واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بارے میں دیے گئے بیانات میں تضادات عروج پر پہنچ گئے ہیں، جس سے سفارتی مذاکرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک جانب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جوہری پروگرام معطل کرنے اور یورینیم اسٹاک خالی کرنے پر رضامندی دکھائی ہے، جبکہ ایرانی حکام نے ان باتوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے دور مذاکرات کے باوجود، ٹرمپ کے عوامی دعوؤں نے اعتماد کے خلا کو گہرا کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے بلوم برگ اور سی بی ایس کو بتایا کہ جنگ ختم ہونے والے ہے، مگر اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بیانات مذاکرات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور پابندیوں ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکہ 20 سال تک ایران کےجوہری پروگرام کی معطلی چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے بجلی گھروں اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دیں، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہیں۔
اس تضاد نے اسرائیل جیسے اتحادیوں کو بھی الجھن میں ڈال دیا ہے، جہاں ٹرمپ ایک وقت رجیم چینج کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسرے وقت اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ جنگ کے دوسرے مہینے میں ہزاروں امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجے جا چکے ہیں، اور ٹرمپ اسے کامیابی قرار دیتے ہیں۔

Leave a Reply