اسلام آباد( ویب ڈیسک) بنگلہ دیش نے حال ہی میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قائم سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس پیشرفت پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے تصدیق کی کہ ڈھاکا اس دفاعی معاہدے کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے ، تاہم اس حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور ابھی تک کوئی باضابطہ پالیسی فیصلہ حتمی نہیں کیا گیا۔ ہمایوں کبیر نے گزشتہ ہفتے ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے ، اس سے قبل وہ وزیرِاعظم طارق رحمان کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے اور مسلم دنیا کے مختلف ممالک بنگلہ دیش کی قیادت سے فعال رابطے میں ہیں تاکہ دفاعی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ ہم نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں اپنی دلچسپی ظاہر کردی ہے۔ بنگلہ دیش اب ایک جانی پہچانی اور اہم حیثیت رکھنے والا ملک بن چکا ہے ۔ مغربی ایشیا اور دنیا بھر میں مسلم ممالک کے شراکت دار اب بنگلہ دیش کی قیادت، بالخصوص وزیرِاعظم طارق رحمان کو مختلف معاملات میں اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔
ہمایوں کبیر نےکہا کہ اگر مغربی ایشیا میں کوئی ایسا معاہدہ موجود ہے یا اسلامی ممالک کے درمیان کوئی دفاعی معاہدہ ہوتا ہے تو اس میں شامل ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسے مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا کے مختلف شراکت دار بنگلہ دیشی قیادت کو مختلف منصوبوں میں شرکت کی ترغیب دے رہے ہیں جبکہ بنگلہ دیش بھی متعدد غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے تاہم یہ ابھی مشاورت اور غوروفکر کے مرحلے میں ہے۔

Leave a Reply