اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نےکہا ہے کہ غیر قانونی گندم کی تجارت کرنے والوں اور جعلی بیج کمپنیوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی وفاقی وزیر نے جمعرات کو نیشنل ویٹ اوورسائٹ کمیٹی (NWOC) کے 13ویں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزارت کے سینئر حکام، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں گندم کی خریداری، بیجوں کے ضوابط، گندم کی پالیسی اور پیداواری اعداد و شمار سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے پنجاب حکومت کی جانب سے بیج کمپنیوں کی شکایات پر گندم کے بیجوں کے اسٹاک کی ضبطی کے معاملات پر غور کیا۔ پنجاب حکومت نے وضاحت کی کہ بیج کمپنیوں کی جانب سے گندم کو بیج کے اسٹاک کی آڑ میں مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا، اور کارروائی صرف انہی عناصر کے خلاف کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (FSC&RD) بیجوں کے اسٹاک کا ڈیٹا پنجاب حکومت کے ساتھ شیئر کرے گا تاکہ اسے ان کے پورٹل پر اپ ڈیٹ کیا جا سکے اور اسٹاک کی تصدیق کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس کے دوران وزیر نے بیج کے شعبے میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جعلی بیج کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو گندم کے بیجوں کی غیر قانونی نقل و حرکت اور تجارت میں ملوث ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریگولیٹری قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو قانونی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا تاکہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ اور معیاری بیج کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اجلاس میں مجوزہ نیشنل ویٹ پالیسی 2026–2030 پر صوبوں کی آراء کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر نے ایک جامع اور مستقبل بین گندم پالیسی کی اہمیت پر زور دیا جو پیداوار، خریداری، گندم کے ذخیرہ اور قومی غذائی تحفظ کے نئے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ پالیسی کی بروقت تکمیل کے لیے تمام صوبوں کو 20 جون تک اپنی تفصیلی آراء اور سفارشات جمع کرانے کی ہدایت دی گئی۔ کمیٹی کو ملک بھر میں گندم کی خریداری کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں خریداری کا عمل تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔ صوبائی نمائندوں نے اپنے اپنے اہداف کے حصول پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیر نے صوبائی حکام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ خریداری کے عمل کو شفاف اور مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے لیے قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے۔
اجلاس میں مالی سال 2025–26 کے لیے صوبوں کی جانب سے جمع کرائے گئے گندم کی پیداوار کے حتمی اعداد و شمار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ پنجاب اور سندھ نے اپنے حتمی اعداد و شمار جمع کرا دیے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو مزید وقت درکار ہے تاکہ وہ اپنا ڈیٹا مکمل کر سکیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت غذائی تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، کسانوں کے مفادات کے تحفظ، زرعی نظام کی بہتری اور گندم کی خریداری و تقسیم کے نظام کی کارکردگی بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان مربوط تعاون زرعی شعبے کی پائیدار ترقی اور ملک میں طویل مدتی غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ گندم کے انتظامات کی بہتری، مارکیٹ کے استحکام اور پاکستان کی زرعی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے

Leave a Reply