اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) بلوچستان کے ضلع نوشکی میں شدت پسند حملوں کے بعد بلوچستان پولیس نے 40 افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے 30 کو ملازمت سے برطرف جبکہ دیگر 10 کی سالانہ انکریمنٹ روک دی ہے۔ حکام کے مطابق ان اہلکاروں پر فرائض میں غفلت، اپنی پوسٹیں چھوڑنے، حملوں کے دوران مؤثر ردِعمل نہ دینے اور آپریشنل کوتاہیوں کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔سرکاری حکم ناموں کے مطابق 31 جنوری 2026 کو بھاری اسلحے سے لیس شدت پسندوں نے نوشکی میں متعدد سرکاری تنصیبات اور پولیس اداروں پر بیک وقت حملے کیے تھے۔ نشانہ بننے والے مقامات میں ایس پی آفس، ڈی آئی جی کیمپ آفس، پولیس لائنز، سٹی اور صدر تھانہ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ، ڈپٹی کمشنر ہاؤس اور دیگر حساس تنصیبات شامل تھیں۔ان حملوں کے دوران سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا، اسلحہ لُوٹا اور چھینا گیا
جبکہ متعدد سرکاری گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ حکم نامے کے مطابق ’حملوں کے بعد رخشان رینج کے ڈی آئی جی کی ہدایت پر سکیورٹی اور آپریشنل کوتاہیوں کی انکوائری شروع کی گئی۔ مزید کہا گیا ہے کہ شوکاز نوٹسز، متعلقہ اہلکاروں کے بیانات، ڈیوٹی ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ اہلکاروں پر سنگین غفلت، ڈیوٹی پوسٹ چھوڑنے، آپریشنل ردِعمل میں ناکامی اور سرکاری ذمہ داریوں میں کوتاہی ثابت ہوئی جس پر انہیں سزا دی گئی۔ برطرف کیے گئے 30 ملازمین میں تین اسسٹنٹ سب انسپکٹرز محمد یونس، غلام فاروق اور عبدالمنان، دو ہیڈ کانسٹیبل اور 25 کانسٹیبل شامل ہیں۔
یہ افسران اور اہلکار پولیس لائنز، سیشن کورٹ، نیشنل بینک، ڈی سی ہاؤس اور دیگر حساس مقامات پر تعینات تھے۔ اسی انکوائری کے تناظر میں مزید 10 افسران اور اہلکاروں کی سالانہ ایک انکریمنٹ بھی روک دی گئی ہے۔ ان میں ایک سب انسپکٹر، چار اے ایس آئی اور پانچ کانسٹیبل شامل ہیں۔ حکم نامے کے مطابق ان اہلکاروں کے خلاف نگرانی اور آپریشنل ذمہ داریوں میں کوتاہیوں کے شواہد سامنے آئے، تاہم حکام نے مجموعی حالات اور ڈیوٹی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں نسبتاً نرم سزا دی۔ یاد رہے کہ 31 جنوری کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے بلوچستان کے ایک درجن سے زائد شہروں میں بیک وقت منظم حملے کیے گئے تھے۔

Leave a Reply