پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا نائب وزیراعظم اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے گزشتہ سال کی بنائی گئی چینی کو فوری بر آمد کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے نائب وزیرِ اعظم اور وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں حکومت کی جانب سے گذشتہ کرشنگ سیزن کی بنائی گئی فالتو چینی کو فوری برآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خطوط کے مندرجات کے مطابق 15 جولائی، 2026 کو ملک میں 34 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے ایف-بی-آر اور شوگر انڈسٹری کے باہمی متفقہ اسٹاکس موجود ہیں جبکہ ماہانہ اوسط کھپت 567،426 میٹرک ٹن ہے۔ اس طرح 15 نومبر کو نئے کرشنگ سیزن 27-2026 کے آغاز پر ملک میں 11 لاکھ، 58 ہزارمیٹرک ٹن بچی چینی کا بہت بڑا سرپلس ذخیرہ موجود ہو گا۔ اگلے کرشنگ سیزن میں دوبارہ گنے کی بمپر فصل ہونے کی توقع ہے جس سے پھرملکی ضرورت سے زائد 80 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہو گی۔
ترجمان نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ گنے کے کاشتکاراس وقت تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ ستمبر کاشت کا وقت بالکل قریب ہے اور اس حوالے سے وہ پریشان ہیں کہ سرپلس چینی بڑی مقدار میں ابھی تک ملوں کے گوداموں میں پڑی ہے اور جب تک یہ چینی برآمد نہیں ہو گی تب تک ملیں اُن سےزیادہ گنانہ خریدسکیں گی اور نہ ہی انھیں بہتر ریٹ دے پائیں گی۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر اور بروقت ادائیگیوں نے انہیں گنے کی بہتر اقسام کی کاشت کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں فی ایکٹر پیداوار اور گنے میں چینی کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگلے کرشنگ سیزن میں گنے کی اچھی فصل ہونے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں چینی زیادہ بنائی جائے گی۔ مگر یہ اُسی صورت ممکن ہو پائے گا جب سرپلس چینی برآمد کر کے کسانوں کو نئی فصل کاشت کرنے کی ترغیب ملے گی بصورت دیگر اگلے سالوں میں گنے کی کاشت اور چینی کی پیداوار میں کمی ہو گی اور قیمتی زرِمبادلہ خرچ کر کے چینی درآمد کرنا پڑے گی۔اس وقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ اس کی طلب بہت کم ہے۔ چینی کی موجودہ قیمتیں اُس کی پیداواری لاگت سے انتہائی کم ہیں جبکہ گنے اور دیگر مداخل کی لاگت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ چینی کے فروخت نہ ہونے والے اسٹاکس کی بدولت شوگر انڈسٹری کو بینکوں کے قرضوں اور کاشتکاروں کے بقایا جات کی ادائیگیوں میں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ان اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت سے درخواست ہے کہ فوری طور پر 5 لاکھ ، 85 ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے اور اسٹریٹجک ذخائر میں رکھا گیا اسٹاک کرشنگ سیزن شروع ہونے کے ایک مہینہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *