اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں چینی وفد کے ساتھ لائیو اسٹاک کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، بھینسوں کے ایمبریو کی برآمد، جینیاتی وسائل کی ترقی اور پاکستان کی اعلیٰ معیار کی دودھ دینے والی نسلوں کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران، اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ (AQD) کے نمائندگان، تکنیکی ماہرین اور لائیو اسٹاک بریڈنگ و بائیوٹیکنالوجی سے وابستہ چینی کمپنیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پاکستان سے چین بھینسوں کے ایمبریو کی برآمد کے وسیع امکانات اور لائیو اسٹاک جینیات، دودھ کی پیداوار میں اضافے اور جدید بریڈنگ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چینی وفد نے پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ بھینسوں کی نسلوں کو سراہتے ہوئے جانوروں کی جینیات اور ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دنیا کی بہترین دودھ دینے والی بھینسوں کی نسلوں کا حامل ہے، خصوصاً نیلی راوی نسل اپنی زیادہ دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت اور اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کی وجہ سے عالمی سطح پر ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اجلاس میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ اعلیٰ معیار کی ڈیری جینیات کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کے لیے برآمدات اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ برآمدات میں اضافے اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ معیار کی دودھ دینے والی نسلیں خصوصاً چین جیسے دوست ممالک کے ساتھ زرعی تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Leave a Reply