ایک تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ سینکڑوں بالغ افراد مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کو پہچاننے میں ناکام رہے۔
یہ انتباہ ’وچ؟‘ کے ایک سروے کے بعد سامنے آیا جس میں 514 بالغ افراد کو اے آئی ڈیپ فیک اور اصل ویڈیوز دکھا کر جانچنے کو کہا گیا کہ کون سا مواد حقیقی ہے۔
10 میں سے سات افراد تمام اصلی اور جعلی ویڈیوز کو درست طور پر پہچاننے میں ناکام رہے، آٹھ فیصد نے سب غلط پہچانا اور 21 فیصد صرف ایک درست کلپ کی نشاندہی کر سکے۔
ایک خاص طور پر قائل کرنے والی ڈیپ فیک ویڈیو میں ’بوٹس‘ کے عملے کو ایک غیر لائسنس یافتہ وزن کم کرنے والی پروڈکٹ کو فروغ دیتے دکھایا گیا۔
ہیلتھ اینڈ بیوٹی ریٹیلر (بوٹس) کے ترجمان نے کہا ’یہ اشتہارات جعلی ہیں اور ہم صارفین سے محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہیں۔
’ہم سوشل میڈیا پر اس قسم کے مواد کی فعال نگرانی کرتے ہیں اور جسے بھی شناخت کرتے ہیں اسے پلیٹ فارم مالکان کو رپورٹ کرتے ہیں اور فوری ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
یہ ویڈیوز کنگسٹن یونیورسٹی کے ماہرین کو بھی دکھائی گئیں جو تمام مواد کو درست طور پر پہچاننے میں ناکام رہے۔
سروے کے نصف شرکا نے، جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، کہا کہ وہ روزانہ کم از کم ایک ڈیپ فیک ویڈیو دیکھتے ہیں۔
گلوبل ٹیک سٹرٹیجسٹ ’جونیپر ریسرچ‘ کے مطابق صرف یورپ میں 2025 کے دوران سوشل میڈیا کمپنیوں نے فراڈ اشتہارات سے تقریباً 3.8 ارب پاؤنڈز کمائے۔
’وِچ؟‘ نے کہا ہوم آفس کی رواں سال شائع کردہ فراڈ سٹریٹیجی عوام تک پہنچنے والی جعل سازیوں کو روکنے میں ناکام رہے گی۔

Leave a Reply