کر رہے تھے تب تک تو جماعت احمدیہ کو ان پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ لیکن جب ان پر چھاپا پڑا تو فورا ان سے دامن چھڑا لیا۔ نہ ہی انہیں یہ مسلمان تسلیم کرتا ہے۔
کریو کی اس تاریخی عمارت میں تقریباً 150 لوگ رہتے ہیں۔ شہر اور دنیا بھر میں دیگر پیروکار ہیں۔ وہ یوٹیوب پر ویڈیوز بناتے ہیں جن کے 31 ملین سے زیادہ ویوز ہیں۔
وہاں 56 بچے ہوم اسکولنگ سے پڑھتے ہیں۔ پولیس نے بچوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
پہلے مقامی کونسل نے بچوں سے متعلق دو بار پوچھ گچھ کی تھی، لیکن کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
گارڈین کو اس جماعت کے سابق ارکان نے بتایا کہ گروپ میں سخت کنٹرول تھا اور باہر والوں سے رابطے توڑنے کا دباؤ تھا۔ گروپ کے وکلاء نے اس کی تردید کی ہے۔
گروپ 2021 میں سویڈن سے برطانیہ آیا۔ اس سے پہلے مصر اور جرمنی میں تھا۔ سویڈن میں امیگریشن حکام نے 69 ارکان کے رہائشی اجازت منسوخ کر دیے اور کئی کو ملک بدر کیا گیا۔ گروپ نے اسے نسلی اور مذہبی ستم قرار دیا۔
برطانیہ میں ہوم آفس اس کی ویزا پالیسی کی تفتیش کر رہا ہے۔ گروپ نے تمام الزامات مسترد کیے ہیں۔
قادیانیوں کا پروپیگنڈا اور دباؤ برطانوی حکومت پر اتنا ہے کہ اخبار کو یہ نوٹ لگانا پڑا یہ کہ احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ احمدیہ کمیونٹی سے الگ ہے، جو برصغیر سے شروع ہوئی اور برطانیہ میں بڑی تعداد میں ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کوئی اور گروپ ہے تو اپنے نام کے ساتھ احمدی کیوں لگایا ہوا ہے۔ پاک وطن نیوز اس حوالے سے مزید تحقیقات میں مصروف ہے اور اپ کے سامنے جلدی مزید سنسنی خیز انکشافات کیے جائیں گے۔

Leave a Reply