اسلام آباد( محمد فیضان) پاکستان میں تیزاب گردی کے لیے موت کی سزا تجویز کر دی گئی نئے قانون کا بل پارلیمان میں جمع کرادیا گیا تفصیلات کے مطابق پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کے تدارک کے لیے پارلیمان میں ایک نئی قانونی ترمیم پیش کی گئی ہے جس میں اس سنگین جرم کے مرتکب مجرموں کے لیے زیادہ سے زیادہ ’سزائے موت‘ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ منگل کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے یہ اہم ترمیمی بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا مجوزہ بل کے متن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تیزاب گردی انسانی وقار اور بنیادی حقوق پر ایک سنگین حملہ ہے اور خواتین سمیت معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔بل میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-B میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کا مقصد مجرموں کے لیے سزاؤں میں سزائے موت کو بھی بطور زیادہ سے زیادہ سزا شامل کرنا ہے جبکہ عمر قید، کم از کم 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی موجودہ سزائیں برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس مجوزہ بل کا بنیادی مقصد مجرموں کے لیے سزاؤں میں سزائے موت کو بھی بطور زیادہ سے زیادہ سزا شامل کرنا ہے، جبکہ عمر قید، کم از کم 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی موجودہ سزائیں برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بل کے متن میں تیزاب گردی کو انسانی وقار اور بنیادی حقوق پر سنگین حملہ اور ایک ناقابلِ معافی و سفاک جرم قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں سخت قوانین کی موجودگی کے باوجود ایسے جرائم کا تاحال جاری رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ سزائیں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔ حال ہی میں کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور قانون کو مزید سخت بنانا اب وقت کی اشد ضرورت ہے۔بل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس اہم مشاہدے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ تیزاب گردی بعض پہلوؤں سے قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے کیونکہ متاثرہ فرد پوری زندگی اس کے بھیانک اثرات، شدید ذہنی اذیت، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply