سگریٹ سمگلنگ،ٹیکس چوری،ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات شروع

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹ ذیلی کمیٹی کا ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کی صنعتوں کے 1120 ارب روپے کے کنزمپشن سرٹیفکیٹس اور تمباکو صنعت میں ٹیکس چوری کی تحقیقات کا حکم دے دیا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں سگریٹ کی اسمگلنگ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود، دلور خان، بلال خان اور حاجی ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔

اجلاس میں تمباکو صنعت کے 1120 ارب روپے کے کنزمپشن سرٹیفکیٹس کی ریکوری کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے کسٹمز کے ڈیٹا کے نجی میڈیا اداروں تک لیک ہونے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ کسٹمز حکام کی مبینہ شمولیت کے بغیر ڈیٹا لیک نہیں ہو سکتا۔ ایف بی آر نے بتایا کہ ڈیٹا لیک کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ کنوینر نے ایف بی آر کے رکن کو ہدایت کی کہ ڈیٹا لیک میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔

ذیلی کمیٹی نے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے لیے درآمد کیے گئے سامان کے جاری کردہ کنزمپشن سرٹیفکیٹس کی مکمل تفصیلات پیش نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے کنزمپشن سرٹیفکیٹس کے اجرا سے قبل آڈٹ کا حکم دیا ہے اور پاکستان کسٹمز کو سیکیورٹی چیکس کیش کرانے سے بھی روک دیا ہے۔ کنوینر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کے معاملے پر پیش رفت رپورٹ پیش کرے۔

کمیٹی نے ٹیکس سے مستثنیٰ صنعتوں، کنزمپشن سرٹیفکیٹس، ٹیکس استثنیٰ کے مبینہ غلط استعمال اور متعلقہ محکموں میں کرپشن کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے حکام کو مکمل ریکارڈ فراہم کرنے اور بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔

چیئرپرسن نے کنزمپشن سرٹیفکیٹس کے لیے درخواست دینے والے افراد اور ان کیسز کی تفصیلات طلب کیں جو متعلقہ محکمے نے آئینی عدالتوں میں اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت مطلوبہ دستاویزات یا معلومات فراہم کرنے سے انکار کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایف آئی اے نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اگر معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو ایف آئی اے کنزمپشن سرٹیفکیٹس کے اجرا کے عمل میں معاونت کر سکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض صنعتکار دو یا اس سے زائد فیکٹریاں چلا رہے ہیں، جن میں ایک ٹیکس سے مستثنیٰ علاقے اور دوسری کسی آباد علاقے میں قائم ہے، جبکہ بعض کسٹمز اہلکار مبینہ طور پر ایسے طریقہ کار میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود نے یاد دلایا کہ پاکستان کسٹمز نے ماضی میں کنٹینرز کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ٹریکنگ چپس متعارف کرائی تھیں، تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ کنٹینرز اپنے مقررہ مقامات تک پہنچے یا نہیں۔ انہوں نے ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال اور اسمگلنگ سے متعلق بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کرنے پر زور دیا۔

سینیٹر بلال نے بلوچستان میں صنعتی ترقی کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات جائز اشیاء کو بھی اسمگل شدہ سامان قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ بلوچستان کی سرحدیں بند ہیں۔

چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں کام کرنے والی تمام فیکٹریوں کو خطوط ارسال کیے جائیں اور گزشتہ دو سال کے دوران درآمد کیے گئے خام مال، استعمال شدہ مواد، برانڈ ناموں اور ادا کیے گئے ٹیکسز کی مکمل تفصیلات طلب کی جائیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کسٹمز نے 378 ارب روپے مالیت کے کنزمپشن سرٹیفکیٹس جاری کیے ہیں۔ چیئرپرسن نے ان کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر اکاؤنٹ تفصیلات بھی طلب کیں جن کے نام پر یہ سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔

ایف بی آر کے نمائندے نے بتایا کہ ادارے نے اس مسئلے سے نمٹنے اور ایسے طریقوں کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

کرپشن اور چوری کا معاملہ

ذیلی کمیٹی نے سرکاری اہلکاروں میں کرپشن اور چوری کے الزامات کا بھی جائزہ لیا۔ تین تحقیقاتی افسران شہزیب علی، فخر گوندل اور کرسٹوفر کو مبینہ کرپشن کے معاملے میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ چوری کے واقعات میں مبینہ طور پر 22 افراد ملوث تھے، جن میں سے 11 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ذیلی کمیٹی نے ملزمان کے معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیلات اور ان کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس بھی طلب کر لیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے سفارش کی کہ کرپشن کا کیس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے مرکزی اجلاس میں بھی زیر بحث لایا جائے۔

ذیلی کمیٹی نے 2018ء سے 2026ء تک کے کنزمپشن ڈیٹا کی فراہمی کو سراہتے ہوئے متعلقہ محکموں کو 2018ء سے قبل کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

تمباکو کمپنیوں کا خام مال

ذیلی کمیٹی کو تمباکو کمپنیوں کی جانب سے درآمد کیے جانے والے اہم خام مال کے استعمال سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقریباً 20,002 میٹرک ٹن ایسیٹیٹ ٹو (Acetate Tow) درآمد کیا گیا، جس میں سے 97 فیصد دو بڑی کمپنیوں کے حصے میں آیا جبکہ باقی 3 فیصد دیگر کمپنیوں نے درآمد کیا۔

اسی طرح تقریباً 15,639 میٹرک ٹن سگریٹ پیپر درآمد کیا گیا، جس میں 10,840 میٹرک ٹن پاکستان ٹوبیکو کمپنی (PTC) اور 3,118 میٹرک ٹن فلپ مورس نے درآمد کیا، جبکہ باقی مقدار دیگر کمپنیوں کے حصے میں آئی۔

فلٹر راڈز کے حوالے سے بتایا گیا کہ تقریباً 533 میٹرک ٹن درآمد کیے گئے، جن میں سے 96 فیصد دو بڑی کمپنیوں جبکہ 4 فیصد دیگر کمپنیوں کے حصے میں آیا۔

بریفنگ کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس نے درآمد شدہ استعمال شدہ خام مال کا تقریباً 94 فیصد استعمال کیا، جبکہ مقامی کمپنیوں کا حصہ تقریباً 6 فیصد رہا۔

چیئرپرسن نے تشویش کا اظہار کیا کہ متعلقہ محکمے ذیلی کمیٹی کو مکمل اور یکجا تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس پشاور ریجنل ٹیکس آفس (RTO) کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی ایل ٹی یو اسلام آباد جبکہ فلپ مورس ایل ٹی یو کراچی کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ذیلی کمیٹی نے متعلقہ آر ٹی اوز اور ایل ٹی یوز کو دونوں کمپنیوں کے ٹیکسز اور درآمد شدہ خام مال کی مکمل تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں کام کرنے والی چار غیر قانونی سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو حال ہی میں سیل کیا گیا ہے۔ ذیلی کمیٹی نے آر ٹی او پشاور کے دائرہ اختیار میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔

کنوینر نے متعلقہ حکام کو سگریٹ پر ٹیکس کے تعین کے لیے استعمال ہونے والا فارمولا بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کاروبار دوست پالیسیوں کی تشکیل کی سفارش کی تاکہ ٹیکس کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ رشوت اور کرپشن کے مواقع کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اجلاس میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے حکام نے بھی شرکت کی۔ کنوینر نے چوری کے واقعات میں گرفتار افراد کی تعداد سے متعلق بریفنگ میں تضاد کی نشاندہی کی۔ ایک بریفنگ میں 22 افراد کے ملوث ہونے جبکہ انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے 11 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی۔ ذیلی کمیٹی نے اس تضاد پر وضاحت طلب کرتے ہوئے درست اور یکجا تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ذیلی کمیٹی نے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ مواصلات کو مبینہ طور پر گمراہ کن بیان کے حوالے سے خط لکھنے اور معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کی ہدایت کی۔

ذیلی کمیٹی نے ایک بار پھر تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال، غیر قانونی درآمدات، کرپشن اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے شفافیت، احتساب اور مؤثر نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *