سندھ طاس معاہدہ معطل، مودی کا پاکستان پر نیا وار

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)  مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کا حکم دے دیا بھارتی وزیرِ بلدیات و آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ نئی دہلی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کہ ایک قطرہ پانی بھی وہاں نہ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر کیا گیا ہے اور اس عمل کی نگرانی وزیر داخلہ امت شاہ خود کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اس مقصد کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔سی آر پاٹل نے کہا کہ معاہدہ اب بھی موجود ہے، تاہم اسے معطل حالت میں رکھا گیا ہے۔ بھارت اور پاکستان دریاؤں کے اس نظام کے معاہدے کے فریق ہیں جس میں چھ دریا شامل ہیں جن کے سرچشمے بھارت میں ہیں مگر وہ دریائے سندھ کے طاس کے ذریعے پاکستان کی طرف بہتے ہیں۔

ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت سندھ طاس کے چھ دریاؤں کا انتظام کیا گیا تھا۔ تین مغربی دریا—سندھ، جہلم اور چناب—کے پانی کے حقوق پاکستان کو دیے گئے تھے جبکہ تین مشرقی دریا—راوی، بیاس اور ستلج—بھارت کے حصے میں آئے تھے۔ اس دریاوی نظام سے آنے والا پانی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں لاکھوں افراد اس پر بجلی، پینے کے پانی اور زرعی آبپاشی کے لیے انحصار کرتے ہیں، کیونکہ ملک کی معیشت بڑی حد تک زراعت پر مبنی ہے۔ معاہدے کے مطابق بھارت پر لازم ہے کہ وہ سالانہ 43 ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان کی طرف جانے دے، جو پاکستان کے کل سطحی پانی کا تقریباً 80 فیصد بنتا ہے اور اس کی زراعت، شہروں اور پن بجلی کے نظام کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ معاہدے کے مطابق بھارت کو مغربی دریاؤں کا پانی صرف ایسے کاموں کے لیے محدود طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے جن میں پانی ختم نہ ہو، جیسے پن بجلی بنانا۔ لیکن بھارت یہ نہیں کر سکتا کہ وہ پانی کے بہاؤ میں ایسی تبدیلی کرے جس سے پاکستان کی پانی کی ضرورت متاثر ہو۔ پاکستان نے بھارت پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر سرحد پار دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی گئی تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *