جاپان نے بھارتی آم کو ‘ریڈ کارڈ’ کیوں دکھایا؟

امریکی مارکیٹ میں پاکستانی آم مہنگا ہونے کے باوجود ‘مقبول کیوں؟

تحریر: وجیہ احمد صدیقی

آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور دنیا بھر میں اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دنیا کے بہترین آم پیدا کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں آم کی ورائٹیز کو بہتر سے بہتر بنانے کا مقابلہ جاری رہتا ہے۔ ایک جملہ تفنن طبع کے لیے کہتا ہوں: چونکہ پاکستان میں آمریت بہت زیادہ رہی ہے اس لیے پاکستان کے آم کی ورائٹی بھی دنیا میں سب سے بہتر ہے۔

آم صرف پھل نہیں ہے۔ یہ ہماری پہچان ہے، ہماری تہذیب ہے، اور اب تو کئی ملکوں کے آپس کے رشتے بھی اس کے ذائقے سے جڑ گئے ہیں۔ 2026 کے سیزن میں دو بڑی خبریں آم کی تجارت کے حوالے سے سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ جاپان نے 20 سال بعد بھارت سے آم منگوانا بند کر دیا۔ دوسری یہ کہ امریکہ میں پاکستانی آم ایک ڈبہ 60 سے 100 ڈالر کا بک رہا ہے، پھر بھی لوگ لینے کے لیے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ جاپان نے بھارتی آم کو کیوں واپس بھیج دیا؟ اور پاکستانی آم اتنا مہنگا ہونے کے باوجود پوری دنیا میں سب سے زیادہ کیوں پسند کیا جاتا ہے؟

جاپان نے بھارتی آم لینے سے کیوں انکار کیا؟
بھارتی آموں پر جاپان میں پابندی کیسے لگی؟

مارچ 2026 میں جاپان کے افسروں نے اچانک بھارت کے ان کارخانوں کا دورہ کیا جہاں آم کو بھاپ سے گرم کر کے کیڑے مارے جاتے ہیں۔ اس طریقے کو “وی ایچ ٹی” کہتے ہیں۔ جاپانی افسروں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یہاں صفائی اور دوا چھڑکنے کا کام عالمی معیار کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔ بس اسی دن جاپان نے اعلان کر دیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد بھارت سے آنے والا ایک بھی آم ہم نہیں خریدیں گے اور مفت بھی نہیں لیں گے۔

اس پابندی میں بھارتی الفانسو، کیسر، لنگڑا، چونسا اور بنگن پلی جیسے مشہور آم بھی شامل ہیں۔ جاپان نے 2006 میں بھی بھارتی آم پر 20 سال سے عائد پابندی ختم کی تھی، لیکن بھارت نے معیار کی طرف توجہ دینے کے بجائے یہ سمجھا کہ جیسا بھی آم جاپانیوں کو وہ دیں گے ان کو لینا پڑے گا۔ اور اب پھر وہی ہوا۔ جاپانیوں نے نہ صرف سودا منسوخ کر دیا بلکہ بھارتی آم پر پابندی لگا دی۔ دیکھتے ہیں یہ پابندی کتنے سالوں تک رہتی ہے۔

“وی ایچ ٹی” کیا ہے؟

جاپان میں “پھل کی مکھی” نام کا کیڑا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ آم کو جہاز میں رکھنے سے پہلے بھاپ سے اتنا گرم کرو کہ اندر کے کیڑے مر جائیں۔ بھارت میں 2007 سے ایسے کارخانے چل رہے ہیں، مگر جاپان کا کہنا ہے کہ جب تک کام کا معیار بہتر نہیں ہوگا، ہم آم نہیں لیں گے۔

بھارتی بیوپاری کیا کہتے ہیں؟

اتر پردیش کے آم کے ایک بڑے تاجر اکرم بیگ کہتے ہیں: “اگر جاپان صرف اپنی مشینوں کو ہی ٹھیک مانے گا تو یہ انصاف نہیں ہے۔ یہ تو زبردستی ہے۔” بجائے اس کے کہ بھارتی مشینوں کے غیر معیاری ہونے کا اعتراف کریں، یہ بھارتی تاجروں اور بھارتی حکومت کی ضد ہے۔ بھارت ہر سال جاپان کو صرف 20 لاکھ ڈالر کے آم بیچتا تھا۔ 2025 میں صرف ڈھائی ٹن آم گیا۔ مگر بیوپاری کہتے ہیں کہ جاپان کی طرف سے “پسندیدگی” کی سند مل جائے تو باقی دنیا بھی ہمارے آم کو معیاری مان لیتی ہے۔

بھارت کی دوسری پریشانیاں

مہاراشٹرا میں موسم کی خرابی سے الفانسو آم کی فصل 90 فیصد تک تباہ ہو گئی۔ ساتھ ہی جہاز کا کرایہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس وجہ سے بھی آم باہر بھیجنا مشکل ہو گیا ہے۔

پاکستانی آم – مہنگا ہے پھر بھی دنیابھر کے پھلوں کا بادشاہ ہے
پاکستان میں ہر سال تقریباً 18 لاکھ ٹن آم کی پیداوار ہوتی ہے۔ 2025 میں حکومت کا منصوبہ تھا کہ سوا لاکھ ٹن آم برآمد کرکے 10 کروڑ ڈالر کمائے جائیں۔ پوری دنیا میں جتنا آم پیدا ہوتا ہے، اس کا 4 فیصد پاکستان میں ہوتا ہے۔ آم کی پیداوار میں پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

پاکستانی آم صرف عرب ممالک میں ہی نہیں فروخت ہوتا، دیگر ممالک میں بھی یہ پسند کیا جاتا ہے۔ البتہ آم کے سب سے زیادہ خریدار مشرق وسطیٰ کے ہیں۔ پاکستان سے عرب امارات، سعودی عرب اور قطر ہر سال بہت زیادہ آم خریدتے ہیں اور پاکستانی آم کے پرانے خریدار ہیں۔

یورپ میں برطانیہ، جرمنی، فرانس اور ہالینڈ کے لوگ پاکستانی آم کو بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا ذائقہ بہت رسیلا اور بھرپور ہے اور یہ قدرتی طور پر پکا ہوا ہوتا ہے۔ مصنوعی طریقے سے اسے نہیں پکایا جاتا۔

آم کی مانگ شمالی امریکہ میں بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں لوگ جیسے ہی پاکستانی آم چکھتے ہیں وہ اس کے دیوانے ہو جاتے ہیں۔ یہ ان ممالک کے لوگ پاکستانی آم زیادہ سے زیادہ خرید رہے ہیں۔

اس کے علاوہ 2025 میں جنوبی افریقہ، قازقستان اور ازبکستان جیسے نئے ملکوں میں بھی پاکستانی آم نے جگہ بنائی ہے اور وہاں کے لوگوں نے اسے بہت پسند کیا۔ ایشیا میں جاپان، جنوبی کوریا، چین، سنگاپور اور ملائیشیا بھی پاکستانی آم کے بڑے خریدار ہیں۔ جاپان تو خاص طور پر بہت اچھی کوالٹی کا آم لیتا ہے اور اچھی قیمت بھی دیتا ہے۔

امریکہ میں ہیوسٹن شہر پاکستانی آم کا سب سے بڑا اڈا ہے۔ کینیڈا میں ٹورنٹو، وینکوور اور کیلگری میں بھی پاکستانی آم بہت فروخت ہوتا ہے۔

امریکہ میں پاکستانی آم اتنا مہنگا کیوں ہے؟
امریکہ میں پاکستانی چونسا آم کے 6 دانوں کا ڈبہ 60 سے 100 ڈالر میں ملتا ہے۔ جبکہ میکسیکو کا آم 10 سے 15 ڈالر میں 6 سے 12 دانے مل جاتے ہیں۔ پاکستانی آم مہنگا ہونے کی 5 بڑی وجوہات ہیں:

پہلی وجہ: امریکہ کہتا ہے کہ آم کو ایک خاص شعاع سے گزارو تاکہ سارے کیڑے مر جائیں۔ اس کام کے کارخانے بہت کم ہیں اور بہت مہنگے ہیں۔

دوسری وجہ: آم ایک نازک اور حساس پھل ہے جو جلدی خراب ہو جاتا ہے، اس لیے اسے سمندری جہاز سے نہیں بھیج سکتے۔ ہوائی جہاز کا کرایہ بہت زیادہ ہے۔ 2026 میں تو کرایہ مزید بڑھ گیا، اس لیے آم کی قیمت بھی 5 سے 8 فیصد بڑھ گئی۔

تیسری وجہ: پاکستانی آم صرف مئی سے ستمبر تک میسر ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ سیزن کا پھل ہے۔ امریکی منڈی میں یہ مال کم آتا ہے اور اس کے طلبگار زیادہ ہوتے ہیں، تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔

چوتھی وجہ: پاکستانی آم دیگر ملکوں کے آموں کے مقابلے میں جسامت میں بڑا ہوتا ہے، 250 سے 300 گرام کا ایک دانہ۔ چونسا، انور رٹول اور سندھڑی کا ذائقہ اور خوشبو الگ ہی ہے۔ یہ زیادہ دن تک خراب بھی نہیں ہوتا۔

پانچویں وجہ: لوگ اسے “خاص” آم سمجھتے ہیں۔ خریدار کہتے ہیں کہ ہمیں اچھی چیز چاہیے، اس کے لیے ہم زیادہ پیسے دینے کو تیار ہیں۔

پاکستانی آم مہنگا ہونے کے باوجود بھی لوگ کیوں لیتے ہیں؟
پاکستانی آم کی پہلی خصوصیت اس کا منفرد ذائقہ ہے۔ امریکی عوام کہتے ہیں کہ پاکستانی چونسا سونے جیسا، خوشبو والا، بہت میٹھا اور ملائی جیسا نرم ہوتا ہے۔

دوسری بات: بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اور بھارتی بھی ان آموں کے بڑے خریدار ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں برصغیر کے لاکھوں باشندے رہتے ہیں۔ ان کے لیے یہ آم “وطن کی خوشبو” ہے۔

تیسری بات: یہ پاکستانی آم نے ایک قیمتی تحفے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ لوگ اسے آپس میں گفٹ کے طور پر دیتے ہیں۔

چوتھی بات: یہ ہے کہ اس کا تعلق ہماری تہذیب کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ پاکستان میں آم کو مہمان نوازی اور خوشی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ ملتان اور میرپورخاص میں تو ہر سال “آم میلہ” بھی لگتا ہے۔

امریکہ میں پاکستانی آم سستا کیسے ہو سکتا ہے؟
آم کے پاکستانی ایکسپورٹرز کے سامنے یہی سوال ہے کہ امریکہ میں پاکستانی آم کی قیمت کم کیسے کریں؟

امریکہ میں پاکستانی آم کی قیمت زیادہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے اندر لگنے والے ٹیکسز ہیں۔ کرایہ اور معیار و صفائی کے اخراجات کے علاوہ حکومت بھی آم ایکسپورٹ کرنے والے سے ٹیکس لیتی ہے۔ اگر حکومت یہ ٹیکس کم کر دے یا ختم کر دے تو 3 بڑے فائدے ہوں گے:
1. خرچہ کم ہوگا: ابھی 2026 میں ایک کلو آم کا خرچہ 66 سینٹ تک پہنچ گیا ہے۔ اگر حکومت ٹیکس واپس کر دے یا نہ لے، تو بیوپاری امریکہ میں 10 سے 15 ڈالر تک سستا بیچ سکتا ہے۔ 2. مقابلہ آسان ہوجائے گا: ابھی صرف امیر امریکی ہی پاکستانی آم خریدتے ہیں۔ اگر سستا ہو جائے تو عام امریکی بھی پاکستانی آم کا خریدار بن جائے گا۔ اور ہم بھارت، مصر اور افریقہ کے آم کا مقابلہ آسانی سے کر سکیں گے۔ 3. آم زیادہ فروخت ہوگا: جب چیز سستی ہوتی ہے تو زیادہ بکتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے بدلے میں پاکستان کو غیر ملکی زر مبادلہ بڑے پیمانے پر حاصل ہوگا۔
پاکستانی آم تاجروں کی تنظیم کے سربراہ کہتے ہیں کہ ہم امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا میں اور آم بیچنا چاہتے ہیں۔ اگر قیمت کم ہو گئی تو ہم سوا لاکھ ٹن کی جگہ 2 لاکھ ٹن آم بھیج سکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ کما سکیں۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
آم کی ایکسپورٹ پر لگنے والا سارا ٹیکس ختم کر دے۔ امریکہ اور کینیڈا کے لیے ائیر کارگو میں مدد دے، کیونکہ آدھے سے زیادہ خرچ تو یہی ہے۔ کراچی اور لاہور میں اور ایسے کارخانے لگوائے جہاں امریکی اور عالمی معیار کے مطابق آم صاف ہو سکے۔ ابھی کارخانے کم ہیں، اس لیے وہ آم کی صفائی کی زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ حکومت آم کے کولڈ اسٹوریج کا نظام بہتر بنائے۔ امریکہ نے 58 لاکھ ڈالر کی مدد سے 15 کارخانے لگوائے ہیں، مگر آم کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے اس سے زیادہ کارخانوں کی ضرورت ہے۔

اگر حکومت آم پر لگے غیر ضروری ٹیکس ہٹا دے تو امریکہ میں رہنے والے امریکیوں اور سمندر پار پاکستانیوں کو بھی سستا آم ملے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ امریکی بھی میکسیکو کا آم چھوڑ کر پاکستانی چونسا خریدنے لگیں۔ اس سے ہم 10 کروڑ ڈالر کی جگہ 20 کروڑ ڈالر مزید کما سکتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کا موازنہ
بھارت ہر سال 1 کروڑ 36 لاکھ ٹن آم اگاتا ہے اور دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان 18 لاکھ ٹن کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ امریکہ کو آم فروخت کرنے کی ابتدا بھارت نے 2007 میں کی تھی مگر اب اس کی ایکسپورٹ کم ہو رہی ہے۔ 2022-23 میں صرف 136 ٹن آم بھارت سے امریکہ ایکسپورٹ ہوئے تھے۔ پاکستان نے 2011 میں بڑے پیمانے پر آم کی ایکسپورٹ کو شروع کیا اور اب امریکہ پاکستانی آم کا بڑا خریدار بن گیا ہے۔

جاپان نے 2026 میں بھارتی آم پر پابندی لگا دی، مگر پاکستانی آم وہاں اچھی قیمت پر بک رہا ہے۔ قیمت میں بھی فرق ہے۔ امریکہ میں بھارتی آم کا ڈبہ 40 سے 80 ڈالر کا ملتا ہے اور اس میں 9 سے 12 دانے ہوتے ہیں۔ پاکستانی آم کا ڈبہ 60 سے 100 ڈالر کا ہے اور اس میں صرف 6 دانے ہوتے ہیں۔

بھارت کا بڑا مسئلہ “وی ایچ ٹی” کا جھگڑا اور خراب موسم ہے۔ پاکستان کا بڑا مسئلہ جہاز کا مہنگا کرایہ اور صفائی کے کارخانوں کی کمی ہے۔

بھارت مقدار میں آگے ہے، مگر پاکستان کوالٹی میں آگے نکل رہا ہے۔ امریکہ کی مدد سے ہمارے 26 باغوں کو عالمی سرٹیفکیٹ مل چکا ہے اور 3700 کسانوں کو نئی ٹریننگ دی گئی ہے۔ اس سے ہماری ایکسپورٹ 5 گنا بڑھ گئی ہے۔

جاپان نے بھارتی آم واپس کر کے بتا دیا کہ وہ کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ لڑائی مشینوں کی نہیں، بھروسے کی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی آم نے ثابت کر دیا کہ اگر چیز کا ذائقہ، خوشبو اور معیار اچھا ہو تو لوگ 100 ڈالر بھی خوشی سے دے دیتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ زیادہ آم اگانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اسے دنیا کا سب سے اچھا “برانڈ” بنائیں۔ **اور سب سے ضروری کام یہ ہے کہ حکومت آم پر سے سارے ٹیکس ختم کر دے**۔ اس سے آم سستا ہوگا، امریکہ میں عام آدمی بھی خرید سکے گا، اور ہم 10 کروڑ کی جگہ 20 کروڑ ڈالر کما لیں گے۔

بھارت کے لیے سبق یہ ہے کہ وہ کسی ملک کی شکایت سننے کے بجائے اس سے لڑنے بیٹھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے دنیا معیار پر تو کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ وہ پیسے دے رہے ہیں اس لیے وہ گھٹیا مال تو نہیں خریدیں گے۔ جیسا کہ بھارتی تاجر نے جاپانی اعتراض پر یہ کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مشینیں لگا دیں۔ یہ کوئی جواب نہیں تھا بلکہ اپنے غیر معیاری کام کو درست سمجھنے کی حماقت تھی۔ لہذا بھارت کو چاہیے کہ دنیا سے لڑنے کے بجائے دنیا کا معیار اپنا لے۔

کیونکہ پھلوں کی دنیا میں آخر کار، بادشاہ وہی بنتا ہے جس کا ذائقہ صرف زبان پر نہیں، دل پر نقش ہو جائے۔ اور ابھی اس دوڑ میں پاکستانی چونسا اور سندھڑی سب سے آگے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم ان کے خریداروں تک آم کی رسائی کو سستا اور آسان بنا دیں۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *