اسلام آباد( محمد فیضان /نمائندہ خصوصی)بھارت کا ایرانی بندرگاہ چابہار کواستعمال کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا ایران نے بھارتی منفاقت بے نقاب ہونے پرپاکستان سے تعاون کے لیے ہاتھ بڑھادیا اس حوالے سے ایران سے آنے والے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گوادر پورٹ اتھارٹی ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں گودارپورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے اعلیٰ افسران نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ وفد کے سربراہ چیرمین بورڈ اینڈ منیجنگ ڈائریکٹر چابہار فری زون آرگنائزیشن محمد سعید اربابی، ڈپٹی برائے اکنامک کوآرڈینیشن اینڈ ریجنل ڈیولپمنٹ، گورنر آفس سیستان و بلوچستان مجیب حسنی، ڈائریکٹر ریمدان زون، چابہار فری زون آرگنائزیشن شکری بلوچ اور دیگر نے چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ سے ان کے آفس میں ملاقات کی۔”

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے بندرگاہی تعاون، علاقائی تجارت، ٹرانس شپمنٹ، سرمایہ کاری اور دوطرفہ اقتصادی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ خطے میں تجارتی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جبکہ ایران سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ بندرگاہی تعاون سے علاقائی تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کو بین الاقوامی تجارتی مرکز بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں۔ ایرانی وفد کے سربراہ محمد سعید اربابی نے گوادر پورٹ کی ترقی اور حالیہ پیش رفت کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و بندرگاہی تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے جی پی اے کانفرنس ہال میں ایرانی وفد کو گوادر پورٹ، گوادر فری زون اور گوادر فری زون پائلٹ پراجیکٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران وفد کو گوادر پورٹ پر جاری تجارتی و ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے دوران دونوں ممالک نے گوادر میں جھینگا فارمنگ اور ایکوا کلچر منصوبوں، بلوچستان اور ایران کی کھجوروں کو مشترکہ برانڈ مکران پریمیم کے تحت عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے، اور گوادر پورٹ کے ذریعے بونڈڈ ٹرانزٹ کوریڈور کے قیام جیسے اہم اقدامات پر اتفاق کیا۔ مزید برآں، دونوں جانب سے جوائنٹ ورکنگ کمیٹی کے قیام، بندرگاہی امور، فری زون مینجمنٹ، سرمایہ کاری کے فروغ، کولڈ چین لاجسٹکس اور کسٹمز نظام میں بہتری کے لیے اسٹاف اور ٹیکنیکل ایکسچینج پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ چیرمین گوادر بندرگاہ نے بتایا کہ گوادر پورٹ خطے کے اہم تجارتی و لاجسٹک حب بن چکا ہے، جبکہ گوادر فری زون میں سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ایرانی وفد نے گوادر پورٹ اور فری زون منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ وفد کے سربراہ سعید اربابی نے چابہار فری زون اور ریمدان پائلٹ فری زون سے متعلق جی پی اے حکام کو بریفنگ دی۔
دونوں جانب سے مکران ساحلی پٹی کی مشترکہ جغرافیائی اہمیت اور خطے میں موجود اقتصادی مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے ایرانی مہمانوں کو روایتی بلوچی چادر پہنائی اور تحائف پیش کیئے، جبکہ ایرانی وفد نے بھی چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کو خصوصی تحائف پیش کیئے۔ بعد ازاں وفد کو گوادر پورٹ کے مختلف شعبوں، پورٹ سائٹ اور گوادر فری زون کا دورہ کرایا گیا، جہاں انہیں جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور دستیاب سہولیات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔
بریفننگ میں چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ، گوادر فری زون اور گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ دورے کے موقع پر گوادر پورٹ اتھارٹی اور چابہار فری زون آرگنائزیشن کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیئے گئے، جس پر چیرمین گوادر بندرگاہ نورالحق بلوچ اور چابہار فری زون کے محمد سعید اربابی نے دستخط کیئے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس پیش رفت کو خطے میں اقتصادی سرگرمیوں اور علاقائی تجارت کے نئے دور کا آغاز قرار دی

Leave a Reply