لاہور — وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لاہور میں منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں حالیہ عالمی تناظر اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات خطے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی، جس میں عوام پر بوجھ کم سے کم رکھا جائے اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی جائے۔
انہوں نے قائم کردہ کمیٹی کو **آئندہ 48 گھنٹوں** میں قابل عمل اور سہل تجاویز پیش کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ہی اس کشیدگی کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی پیدا نہیں ہوئی۔
گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ (پٹرول اور ڈیزل میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ) بھی کمیٹی کی تجویز پر کیا گیا، جس میں عالمی اضافے کا کم سے کم بوجھ صارفین پر منتقل کیا گیا۔
وزیر اعظم کی سخت ہدایات:
– جو بھی پٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی جائے، اسے فوری بند کیا جائے، لائسنس منسوخ کیا جائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔
– وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور بلاتعطل فراہمی کے لیے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی تیار کریں۔
وزیر اعظم نے کمیٹی کو مزید فعال ہو کر جلد از جلد عوام کے لیے سہولت بخش سفارشات پیش کرنے کی تاکید کی۔ یہ اقدامات عالمی معاشی دباؤ کے باوجود عوام کو ریلیف دینے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply