سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرلیا ہے، مجتبیٰ حسینی خامنہ ای 1969ء میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کی پرورش ایسے دور میں ہوئی جب ان کے والد سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم ایک نمایاں مذہبی رہنما کے طور پر ابھر رہے تھے۔1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد خامنہ ای خاندان ریاستی نظام کے مرکز میں آ گیا۔ تہران منتقل ہونے کے بعد مجتبیٰ نے الوی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جو حکومتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کی تیاری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔بعد ازاں انہوں نے قم میں ممتاز علما کی نگرانی میں دینی تعلیم حاصل کی، تاہم کئی دہائیوں کی تعلیم کے باوجود وہ تاحال آیت اللہ کے درجے تک نہیں پہنچ سکے۔ایران۔عراق جنگ کے دوران انہوں نے حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں، جہاں ان کے تعلقات ایسے افراد سے قائم ہوئے جو بعد میں ملک کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے۔اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ یا سرکاری منصب نہیں سنبھالا، تاہم انہیں طویل عرصے سے سپریم لیڈر کے دفتر میں بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کے کردار کا موازنہ اکثر سابق ایرانی سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے بیٹے احمد خمینی سے کیا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا اثر و رسوخ بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے ہے، جو ایران کی سیاسی معیشت اور سیکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔2019ء میں امریکا نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای پر پابندیاں عائد کیں اور الزام لگایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے اختیارات کا کچھ حصہ اپنے بیٹے کو منتقل کر رکھا تھا۔ اصلاح پسند سیاست دانوں اور بعض مغربی حکومتوں نے بھی ان پر انتخابی عمل میں مداخلت اور سیکیورٹی کریک ڈاؤن کی حمایت کے الزامات عائد کیے، جنہیں ایرانی حکام مسترد کرتے رہے ہیں۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *